قلم سے ہتھکڑی تک – Mazhar Abbas

12

پہلوان نما انسان لنگوٹ کسے دہشت قائم کرنے کے لئے ہوا میں کوڑے لہرا رہا تھا۔ جیل میں قیدی ’’ٹکٹکی‘‘ کے گرد گھیرے کی شکل میں تماشائیوں کی مانند انتظار کررہے تھے ان چار صحافیوں کا جنہیں تھوڑی دیر میں کوڑے مارے جانے تھے۔ اتنے میں ایک ٹرک اندر آیا تمام قیدی اترے تو چار کو الگ کر دیا گیا۔ ان کے ہاتھوں میں قلم کی بجائے ہتھکڑی تھی۔ جرم ’’آزادی صحافت‘‘ کے لئے گرفتاری دینا تھا۔

انہی میں سے ایک دُبلے پتلے شخص کا نام ناصر زیدی تھا۔ ان کو جب ’’ٹکٹکی‘‘ سے باندھا جارہا تھا تو ہاتھ بار بار رسی سے نکل جاتا تھا۔ ایک زوردار آواز آئی، ’’اوئے یہ تو بہت ہی پتلا ہے کوڑے برداشت کرلے گا‘‘، اس پہلوان نما انسان نے پہلا کوڑا لگانے سے پہلے کہا۔ مارنے سے پہلے برہنہ جسم پر پینسل سے نشان لگایا گیا۔ جب کوڑا لگا تو جسم سن ہوگیا مگر آواز آئی ’’آزادی صحافت زندہ باد‘‘۔ باری باری یہی کوڑے اقبال جعفری اور خاور نعیم ہاشمی کو لگائے گئے اور ان کی زباں سے بھی یہی نعرہ بلند ہوا۔ جب مسعود اللہ خان کی باری آئی تو وہاں موجود ڈاکٹر نے ان کو معذوری کی وجہ سے منع کردیا۔ ’’اوے یار مینوںوی مارو نا کوڑے‘‘۔ ان کی گرج دار آواز بلند ہوئی۔ افسر نے کہا لگائو اس کو بھی یہ بہت بولتا ہے مگر ڈاکٹر نے کہا ’’رسک‘‘ ہے اور بات ٹل گئی۔ خان صاحب نے پھر بھی آزادی صحافت کا نعرہ لگایا۔زیدی صاحب آج ایک نئی جدوجہد کا آغاز کررہے ہیں۔ وہ PFUJکے سیکرٹری جنرل ہیں۔ مسعود صاحب شدید بیمار ہیں مگر دیگر ساتھی ساتھ کھڑے ہیں۔ کل مقابلہ مارشل لا سے تھا اور آج میڈیائی مارشل لا سے۔

1978کا ایک خط نظر سے گزرا جو کراچی پریس کلب کے سابق صدر صبیح الدین غوثی نے میانوالی جیل سے الفتح رسالہ کے مدیر کو لکھا تھا۔ صرف ایک سطر پیش خدمت ہے ’’کہو کیا حال ہے۔ تابڑ توڑ خط لکھ رہا ہوں۔ کر بھی کیا سکتا ہوں۔ وہ کہاوت ہے نا خط نصف ملاقات ہوتی ہے۔ آج کل مشقت ہورہی ہے۔ بڑی جیل میں بھی محنت کرتے تھے روزی کمانے کے لئے اور یہاں چھوٹی جیل میں بھی زمین پر بچھانے والی دریاں بننے کا کام سیکھ رہے ہیں۔ PTVکے بھی کچھ دوست شاید ندیم بلوچ اور دیگر بڑی ہمت سے مشقت کررہے ہیں، رات کو محفل موسیقی ہوتی ہے۔ سب قیدیوں کے حوصلے بلند ہیں اور ان کے گلے سے سچے سروں کی خوشبو آتی ہے‘‘۔یہ بات شاید کم لوگوں کو پتا ہو کہ مارشل لا لگنے کے بعد سب سے پہلے پاکستان ٹیلی ویژن کی یونین کے لوگوں کو کوڑوں کی سزا سنائی گئی تھی مگر پھر کوڑے مارنے پر عمل درآمد روک دیا گیا۔ سزا سب نے کاٹی۔ یہ ایک منفرد تحریک تھی جس کی قیادت نثار عثمانی اور منہاج برنا کے پاس تھی۔ پہلی گرفتاری قیادت دیتی تھی۔ عثمانی صاحب نے جیل میں ’’سوت‘‘ بننے کی مشقت کی۔ جیلر نہیں چاہتا تھا مگر وہ بضد تھے کہ قید بامشقت ہوئی ہے تو ’’چکی‘‘ پیسنے کو تیار ہیں۔ منہاج برنا تادم مرگ بھوک ہڑتال پر چلے گئے تو ساتھی صحافی جو جیلوں میں تھے پریشان ہوگئے۔ انہیں اندازہ تھا کہ برنا صاحب ہڑتال ختم نہیں کریں گے۔ ایسے میں کچھ دوستوں نے یہ نعرہ بلند کیا ’’تیرے ساتھ جینا تیرے ساتھ مرنا منہاج برنا، منہاج برنا‘‘۔اس بات کو 43سال ہوچکے ہیں مگر خالد علیگ مرحوم جو اسی تحریک کا حصہ رہے ان کے شعر کا یہ مصرعہ آج بھی ہمارا حوصلہ بڑھاتا ہے۔ ’’ہاتھوں میں قلم رکھنا یا ہاتھ قلم رکھنا‘‘۔

