قومی سلامتی کی نئی جہتیں By Dr Hassan Askari

38

پاکستان کی قومی سلامتی 1947 سے ہی پالیسی سازوں کیلئے بڑی تشویش کا باعث رہی ہے۔ یہ معاملہ پالیسی سازی کے دوسرے معاملات پر غالب رہا ہے۔ پاکستان نے قومی سلامتی کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے مختلف اوقات میں مختلف حکمت عملیاں اپنائیں۔ 1950 کی دہائی کے وسط میں پاکستان نے اپنی نیشنل سکیورٹی کو مستحکم کرنے کیلئے امریکہ کے زیر اہتمام اتحادی نظام میں شمولیت اختیار کی تھی۔ 1960 کی دہائی کے اواخر اور 1970 کی دہائی کے اوائل میں پاکستان نے غیروابستہ پالیسی اختیار کرلی۔ 1980 کی دہائی میں پاکستان ایک بار پھر امریکی دھڑے میں شامل‘ اور سوویت یونین کو افغانستان سے نکالنے کی امریکی کوششوں میں شریک ہوگیا۔ اکتوبر 1990 میں امریکہ نے پاکستان پر سفارتی پابندیوں کا اطلاق کردیا اور افغانستان جہاد کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کیلئے اسے تنہا چھوڑدیا۔ ستمبر 2001 میں امریکہ نے ایک بار پھر پاکستان کو گلے لگا لیا، اور پاکستان نے امریکہ کی نگرانی میں دہشتگردی کے خلاف عالمی جنگ میں شمولیت اختیار کرلی۔ صورتحال یہ ہے کہ پاک امریکہ تعلقات میں گرمجوشی پھر ماند پڑ چکی ہے‘ دوطرفہ تعلقات کا دائرہ سکڑ چکا ہے؛ تاہم دونوں مشترکہ ڈومینز میں کارآمد تعلق برقرار رکھنا چاہتے ہیںاور اپنے انفرادی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کیلئے دوسرے آپشنز کی بھی تلاش میں ہیں۔
2021 میں قومی سلامتی کے حوالے سے دباؤ ختم نہیں ہوئے۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت کے بالادستی کے ایجنڈے سے پیدا ہونے والے سلامتی کے روایتی خطرات، کئی دیرینہ تنازعات اور تاریخی مخاصمت برقرار ہے۔ افغانستان کے داخلی تنازع کے کچھ ممالک کیلئے پراکسی وار میں تبدیل ہونے کا اندیشہ پاکستان کیلئے کچھ مزید چیلنجز لیے ہوئے ہے۔ سکیورٹی کے حوالے سے دباؤ کی ایک اور جہت چین کے ساتھ پاکستان کے مضبوط تعلقات پر امریکہ چین مخاصمت کا ممکنہ اثر بھی ہے۔
مذکورہ بالا روایتی خطرات کے علاوہ پاکستان کو سکیورٹی چیلنجوں کا ایک پورا سلسلہ درپیش ہے۔ آج کل کسی ملک کو سلامتی کے چیلنج درپیش کرنے کیلئے غیرفوجی طریقوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے جدید ذرائع نے میڈیا جنگ میں ملوث ہونے کے اندیشے بڑھا دیئے‘ جس میں بین الاقوامی سطح پر منفی پروپیگنڈا بھی شامل ہے۔ انٹرنیٹ پر مبنی میکنزم نے کسی فوجی یا ہوائی جہاز کو ایک سے دوسری جگہ منتقل کیے بغیر کسی ملک کو نفسیاتی دباؤ میں لانا ممکن بنا دیا ہے۔ بعض اوقات، کسی ملک کے داخلی مسائل اور سیاسی عدم استحکام کو جدید معلومات اور مواصلاتی ٹیکنالوجیز کے ذریعے پروپیگنڈا کرکے بڑھایا جاتا ہے۔ قومی سلامتی کو لاحق بدلتی ہوئی نوعیت کے خطرات کا تقاضا ہے کہ پرانے اور نئے چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے ایک جامع حکمت عملی اپنائی جائے۔ ماضی میں پاکستان نے خارجہ پالیسی کے حوالے سے جو حکمت عملیاں اپنائیں وہ اب کارآمد نہیں رہیں۔ اب جوہری ہتھیاروں کی سکیورٹی، دوست ممالک کے ساتھ فوجی تعاون اور فعال سفارتی تعامل سمیت ملٹری سکیورٹی جیسی قومی سلامتی کی روایتی حکمت عملیوں کے ساتھ کچھ نئے اقدامات کی بھی ضرورت ہے۔
سکیورٹی کے تلازمات سرکاری اور غیرسرکاری سفارتکاری پر واضح انحصار کا تقاضا کرتے ہیں۔ ان میں نہ صرف دیگر حکومتوں کے ساتھ مثبت تعلقات رکھنا شامل ہے بلکہ دوسرے ملک کے معاشرے کے اہم طبقات کے ساتھ مضبوط اور مثبت روابط استوار کرنا بھی تلازمات کا حصہ ہے۔ سفارتکاروں کو معاشرتی سطح پر حمایت حاصل کرنے کیلئے کام کرنا چاہئے جیسے میڈیا‘ شعبہ تعلیم‘ ادبی شخصیات، کاروباری اور تجارتی اشرافیہ اور دیگر طبقات جو رائے عامہ کی تشکیل کرتے ہیں۔ غیرسرکاری سفارتکاری بھی ضروری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کے میڈیا سے وابستہ لوگوں، یونیورسٹی کے اساتذہ، تھنک ٹینکس اور کھیل و ثقافت کے گروپوں کو ان ممالک کے اپنے ہم منصبوں کے ساتھ اپنے ذاتی تعلقات استوار کرنے چاہئیں‘ جو ان کے خیال میں پاکستان کیلئے اہم ہیں۔ آج کی ڈپلومیسی نے نئی جہتیں حاصل کرلی ہیں‘ جن کی کھوج لگانے کی ضروری ہے۔ ریاستیں ثقافتی و تعمیراتی ورثے اور قدیم تاریخی ریکارڈ کو اجاگر کرکے بیرون ملک اپنا مثبت امیج تشکیل دے سکتی ہیں۔ پاکستان وادیٔ سندھ کی تہذیب، بلوچستان کے علاقے مہرگڑھ اور مغلوں کی تاریخی عمارت اور ان کے فنِ تعمیر کے ورثے کو پیش کرسکتا ہے۔ پاکستان میں سکھوں اور بودھوں کے پرانے ریکارڈ اور مذہبی مقامات ہیں جو ان مذاہب کے پیروکاروں کی خاصی توجہ اپنی طرف مبذول کراتے ہیں۔ پنجاب اور سندھ میں کچھ تاریخی ہندو مندر واقع ہیں۔ اگر ان جگہوں کو بہتر انداز میں برقرار رکھا جائے اور غیرملکیوں کو ان جگہوں تک آسانی سے رسائی حاصل ہوتو یہ بیرون ملک پاکستان کا مثبت امیج قائم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں‘ جس کے نتیجے میں سفارتکاری میں سہولت مل سکتی ہے۔ یونیورسٹیوں اور تحقیقی مراکز میں سائنسی اور تکنیکی ترقی کے ساتھ ساتھ شاہکار ادبی تخلیقات بھی معاشرے اور ریاست کے مثبت امیج کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔
سرد جنگ کے دور میں داخلی تناظر اتنے اہم نہیں تھے۔ تب اگر کوئی ملک عالمی ایجنڈوں کو پورا کرنے میں مدد کر سکتا تو دونوں عالمی طاقتیں اس ملک کی مدد کیلئے تیار رہتیں‘ حتیٰ کہ وہ ایسی ریاست کی حمایت کیلئے بھی تیار رہتی تھیں جو داخلی خراب سیاسی صورتحال سے دوچار ہوتی یا جس کی معیشت بکھر رہی ہوتی تھی۔ آج معاشی اور فوجی مدد فراہم کرنے والی بڑی طاقتیں کسی ریاست کی مدد کرنے سے پہلے اس کی داخلی صورتحال کا بغور جائزہ لیتی ہیں۔ مزید یہ کہ اگر کسی ریاست کی داخلی سیاسی صورتحال خراب ہے تو وہ بیرونی دباؤ کا مقابلہ نہیں کر سکتی، اور معیشت ریاستی نظام کو برقرار نہیں رکھ سکتی۔ ایسا ملک بین الاقوامی نظام میں اپنی حیثیت کھو دیتا ہے۔ دوسری ریاستیں اس کی داخلی سیاسی اور معاشی صورتحال سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔
خارجہ پالیسی اور داخلی سیاسی و معاشی نظم و نسق کے حوالے سے پاکستان کیلئے موجود چوائسز میں اضافہ ہوسکتا ہے اگر وہ اپنی داخلی صورتحال کو مستحکم کر لے۔ حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کے مابین داخلی سیاسی امورپر اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ اگر سیاسی قوتیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کیلئے سرگرم ہو جائیں تو ملک کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ بڑی سیاسی جماعتوں کی جانب سے اختیار کئے گئے موجودہ سیاسی محاورے اور اقتدار کیلئے ان کی شدید جدوجہد نے معاشرے میں عدم رواداری اور تنازعات کو بڑھا یا اور سیاسی و معاشرتی برداشت کی روایت کو نقصان پہنچایا ہے۔
پاکستان کی مسائل کا شکار معیشت ایک اور سکیورٹی خطرہ ہے۔ اس کی معیشت کو چلتا رہنے کیلئے بیرونی ذرائع یعنی غیرملکی معاشی امداد، غیرملکی قرضوں، اور بیرونِ ملک کام کرنے والے پاکستانیوں کی ترسیلات پرانحصار کرنا پڑتا ہے۔ ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود پاکستان گندم، چینی، کپاس اور کھانے پینے کی اشیا درآمد کرتا ہے۔ اقتصادی تعاون کیلئے پاکستان آئی ایم ایف، ورلڈ بینک‘ ایشین ڈویلپمنٹ بینک‘ اسلامی ترقیاتی بینک اور کچھ دوست ممالک پر انحصار کرتا ہے۔ یہ انحصار داخلی معاشی اختیارات کا انتخاب کرتے وقت پاکستان کے آپشن کو محدود کردیتا ہے۔ اس سے پاکستان کی خارجہ پالیسی کے چوائسز بھی محدود ہو جاتے ہیں۔ پاکستان بین الاقوامی نظام میں ایک خودمختار ملک کی حیثیت سے کام کرسکتا ہے، بیرونی سفارتی دباؤ کا مقابلہ کرسکتا ہے اوربڑی طاقتوں سے معاملات کرنے میں آزادانہ روش اختیار کرسکتا ہے اگر اس کے داخلی سیاسی اور معاشی معاملات مرتب ہوں۔ فی الحال یہ ایک بڑا کام لگتا ہے۔