مسلمان اور گمشدہ میراث – Hassan Nisar

25

مامت صرف اس کا حق ہے جو ’’علم‘‘ رکھتا ہے۔ چار سو سال پہلے 1620میں فرانسس بیکن نے یہ کہتے ہوئے کوزے میں قلزم سمیٹ دیا کہ علم اک ایسی طاقت ہے جس کا معیار یہ نہیں کہ وہ درست ہے بلکہ صرف اتنا ہے کہ وہ ہمیں طاقت مہیا کرتا ہے یا نہیں۔ سائنس دان عموماً متفق ہیں کہ کوئی نظریہ بھی سو فیصد درست نہیں، سو سچائی علم کا درست میزان نہیں، اصل میزان اس کا استعمال ہے۔ کوئی بھی ایسا نظریہ جس سے ہمیں کچھ نیا کرنے میں مدد ملے، وہی علم ہے۔ ابھی کل کی بات ہے جب دنیا کی بیشتر حکومتیں اور بڑے کاروباری ادارے فزکس، اکنامکس، حیاتیات وغیرہ کی تحقیق میں سرمایہ کاری کرنے میں کچھ خاص دلچسپی نہ لیتے تھے لیکن آج ؟؟؟ ہم جیسے ملکوں کے وہم و گمان سے باہر ہے کہ زندہ قومیں ریسرچ پر کتنی خطیر رقمیں خرچ کر چکی ہیں اور کر رہی ہیں۔ لیکن یہاں دال، روٹی، سبزی ہی نہیں سنبھالی جارہی۔ زندہ قومیں ہفتوں میں صدیوں کا سفر طے کر رہی ہیں۔ دنیا میں موجود اربوں انسان نما میں سے کتنے ہیں جو کوانٹم میکانکس، خلیوں کی حیاتیات یا کلیاتی معاشیات کی الف، ب سے بھی واقف ہیں۔

المیہ صرف افلاس کا نہیں عالم اسلام میں جن کے پاس ڈالروں، درہموں کے انبار لگے ہیں، انہوں نے بھی کون سی توپ چلا لی ہے۔ کیا کسی ریاست کو صرف سیاحوں کے لئے پرکشش بنانا، برج اور ٹاورز تعمیر کرنا ہی کافی ہوتا ہے کیونکہ یہ سب کچھ تو ’’ہائوس آف کارڈز‘‘ سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ عالم اسلام کا وہ حصہ جو دولت سے پھٹا جا رہا ہے، اس نے آج تک کتنے عالی دماغ پیدا کئے؟ اور یجنل عظیم سائنس دان پیدا کرنا تو دور کی بات ہے یہ تو مدتوں سے کوئی بڑا شاعر، ادیب،مصور، موسیقار تک نہ پیش کرسکے۔ ’’طاقت‘‘ اور ’’ترقی‘‘ جگمگاہٹ، چکا چوند، لش پش اور فقط لگژیوریس انفراسٹرکچر کا نام نہیں کہ دراصل یہ سب بھی مانگے تانگے اور بھیک کا ہی کمال ہے۔ پاکستان قرضے در قرضے در قرضے لیتا ہے تو جو مالا مال ہیں اور جن کے پاس درہم و دینار اور ریال ہیں وہ بھی کھربوں ڈالر ہاتھ سے دے کر بھی غیروں کی مہارتوں اور سپیشلائزیشنز سے ہی مستفید ہو رہے ہیں کیونکہ اپنے پلے سوائے پیسے کے اور کچھ بھی نہیں اور یہ ’’قرض‘‘ کی بھیانک ترین قسم ہے جو بنجر دماغوں کو سمجھ نہیں آرہی۔

گزشتہ چند عشروں میں ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کیا سے کیا ہوگئی تو سوچنے والے اس تصور سے ہی کانپ اٹھتے ہیں کہ آئندہ سو دو سو سال بعد ہم کہاں اور وہ کہاں ہوں گے؟

