مسئلہ فلسطین کا حل، میری نظر میں! – Dr Ramesh Kumar

22

مشرق وسطیٰ میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین کشیدگی کے بعد آخرکار سیزفائر ہوگیا ہے،تاہم غزہ میں حالیہ تصادم متعدد معصوم جانوں کے ضیاع کا باعث بنا ہے جن میں بڑی تعداد معصوم بچوں کی ہے ،آج عالمی سطح پر جنگ بندی کا خیرمقدم کیا جارہا ہے لیکن اموات کی ذمہ داری کوئی قبول کرنے کو تیار نہیں، کوئی یہ بتانے کو آمادہ نہیں کہ بے گناہ انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارکرسوائے خدا کی ناراضگی کے اور کیا حاصل کیا گیا؟ فلسطینی علاقے میں جان و مال کے نقصان کا مداوا کیونکر ہوسکے گا؟میری نظر میں جنگ بندی ایک جزوقتی حل ہے، سرزمین فلسطین پر جنگ کا شعلہ کسی بھی وقت ایک مرتبہ پھر بھڑک سکتا ہے اور میں یہ اندیشہ اپنے گزشتہ کالم میں ظاہر کرچکا ہوں کہ اسرائیل فلسطین تنازع تیسری عالمی جنگ کے آغاز کا پیش خیمہ بن سکتا ہے،بطورپاکستانی ہمارے دل ہمیشہ مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں، آزادی سے قبل لاہور میں 23مارچ 1940 کے تاریخی جلسے میں قرارداد پاکستان کے ساتھ فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کی قرارداد بھی منظور کی گئی اور آزادی کے بعد بھی پاکستان کی ہر حکومت نے فلسطینیوں کی ہر طرح سے حمایت کی، جبکہ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر گزشتہ صدی سے موجود یہ مسئلہ تاحال حل طلب ہے۔ قدیمی شہر یروشلم کوعمومی طور پر د نیا کے تین بڑے مذاہب (اسلام، یہودیت اور کرسچیئنٹی)میں مقدس مانا جاتا ہے، یروشلم میں برصغیر کے عظیم صوفی شاعر بابافرید الدین گنج شکرسے منسوب ایک سرائے بھی موجود ہے جہاں لگ بھگ آٹھ سو سال قبل بابا فرید نے حج کے سفر کے دوران قیام کیا تھا، بابا فرید کی شاعری ہماری مذہبی کتاب گورو گرنتھ صاحب کا حصہ ہے ، یہی وجہ ہے کہ یروشلم بابا فرید کی نسبت سے سِکھ اور سندھ کے نانک پنتھی ہندو کمیونٹی کیلئے بھی قابلِ احترام ہے۔ انسانی تاریخ میں سب سے زیادہ تباہی یروشلم کے مقدس شہرنے دیکھی ہیں، زمانہ قدیم میں یروشلم پر یہودیوں کے پیغمبروں کی حکومت رہی ہے، رومن سلطنت سمیت مختلف علاقائی طاقتیں بھی یہاں قابض رہیں، اس علاقے کا کنٹرول مختلف مسلمان بادشاہتوں کے پاس رہا لیکن کوئی بھی طاقت اپنا قبضہ برقرار نہیں رکھ سکی،آج اسرائیل کو بھی شدید مخالفت کا سامنا ہے۔ جدید تاریخ میں فلسطین کے خطے کو سو سال پہلے جنگ عظیم اول میں ترکوں کی شکست کے بعد برطانوی سامراج نے اپنے کنٹرول میں لے لیا اور بالفور اعلامیہ کے تحت ہزاروں سال سے دربدر یہودیوں سے سرزمین فلسطین پر قومی وطن قائم کرنے کا وعدہ کرلیا،تاہم بالفور اعلامیہ میں یہودیوں کو یہاں بسنے والے غیر یہودی مقامی باشندوں کے حقوق کا خیال رکھنے پر بھی زور دیاگیاتھا۔ جنگ عظیم دوئم کے بعد نوزائیدہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے نومبر 1947ء میں اپنی قرار داد نمبر181(ii)میں سرزمین فلسطین کو دو آزاد ممالک (اسرائیل اور فلسطین)میں تقسیم کرنے کا منصوبہ پیش کرتے ہوئے یروشلم کو عالمی شہر کی خصوصی حیثیت دے دی، قرارداد کے مطابق فلسطین سے برطانوی فوج کے انخلا کے بعد اقوام متحدہ کا یہ منصوبہ نافذ العمل ہوناتھا جس کے تحت یکم اکتوبر 1948 سے قبل فلسطینی عربوں کا اپناآزادملک فلسطین اور یہودیوں کی قومی ریاست اسرائیل ازخود معرض وجود میں آجائیں گی،تاہم ہمسایہ عرب ممالک نے برطانوی فوج کی واپسی کے بعد اقوام متحدہ کا یہ منصوبہ مسترد کرتے ہوئے اسرائیل پردھاوا بول دیا،یہ عرب ممالک زیادہ تر سویت یونین کے زیراثر سوشلسٹ کیمپ کا حصہ تھے جنہیں سویت یونین نے روسی اسلحے کی بڑی منڈی بنالیا، دوسری طرف اسرائیل کو مغربی قوتوں نے اسلحے کی فراہمی شروع کردی، وسیع پیمانے پر خون ریزی کے بعد اقوام متحدہ کے تحت فلسطینی آزاد ریاست کا قیام التوا میں پڑ گیا بلکہ مجوذہ فلسطینی ریاست کے علاقوں مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم کا کنٹرول اردن جبکہ غزہ کی پٹی کا کنٹرول مصر نے سنبھال لیا،بعد ازاں1967اور دیگر جنگوں کے بعد اسرائیل مکمل طور پر یروشلم ، مغربی کنارے، غزہ کی پٹی، صحرائے سینا اور گولان کی پہاڑیوں سمیت دیگر علاقوں پر بھی قابض ہوگیا۔ موجودہ صورتحال کے تناظر میں فلسطین مسئلے کی بڑی ذمہ داری برطانیہ پر عائد ہوتی ہے جس نے اعلان بالفور کے تحت یہودیوں سے قومی وطن کے قیام کا وعدہ تو کرلیا لیکن فوجی انخلاء سے قبل غیریہودی باشندوں کے حقوق کا تحفظ یقینی نہیں بنایا، اسی طرح ہمسایہ عرب ممالک کا جذباتی رویہ اور فلسطینی قیادت کے اندرونی اختلافات فلسطین کازکیلئے نقصان دہ ثابت ہوئے جس کی بنا پر اسرائیل کو مظلوم کارڈ کھیلنے کا موقع مل گیا،سپرپاور امریکہ کو بھی اسرائیل کی حمایت میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کو ویٹو کرنے کی وجہ سے ہدف تنقید بنایا جاتا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ فلسطین کی مقدس سرزمین میں خون ریزی کی مستقل روک تھام کیلئے دنیا کے ہر مذہب سے تعلق رکھنے والوں کو آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرناچاہئے،میری نظر میں یروشلم کا تقدس برقرار رکھنے کیلئے اسے ویٹی کن سٹی کی طرز پر عالمی مذہبی سیاحتی مرکز کا درجہ دیا جائے جس کا کنٹرول مشترکہ طور پر تمام مذاہب کے نمائندوں کے پاس ہو۔آج بھی فلسطین تنازع کی کنجی اقوام متحدہ کے پاس ہے جو اپنی منظور کردہ قراردادوں کا عملی نفاذ کرانے کیلئے دوریاستی حل کے تحت آزاد فلسطین قائم کرے ،یروشلم کو عملی طور پرعالمی شہربنایا جائے اوردونوں خودمختار ریاستوں کو ایک دوسرے کی عالمی تسلیم شدہ سرحدوں کا احترام کرنے کا پابندکیا جائے ۔آج دنیا کے ہر امن پسند انسان کا فریضہ ہے کہ وہ مظلوم فلسطینیوں کا ساتھ دے،طاقت کے نشے میں چُور اسرائیل کو باور کرایا جائے کہ وہ بالفور اعلامیہ کے تحت غیریہودی مقامی آبادی کے حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے 1967 کی سرحدوں پر واپس چلا جائے ۔خود اسرائیلی شہریوں کو سمجھنا چاہئے کہ حالیہ غزہ تصادم نے اخلاقی سطح پر ان عالمی حلقوں کو کمزور کیا ہے جو اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات میں نارملائزیشن کے خواہاں ہیں۔