ماضی اور مستقبل کی جھلکیاں- Hassan Nisar

20

مجھ جیسے عام، گنہگار اور ’’سیکولر‘‘سے آدمی کے دل دماغ کیا روح کے بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں جب میں اپنے اسلاف کی تاریخ دیکھتا اور پھر اس کا موازنہ اپنے ’’آج‘‘ سے کرتا ہوں۔ عالم اسلام میں کوئی ایک ملک تو ہو جو بغیر کسی ’’ڈکٹیشن‘‘ کے پورے قد سے اپنے قدموں پہ کھڑا ہو، لیکن یہاں تو عالم اسلام کی اکلوتی ایٹمی طاقت بھی ’’آئی ایم ایف‘‘ جیسے اک معمولی استعماری پرزہ کی انگلیوں پر محورقص اس کی جنبش ابرو کی طرف تکتی رہتی ہے۔

’’پدرم سلطان بود‘‘ کی بدبودار دلدل سے نکل کر ایمانداری، دیانتداری سے سوچنا ہوگا کہ ہمارے اشراف اور اجلاف کا اجتماعی کردار کیا ہے؟ کلمہ طیبہ پڑھ کر تو کوئی غدار بھی اسلامی صفوں میں داخل ہو سکتا ہے۔ کیا میر جعفر و میر صادق مسلمان نہیں تھے؟

ہم ہر وقت حکومتوں، حکمرانوں کو کوستے رہتے ہیں لیکن ہم میں سے کتنے فیصد لوگ یہ سوچتے ہیں کہ ان ’’درندوں‘‘ کی آمد کے رستے کون ہموار کرتا ہے؟ اس ملک کی موجودہ حالت ہم سب کے لئے ایک ’’اجتماعی سزا‘‘ سے کم نہیں۔ میرا بھٹوز اور شریفوں سے کوئی عناد نہیں لیکن یہ سب کچھ قیمت ہے اس شخصیت پرستی کی جو بت پرستی سے بھی بدتر ہے۔

’’جب تک سورج چاند رہے گا بھٹو تیرا نام رہے گا‘‘

’’میاں دے نعرے وجن گے‘‘

ﷲ، آقاؐ اور اپنی اولاد کی قسم اٹھائو اور بتائو کہ کیا کسی کمزور سے کمزور مسلمان کو بھی یہ بیہودہ ،فضول، لغو نعرے زیب دیتے ہیں‘‘۔ ’’جب تک سورج چاند رہے گا، آقاؐ تیرا نام رہے گا‘‘ اور ’’ﷲ دے نعرے وجن گے‘‘۔ دوستو! ﷲ اور آقاؐ کے نعروں کا مطلب ہی کچھ اور ہے۔ بات اللہ ، آقاؐ کے پسندیدہ نظام کے قیام کی ہے ورنہ ساری سروس اور لپ سروس بیکار بلکہ منافقت کے سوا کچھ بھی نہیں اور وہ نظام ہے اقتصادی عدل سے لے کر عدالتی عدل تک پر مشتمل مکمل طور پر منصفانہ، متوازن معاشرہ۔

ابھی دو تین روز قبل میں نے اپنے اخباروں میں بنگلہ دیش کی کچھ تصویریں دیکھیں جو آپ کی نظروں سے بھی گزری ہوں گی۔ ان تصویروں میں ایک مسجد کے اندر بنگلہ دیشی مسلمان لاٹھیوں کے ساتھ آپس میں برسرپیکار ہیں، تو میں اب تک سوچ رہا ہوں کہ یہ کیا تھا؟ صدیوں سے مار دھاڑ کی سی کیفیت ہے حالانکہ ابھی کل کی بات ہے جب جنگوں کے باوجود بغداد کے علاوہ کئی ثقافتی مراکز عروج پر تھے۔ فاطمیوں کے زیر اثر قاہرہ علوم و فنون کا گہوارہ بن چکا تھا۔ ثمر قند میں نشاۃ ثانیہ کا سماں تھا۔ قرطبہ بھی ثقافتی، علمی رنگارنگی سے چمک رہا تھا۔ بو علی سینا جسے مغرب میں ایوی سینا کے نام سے جانا جاتا ہے، الفارابی، ابن حزم جیسے عالی دماغ موجود تھے جن کے عقلیت پسند افکار نے میمونائیڈز، تھامس ایکونیاس اور البرٹ دی گریٹ جیسے یہودی اور عیسائی فلسفیوں اور مفکرین کو متاثر کیا۔ 19ویں صدی میں ماہر لسانیات ارنسٹ رنیان نے ابن رشد کو آزاد روح اور اندھے عقیدوں کے خلاف عقلیت پسندی کی اولین آواز قرار دیتے ہوئے خراج تحسین پیش کیا۔ یہاں یہ یاد دلانا ضروری ہوگا کہ ابن رشد راسخ العقیدہ مسلمان اور شرعی قوانین کے جج یعنی قاضی بھی تھے۔