یہ فوجی، صنعتی، سائنسی گٹھ جوڑ کا زمانہ ہے۔ ہم آج بھی شجاعت کے قصوں پر بھدکتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ آج کے طارق بن زیاد، صلاح الدین ایوبی، نور الدین زنگی، ٹیپو سلطان، امیر تیمور لیبارٹریوں میں ہوتے ہیں۔ بہادریوں اور جنگ کے میدانوں کی DEFINITIONSیکسر تبدیل ہو چکی ہیں۔ آج کا مرد میدان ویل چیئر پر براجمان معذور سٹیفن ہاکنگ ہے۔ مستقبل کے شہر سمندروں اور خلائوں میں ہوں گے جہاں ہرکولیسوں، سیمسنوں، ٹارزنوں، رستموں کا کوئی کام نہیں۔ کروڑوں رستم و سہراب زرہ بکتریں اور خودّ زیب تن کرکے تلواریں، نیزے، کلہاڑے اور گرز لہراتے ہوئے میدان میں نکل بھی آئیں تو کیا؟کوئی کمزور اور بزدل سا لونڈا وائس کمانڈ سے کوئی ’’شے‘‘ اوپر سے گرائے گا تو سب شمشیر و سناں دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔ سولر انرجی تو چھوڑو، پرائے پتر تو زلزلوں، سیلابوں اور سونامیوں سے انرجی نچوڑنے کے درپے ہیں لیکن یہاں علاّمے ہی جینے نہیں دیتے۔ جنگ اور امن سے لے کر اخلاقیات و اقتصادیات تک ہر شے مکمل طور پر تبدیل ہو چکی ہے مثلاً آج اگر میں یہ کہوں کہ اس تقریباً ’’پرامن‘‘ دنیا میں تیسری جنگ عظیم جاری ہے یعنی امن … جنگ سے ہزار گنا زیادہ تباہ کن ہے تو آپ ہنسیں گے تو میں بھی آپ کی اس ہنسی میں شامل ہو جائوں گا کیونکہ ہنسنا آپ کا ’’جمہوری حق‘‘ ہے۔

کبھی تنہائی میں بیٹھ کر صرف اس بات پر غور کریں کہ دوسری جنگ عظیم میں مین ہٹن پراجیکٹ کی کامیابی یعنی ایٹم بم بنانے سے پہلے یہی کام جرمنی میں پہلے ہوگیا ہوتا تو آج امریکہ کہاں ہوتا اور دنیا کا چہرہ کیسا ہوتا؟

یہاں یہ بھی یاد دلاتا چلوں کہ جب اگست 1945میں جرمنی پہلے ہی ہتھیار ڈال چکا تھا، جنگجو ترین جاپانی ہر قیمت پر جنگ جاری رکھنا چاہتے تھے، جاپانیوں نے اپنے جزیروں پر حملہ آور امریکیوں کو دھمکی دی تھی کہ وہ موت تک لڑیں گے اور وہ اس کے لئے حلف بھی اٹھا چکے تھے۔ جاپانی سمورائے اور شوگنز کی اولادیں ہیں، درشنی پہلوان نہیں۔ تب خوفزدہ امریکی جرنیلوں نے امریکی صدر کو خبردار کیا کہ جاپان پر حملہ کی صورت میں دس لاکھ امریکی فوجی مارے جائیں گے کیونکہ امریکن جانتے تھے کہ جاپانیوں کی دھمکی کھوکھلی ہرگز نہیں۔ تب صدر نے دو ایٹم بموں کے استعمال کی اجازت دی اور ناقابل شکست اور دلیر ترین جاپانیوں کو شکست ماننی پڑی کیونکہ انسان ’’علم‘‘ سے نہیں لڑ سکتا اور آج کا علم سائنس اور ٹیکنالوجی کے علاوہ کچھ بھی نہیں جو ہماری کھوئی میراث ہے جس کی گمشدگی کی ہم FIR درج کرانے کے لئے بھی تیار نہیں تو کم از کم منطقی انجام کی تیاری ہی کرلو۔