مخاصمت یا مفاہمت؟- Hassan Nisar

19

24مئی بروز بدھ ’’جیو‘‘ کے پروگرام ’’رپورٹ کارڈ‘‘ میں میزبان علینہ شیخ نے پہلا سوال ہی شہباز شریف کے حوالہ سے پوچھا۔ علینہ کا سوال عموماً کسی شارٹ سٹوری کے سائز کا ہوتا ہے جس کا خلاصہ یہ تھا کہ کیا شہباز شریف کے عشائیہ میں پیپلز پارٹی کے وفد کی شرکت سے ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں دوریاں ختم ہوں گی؟بے ساختہ میرے منہ سے نکلا کہ ’’زندگی میں PEAKSاینڈ VALLEYSتو ہر رشتہ میں ساتھ ساتھ چلتی ہیں جبکہ یہ تو ہیں ہی سیاستدان۔ معاملات اگر شہباز جیسے میچور اور متوازن بندے کے ہاتھ میں ہوں گے تو بہتر نتائج کی توقع کی جا سکتی ہے جبکہ ’’جھانسی کی رانی‘‘ والی کہانی نہیں چلے گی۔ شہباز شریف کی مفاہمت پالیسی کسی فرد واحد کی نہیں، وقت اور ملک کی اہم ضرورت ہے۔ شہباز نے اس سوچ اور رویہ سے آج تک اپنی ذات کیلئے کبھی کچھ نہیں چاہا۔‘‘قارئین! اس بے ساختہ جواب کے بعد میں دیر تک اس صورتحال کے بارے میں سوچتا رہاکہ ایک طرف شہباز نے کبھی اپنے بڑے بھائی کو لیٹ ڈائون نہیں کیا تو دوسری طرف ’’مخاصمت‘‘ سے اتفاق نہیں کیا بلکہ ہمیشہ مفاہمت کی بات پر ڈٹا رہا کیونکہ احترام اور اختلاف دو بالکل علیحدہ باتیں ہیں۔ بھائی کو لیٹ ڈائون نہ کرنا اور بات جبکہ مفاہمت کا راستہ اپنانا ملکی مفاد کے لئے اہم ترین ہے۔ بڑے بھائی سے کبھی بے وفائی نہ کرنا اور دوسری طرف ملک و قوم سے غیرمشروط وفاداری اک ایسا خوب صورت ’’کومبی نیشن‘‘ ہے جس سے کوئی اتفاق کرے نہ کرے، اس کی داد نہ دینا کم عقلی ہی نہیں کم ظرفی بھی ہو گی۔ میں نے پروگرام میں یہ بھی عرض کیا کہ سیاستدان لکڑ پتھر کی طرح بی ہیو نہیں کرتا بلکہ اس کا رویہ پانی جیسا ہونا چاہئے جسے ہر طرف سے روک لیا جائے تو وہ دھیرے دھیرے رِسنا شروع کر دیتا ہے۔ میں اپنی ہی بات پر جتنا غور کرتا گیا، اس کی مزید پرتیں اور تہیں کھلتی گئیں۔ اگر شہباز کا رویہ بھی بھائی اور بھتیجی جیسا ہی ہوتا تو آج صورتحال کیسی ہوتی؟ اور اس سے بھی کہیں بڑھ کر اہم بات یہ ہے کہ کیا آج کا پاکستان یہ سب کچھ افورڈ کر سکتا ہے؟ یہ افقی اور عمودی طور پر تقسیم در تقسیم کا شکار وہ بدنصیب معاشرہ ہے جو شاید ہی کسی بات پر متفق ہو تو ایسے حالات میں مفاہمت کی بجائے مخاصمت، اتفاق کی جگہ انتشار کس کو سوٹ کرتا ہے؟ اور مخاصمت بھی کس کے ساتھ؟ اک ایسے ادارے بارے جو ملکی سلامتی کی اکلوتی ضمانت ہے۔آج کی اہم ترین قومی ملکی ضرورتوں میں سرفہرست اتحاد ہے۔ہاتھوں میں ہاتھ پکڑے ہوئے یوں کھڑے تھے لوگدریا کو بھی گزرنے کا رستہ نہیں ملاسیاسی اختلاف کو ’’قبائلی دشمنی‘‘ جیسا رنگ دینا خودکشی سے کم نہیں ہو گا۔ بہت سے اختلافات کے باوجود چند باتوں پر یکجہتی آکسیجن جتنی ہی ضروری ہے جیسے فلسطین ایشو پر دیکھنے میں آئی۔NROنہ دینا سر آنکھوں پراحتساب میرا دیرینہ خواب ہے جس کے لئے 28سال پرانے کالموں کے انبار پیش کئے جا سکتے ہیں کیونکہ وہ ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ فاروق لغاری مرحوم کی صدارت کے دوران یہ گیت خاکسار نے لکھا، سلمان نے گایا جو بطور صدر لغاری صاحب مرحوم نے بین کرایا۔ ’’انتخاب نہیں احتساب ورنہ خونی انقلاب‘‘کیسز کورٹس کی کورٹ میں ہیں، انتظار کرو اور تب تک کسی بھی قسم کے ذاتی تعصبات، جذبات اور خیالات سے بچو۔ خدا جانے کس نے کہا تھا”UNITED WE STAND; DIVIDED WE FALL”موجودہ حالات میں جہاں شاید ہی کوئی شے اپنے اصل مقام اور ٹھکانے پر موجود ہو، احتیاط انتہائی ضروری ہے اور اعتدال اس سے بھی کہیں زیادہ اہم کہ ’’انتہا پسندی‘‘ تو نارمل حالات میں بھی زندگی عذاب کر دیتی ہے جبکہ ہمیں تو انتہائی ابنارمل قسم کی سنگین صورت حال کا سامنا ہے۔ ایسے میں شہباز شریف کی مفاہمت پالیسی کسی نعمت سے کم نہیں کیونکہ جمہوریت (اگر ہے) تو یہ مخاصمت نہیں مفاہمت کا دوسرا نام ہے۔۔۔ بنیادی اصولوں پر سمجھوتہ کئے بغیر اک ایسی مفاہمت جو انتہا پسندانہ رویوں سے کوسوں دور ہوتی ہے لیکن اس کے لئے وژن (VISION) کی ضرورت ہے اور وژن کیا ہے”VISION IS THE ART OF SEEING THINGS INVISIBLE.”اور اس سے بھی کہیں بڑھ کر”EYES THAT LOOK ARE VERY COMMON.EYES THAT SEE ARE RARE.”