پھر صلیبی جنگوں سے لے کر منگولوں اور پھر امیر تیمور تک جس نے ثمرقند کو دنیا کا پرشکوہ ترین شہر بنا دیا۔ اس کی بظاہر سفاکانہ سوچ کا محور و مرکز یہ تھا کہ …. مثالی نظم و ضبط قائم کیا جائے اور بدعنوانوں کو عبرت کی مثالوں میں تبدیل کردیا جائے۔ پھر عثمانیوں کا عروج جنہیں انگورا میں تیمور کے ہاتھوں پہلا جھٹکا لگا لیکن وہ جلد ہی سنبھل گئے اور پھر 1453 میں سلطان محمد فاتح قسطنطنیہ کو استنبول میں تبدیل کرتا ہے لیکن یہ سب روایتی زرعی معاشرے تھے جو آج کی طرح اپنے اندر کسی قسم کی قابل ذکر معاشی، تعلیمی، معاشرتی، مذہبی، روحانی، سیاسی اور دانش ورانہ تبدیلی لانے کے نہ اہل تھے نہ اس کے لئےتیار تھے۔

ادھر یورپ تقریباً 3سو سال ٹامک ٹوئیاں مارنے کے بعد بالکل مختلف معاشی بنیادوں پر استوار ہو رہا تھا۔ صرف اضافی زرعی پیداوار پر انحصار کرنے کی بجائے یورپ کی بنیاد ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری ہو چکی تھی جس نے مغرب کو اپنے وسائل میں لامحدود اضافہ کے قابل بنا دیا۔ سولہویں صدی تک یورپ سائنسی انقلاب برپا کر چکا تھا جس نے انہیں دنیا پر ایسی گرفت عطا کردی جو پہلے کبھی کسی کو نصیب نہیں ہوئی تھی۔ صنعت و حرفت، زراعت، طب، جہاز رانی، اسلحہ سازی میں نت نئی دریافتیں ہو رہی تھیں جو مزید ایجادات اور دریافتوںکو جنم دینے کا سبب بن رہی تھیں اور معاشرہ زیادہ سے زیادہ ’’سائنسی‘‘ ہوتا چلا جا رہا تھا جس کا نتیجہ 19ویں صدی کے عظیم صنعتی انقلاب کی صورت میں سامنے آیا۔ مغربی معاشرہ بار بار ماضی میں جھانکنے، ماضی سے مدد مانگنے کی بجائے مستقبل میں جھانکنے اور مستقبل کو موم کی ناک بنانے کے فیصلہ کن مرحلہ میں داخل ہو چکا تھا۔

معاشرہ میں جدیدیت کا مطلب فکری اور سماجی تبدیلی ہوتا ہے۔ ہر نئی ایجاد نئے رویّے اور ضروریات بھی ایجاد کرتی ہے۔ مذہبی احتلافات، خرافات، فروعات اور روحانی آدرشوں کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے سے روکنا لازمی ہو جاتا ہے اور اس ناقابل تردید حقیقت کو تسلیم کرلیا جاتا ہے کہ اگر انسانی معاشرہ اپنے تمام اداروں کو عقلی اور سائنسی اصولوں کے مطابق منظم کرلے تو وہ ناقابل تسخیر ہو جاتا ہے لیکن ہمیں تو اپنے وہ منحوس کرنٹ افیئرز ہی سنبھلنے نہیں دے رہے جن میں کوئی کرنٹ ہی نہیں۔

ہمارے مسائل میں بلاول، مریم، مولانا، مہنگائی، قابل کابینہ کی تلاش، قرضوں کی قسطوں کی ادائیگی، پوسٹنگز، ٹرانسفرز، کمیشن، کک بیک، مفرور نیلسن منڈیلے، تحریکیں، لانگ مارچ، گالم گلوچ، بے مغز ٹاک شوز اور بڑھکیں۔

ﷲ نہ کرے ہمارے کرنٹ افیئرز ہی ہمارے فیوچر افیئرز بھی ثابت ہوں۔