افسوس صرف اس بات کا ہوتا ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے تاریخ سے کچھ سبق نہیں سیکھا۔ ایک وزیر اعظم کے مشیر نے کہا، ’’کچھ کو پٹا ڈالنے کی ضرورت ہے‘‘۔ میں نے کہا ’’دل کی بات زبان‘‘ تک آہی گئی۔2007میں ٹی وی چینلز پر پابندی لگی تو میں PFUJکا سیکرٹری جنرل تھا اور ہما علی جنہیں ہم شاہ جی کہتے ہیں، صدر تھے۔ مجھ کو اس وقت کے سیکرٹری اطلاعات جناب انور محمود نے اپنے تئیں برادرانہ مشورہ دیا کہ ’’ہاتھ ہلکا رکھنا‘‘۔ میں نے کہا ’’انور صاحب جنہوں نے آزادیٔ صحافت پر کرارا ہاتھ مارا ہے ان کو یہ مشورہ دیتے۔ ہم تو بند کردیے جائیں گے اور PFUJکی تاریخ ہے ضمانت نہیں کروائی جاتی‘‘۔اس تحریک میں اسلام آباد کے دو سو صحافیوں پر غیرقانونی جلوس نکالنے پر مقدمہ ہوا۔ کوئی ایک پیچھے نہیں ہٹا۔ پوری تنظیم پر پہلی بار غداری اور بغاوت کا مقدمہ قائم ہوا مگر جدو جہد جاری رہی۔

موجودہ حکمرانوں کو یہ تاریخ یاد دلانے کا مقصد صرف ایک ہے۔ آپ احتساب کرنا چاہتے ہیں ضرور کریں۔ ایک نظر پرنٹ، الیکٹرونک اور سوشل میڈیا کے قوانین خود دیکھ لیں ان پر عمل درآمد کریں۔ میڈیا کارکنوں کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں تو صرف ملک میں پہلے سے قائم لیبر قوانین کے تحت 90روز میں ریگولر کرنے کے قانون کو نافذ کریں۔ عمل درآمد ٹریبونل نیوز پیپرز ایکٹ کے تحت ہر صوبہ میں بنائیں۔ برسوں سے کہہ رہے ہیں ہتک عزت کے قانون کو آسان اور سخت کریں۔ آج بھی 2002 کے قانون کے تحت 90روز میں ڈسرکٹ کورٹ اور 30روز میں ہائی کورٹ کو اپیل پر فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ اور بولیں تو میڈیا کے کارکنوں کو نیوز پیپر ایکٹ میں لے آئیں۔ یہ ڈرافٹ تو فواد چوہدری صاحب کے پاس موجود ہے میں نے ذاتی طور پر انہیں اور فیصل جاوید کو بھیجا تھا۔

مگر اصل مسئلہ ہی کچھ اہے اور وہ ہے ان آوازوں کو بند کرنا، ختم کرنا جو ’’غلط کو غلط‘‘ کہتی ہیں۔ سوشل میڈیا کے قانون PECA-2016 کے تحت اب تک یہی کام ہوا ہے۔ تو اب کوئی اور میڈیا اتھارٹی قبول نہیں کیونکہ پس پردہ مقاصد کچھ اور نظر آتے ہیں۔ آج آپ ہیں کل کوئی اور ہوگا۔ مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی کی حکومتیں ایسی ہی غلطیاں کرتی رہی ہیں۔دیکھیں حضور، ہم حکمرانوں سے دور اور جیلوں سے قریب رہنے والے لوگ ہیں۔ ہمارے درمیان یقیناً درباری صحافیوں کی بھی کمی نہیں۔ ویسے بھی سر پھرے لوگ کم ہی ہوتے ہیں مگر معاشرہ انہی کی وجہ سے زندہ رہتا ہے۔ 1971 میں ’’سب اچھا‘‘ لکھنے والے صحافیبھی تھے اور یہ بتانے والے بھی کہ ’’گماں تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہے۔ یقین مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو‘‘۔ہم نہ مادر پدر آزادی صحافت چاہتے ہیں نہ مادر پدر حکمرانی۔ ہم تو قانون کی حکمرانی کے قائل ہیں۔ آپ اپنی طاقت آزما لیں، ہم اپنا حوصلہ۔ 1978 کی تحریک کے دوران ایک ساتھی نے جیل سے خط میں کہا، ’’آپ لوگ پریشان نہ ہوں ہمارے حوصلے بلند ہیں۔ یہ سزائیں، چھاپے، گرفتاریاں، کوڑے ہمارے عزم کو پست نہیں کرسکتے‘‘۔