قابلِ ستائش شخصیت – Dr Ramesh Kumar

31

یہ جنوری 1993کی بات ہے جب بھارت کی ریاست مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والی ممتا بینرجی نامی ایک خاتون وزیرایک مظلوم گونگی بہری لڑکی کو انصاف دلوانے اس وقت کے وزیراعلیٰ جیوتی باسو کے چیمبر کے باہر دھرنا دیکر بیٹھ گئیں،انہیں وزیراعلیٰ سے نہیں ملنے دیاگیا اور پولیس نے طاقت کا استعمال کرکے احتجاجی خواتین کو زبردستی گھسیٹ کر وہاں سے ہٹا دیا، ممتا بینرجی نے پولیس کے ہتک آمیز رویہ کے بعد قسم کھائی کہ اب وہ وزیراعلیٰ بننے کے بعد ہی دوبارہ اس عمارت میں قدم رکھیں گی، اپنی دھُن کی پکی اور عوام کی خدمت پر یقین رکھنے والی ممتا بینرجی کو اپنی قسم پوری کرنے میں اٹھارہ سال کا طویل عرصہ لگ گیا اور پھر آخرکار وہ تاریخی وقت بھی آگیا جب ریاست کے عوام کی حمایت سے انہوں نے مئی 2011میں وزیراعلیٰ کا عہدہ سنبھال لیااور آج دس سال بعد ممتا بینر جی نے مسلسل تیسری مرتبہ مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ کا حلف اٹھاکر ایک نئی تاریخ رقم کردی ہے، حالیہ انتخابات میں ممتا بینرجی کی سیاسی جماعت نے 292میں سے 213نشستیں حاصل کرکے بھارت کی مرکزی حکومت کی جانب سے شدت پسندانہ نظریات کے پرچار کو شکست فاش دے دی ہے۔ اس حوالے سے برطانوی نشریاتی ادارے نے اپنی رپورٹ میں ممتا بینرجی کی سیاسی جدوجہد کو جہد مسلسل قرار دیتے ہوئے ان کی زندگی سے جُڑے بیشتر حقائق پر روشنی ڈالی ہے، بی بی سی کے مطابق ممتا بینرجی نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغازاکیس سال کی عمر میں بحیثیت وومن کانگریس کی سیکرٹری جنرل سے کیا، انہوں نے اپنے کالج میں کانگریس پارٹی کی طلبہ جماعت کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا،1985ء کے ریاستی انتخابات میںکمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے مضبوط ا مید و ا ر سومناتھ چیٹرجی سے ٹکر لی، سادگی اور عوامی خدمت کی نمائندہ ممتا بینر جی اپنی انتخابی مہم کے پوسٹر خود دیواروں پر چسپاں کیا کرتی تھیں، انہوں نے اپنی مستقل مزاجی سے نہ صرف مخالف امیدوار کو شکست دی بلکہ بھارت کی سب سے کم عمر خاتون ممبران پارلیمان کی فہرست میں شامل ہونے میں بھی کامیاب ہوگئیں، قبل ازیں وہ آل انڈیا یوتھ کانگریس کی جنرل سیکرٹری کی حیثیت سے بھی سرگرم رہیں۔ ممتا بینرجی نے روز اول سے سیاسی میدان میں کامیابی کیلئے غریب عوام کی خدمت کو اپنااوڑھنا بچھونا بنایا، اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنی جماعت کانگریس کی اعلیٰ قیادت سے سیاسی معاملات میں شفافیت کا مطالبہ کیا، تاہم پارٹی اختلافات کے بعد انہوں نے کانگریس کو خیرباد کہہ کر اپنی الگ سیاسی جماعت بنانے کا فیصلہ کیا،اگلے انتخابات میں ممتا بینرجی نے اپنی سیاسی جماعت ترنمول کانگریس کے جھنڈے تلے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا۔ بطور وزیر ریلوے انہوں نے غریب عوام کیلئے لوکل ٹرین میں باعزت طریقے سے سفر یقینی بنانے کیلئے خصوصی پاس متعارف کرایا جس کی ماہانہ قیمت 150روپے سے کم کرکے 25روپے کردی گئی۔ ممتا بینرجی عوام کی خدمت کیلئے کسی قسم کی مذہبی تفریق پر یقین نہیں رکھتیں، بھارت کی موجودہ مرکزی حکومت کی جانب سے قانونِ شہریت کا متنازع بل ہو یا کوئی اور شدت پسندانہ ایشو، ممتا بینرجی نے ہمیشہ حق و انصاف کا ساتھ دیا ہے، یہی وجہ ہے کہ انتخابی مہم میں ممتا بینرجی کی عوامی مقبولیت سے خائف ہوکران کے خلاف منفی پروپیگنڈا بھی کیا جاتا رہا ہے،ان کو کلکتہ یونیورسٹی سے اسلامی تاریخ میں ماسٹرز کی ڈگری کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا ، ان کے سیاسی مخالفین نے سوشل میڈیا پر ایسے بے شمار ویڈیو کلپس وائرل کئے ہیں جن میں وہ اقلیتی مسلمانوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتی نظرآتی ہیں، تاہم ممتا بینر جی نے ہمیشہ اپنے مدمقابل امیدواروں کو مذہب کارڈ کھیلنے سے باز رہنے کی تلقین کی۔مغربی بنگال کے لوگ ممتا بینرجی کو ‘دیدی’ یعنی بڑی بہن کے نام سے پکارتے ہیںجو سماج میں سادگی، ایمانداری، مذہبی رواداری اور اعلیٰ انسانی اقدار کے فروغ کی حامی ہیں۔ اپنی ذاتی زندگی میں ممتا بینر جی سادگی اور کفایت شعاری کا عملی نمونہ ہیں، میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعلیٰ بننے کے باوجود ان کے رہن سہن میں کوئی فرق نہیں آیا، وہ وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے نہ کوئی تنخواہ لیتی ہیں اور نہ کوئی دوسری سرکاری مراعات، انہوں نے اپنی پینشن بھی ختم کردی ہے، اکانومی کلاس میں سفر کرتی ہیں اور اپنے اخراجات خود اٹھاتی ہیں ، ان کے پاس چارعدد سوتی ساڑھیاں اور دو جوڑی ہوائی چپلیں ہیں اور وہ آج بھی اپنی عام گاڑی میں سفر کرنا کوئی برائی نہیں سمجھتیں۔کہا جاتا ہے کہ ایک بار سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی جب ملاقات کیلئے ان کی رہائش گاہ پہنچے تو گھر کی خستہ حالت دیکھ کر حیران ہو گئے تھے۔ممتا بینرجی کا ماننا ہے کہ عوامی لیڈر وہ ہے جو سادہ اور ایماندار زندگی جیتا ہے اور اسے کرپشن تحقیقات سے نہیں ڈرایاجا سکتا ۔بطور شاعرہ ، موسیقی کار اور آرٹسٹ وہ اپنی کتابوں اور میوزک کی رائلٹی سے ملنے والی رقم سے اپنے اخراجات پورے کرتی ہیں، ان کے تیار کردہ فن پاروں کی فروخت بھی ان کا اہم ذریعہ معاش ہیں، اسی طرح بنگالی زبان میں ان کی نظموں اور کہانیوں کی کئی درجن مقبول مطبوعات بیسٹ سیلرز کے زمرے میں آتی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ممتا بینرجی دنیا بھر کے ان سیاستدانوں کیلئے رول ماڈل ہیں جو سیاست کو عبادت سمجھتے ہیں اور عوام کی خدمت کو اپنی سیاسی جدوجہد کا محور بناتے ہیں۔