قیمتی جانوں کا ضیاع اور محکمانہ بے حسی

11

سوموار کا دن ہے علی الصبح کچھ مسافر ملت ایکسپریس میں کراچی سے سرگودھا کی جانب اور کچھ مسافر سرسید ایکسپریس میں راولپنڈی سے کراچی کا رخت سفر باندھتے ہیں کوئی اپنے پیاروں کے پاس جانے کا ارادہ رکھتا ہے تو کوئی اپنے پیاروں کیلئے روزگار کی تلاش میں پیاروں سے جدا ہوتے ہوے سفر پر روانہ ہوتا ہے
کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ چند گھنٹوں بعد ہمارے ساتھ کیا ہونے والا ہے کیا ہم بخیر وعافیت اپنی منزل و مقصود تک پہنچ سکیں گے یا نہیں
کوئی اپنے خاندان کے ساتھ کوئی اپنے دوستوں کے ساتھ محو سفر ہے کہ اچانک ان پر گھوٹکی کے مقام پر قیامت صغرٰی برپا ہوجاتی ہے
وہ ایسے کہ ملت ایکسپریس اپنی پٹڑی سے اتر جاتی ہے تو سرسید ایکسپریس اس میں آٹکراتی ہے کچھ ہی لمحوں میں خوش گپیوں میں مصروف بیچارے مسافر موت کو گلے لگاتے اور ساتھیوں کو موت کے گلے لگتے بے بسی کی حالت میں دیکھ رہے ہوتے ہیں ،
پچھلے چند سالوں میں ریلوے ٹرینوں میں حادثات کی وجہ کیا ہے؟
پے در پے اتنی جانوں کے ضائع ہونے کے اسباب کیا ہیں ؟
کیا ہم انسان بے حس ہو چکے ہیں ؟
کیا انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں رہی؟؟

اسکی اصل وجہ ہے ریلوے محکمے میں اوپر سے لیکر نیچے تک پھیلی کرپشن ،سستی، کاہلی، اپنے کام سے لاغرضی اور سب سے بڑھ کر بے حسی
ان تمام ذمہ داران کے سامنے انسانی جان کی کوئی قیمت ہی نہیں ہے
یہ اس کرب کو محسوس ہی نہیں کرتے جو اس وقت ان قیمتی جانوں کے لواحقین پر بیت رہا ہے
یہ تو اپنا پیٹ بھرنے میں لگے ہوے کوئی مرتا ہے تو مرجائے انہیں اس سے کیا؟؟
بتایا جا رہا ہے کہ محکمے کو دو تین دن پہلے ہی اسی مقام (جہاں پر حادثہ ہوا ہے) کے بارے میں آگاہ کردیا گیا تھا کہ لائن کی سپورٹس ٹوٹ چکی ہیں ،لیکن محکمے کے ذمہ داران نے اس طرف بالکل بھی توجہ نہیں دی جسکا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے

میرا خیال ہے یہ ذمہ داران اس وقت تک ٹس سے مس نہیں ہوں گے جب تک کسی ایک کو نشان عبرت نا بنایا جائے یہاں کا معمول ہے ہر دفعہ ایسے واقعے کے بعد کمیشن بنانے کا اعلان کردیا جاتا ہے اور پھر عوام کے بھولنے کا انتظار کیا جاتا ہے اور معاملے پر مٹی ڈال دی جاتی ہے

میں یہاں پر حکومت وقت سے گزارش کروں گا کہ خدارا اس ڈرامے بازی سے باہر نکل آئیں اور ان ذمہ داران کو نشان عبرت بنا دیں
آپ کے پندرہ پندرہ لاکھ کسی کے گھر میں اسکا باپ بیٹا بھائی ماں بہن واپس نہیں لاسکتے ، ہر سانحہ کے بعد مرنے والوں میں پیسے بانٹنے کا اعلان کرنے کی بجائے ان کے مرنے سے پہلے ان پٹڑیوں کی مرمت پر وہی پیسہ لگائیں تاکہ کسی کا بھائی بیٹا باپ ماں بہن جان سے نا جائے ،خدارا کچھ کریں اور کچھ نہیں تو انسان ہونے کا ثبوت دیں

میں یہاں پر ریلوے ذمہ داران سے بھی التماس کروں گا کہ یہ کرپشن کا پیسہ سب کچھ نہیں ہے کل کو مرنا ہے اپنی عیاشیاں ختم کریں اپنے اندر کی سستی کاہلی ختم کریں اور اپنے اندر بے حسی کو ختم کریں انسانیت کو جگائیں اور ان مرنے والوں کے لواحقین کا تصور کریں کہ ان پر کیا بیتتا ہے،خدارا عقل کے ناخن لیں

میں دکھ کی اس گھڑی میں مرنے والوں کے لواحقین کے ساتھ اظہار تعزیت کرتا ہوں
اور اللہ سے دعا گو ہوں کہ وہ مرنے والوں کو غریق رحمت کرے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے

آمین ثم آمین

کالم نگار: انجینئر حبیب الرحمٰن حاصلہ