فلسطین: پیغام اجل دعوتِ دیدارِ حقیقت – Imtiaz Alam

13

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نالہ خواں ہیں کہ: ’’دنیا میں کہیں جہنم ہے تو وہ غزہ کے بچوں کے لیے ہے‘‘۔ ان فلسطینی بچوں پہ موت پہلی بار نازل نہیں ہوئی۔ وہ پیدا ہی ایک بانتستانی اپارتھائیڈ نظام میں ہوئے ہیں جہاں مذہبی و نسلیاتی نفرت انگیزی صبح شام موت کی دعوت دیتی ہے۔ آگ اور خون کا یہ کھیل چلتا رہتا ہے جس میں ظالم و مظلوم ایک ہی صف میں کھڑے اس لیے کیے جاتے ہیں کہ قبضہ گیر نوآبادیاتی ظالم کو تاریخ کی عدالت میں نہ کھڑا کیا جاسکے۔ تاریخ بھی کتنی ظالمانہ ہے۔ ہزاروں برس تک یہودی بیسیوں بار اپنی مقدس دھرتی سے بیدخل کیے جاتے رہے تاآنکہ دوسری جنگ عظیم میں ان کا بدترین قتل عام یا ہولوکاسٹ نہیں ہوگیا۔ فلسطین پہلی جنگ عظیم کے بعد سلطنت عثمانیہ کے ہاتھوں سے برطانوی قبضے میں آگیا اور پھر دوسری جنگ عظیم کے خاتمے پر برصغیر ہندوستان کی طرح انگریزوں نے فلسطین کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کردیا۔ یوں ایک طرف زیادہ تر عرب علاقوں پر اسرائیلی ریاست قائم ہوئی جو مغربی کنارے کے مغرب میں تھی اور باقی ماندہ مغربی کنارہ اور مشرقی یروشلم اردن اور غزہ مصر کے پاس چلا گیا۔ یہ ایک خوفناک تقسیم تھی۔ 14 مئی 1948ء میں 630,000یہودی اور 200,000 1 عرب اس علاقے میں تھے۔ برصغیر کی پارٹیشن کی طرح 680,000 یہودی مہاجر اسرائیل پہنچے، جبکہ 711,000 فلسطینیوں کو وطن بدر کردیا گیا۔ پاکستان اور بھارت کی پہلی کشمیر جنگ کی طرح 1948ء میں عربوں اور اسرائیل کے مابین خوفناک جنگ ہوئی جس میں اسرائیل نے مزید عرب علاقے ہتھیا لیے۔ مذہب کے نام پر پاکستان کی طرح قائم ہونے والی یہودی ریاست نے اپنے بنیادی اعلان نامے میں اسرائیل کو دنیا بھر کے یہودیوں کی ریاست ہونے کا اعلان تو کیا لیکن ساتھ ہی اسرائیل میں بسنے والے مسلمانوں اور عیسائیوں کے لیے جمہوری حقوق کی یقین دہانی بھی کروائی۔ لاکھوں یہودیوں کے ہولناک نسلی امتیاز اور سائیت دشمنی (Anti Semitism)کا نشانہ بننے سے یہودی ریاست ہوتے ہوئے بھی اسرائیل کو ایک جمہوری راہ لینی تھی، لیکن اسرائیل بھی دوہرے نظریاتی مخمصے کا شکار ہوگیا۔ اسرائیل صہیونیت پسندی کے باعث نہ صرف مسلمان عرب اقلیت بلکہ ملحقہ فلسطینی علاقوں کے لیے جان لیوا ریاست ثابت ہوئی۔ اسرائیل ایک (نوآبادیاتی آباد کار) ریاست کے طور پر مستحکم ہوا جہاں دنیا کے کسی بھی یہودی کو واپس آنے کا حق ہے، لیکن وطن بدر فلسطینیوں کی واپسی کا حق اسے قبول نہیں۔ ابتداًتو یہ ایک سوشل ڈیموکریٹک ٹائپ ریاست تھی، پھر یہ عالمی سرمایہ داری اور خاص طور پر امریکی سامراج کی علاقائی حاکمیت کا حصہ بن گئی۔

73 برسوں میں اسرائیل کی عربوں کے ساتھ جنگوں اور فلسطینیوں کے بار بار قتل عام سے اور خاص طور پر 1967ء کی جنگ کے بعد اسرائیل مغربی کنارے، مشرقی یروشلم اور غزہ کی پٹی پہ قابض ہوگیا۔ قوم پرست عربوں کو شکست فاش ہوئی۔ لیکن پھر فلسطینیوں کی قومی مزاحمت ابھری جو تاحال جاری ہے۔ فلسطینیوں کی متعدد تنظیمیں (جن میں خاص طور پر الفتح اور پی ایف ایل پی شامل تھیں) ابھریں جنہوں نے مسلح جدوجہد کا رستہ اختیار کیا۔ ان تنظیموں کے اشتراک سے فلسطینی محاذ آزادی ( PLO) وجود میں آئی جس نے فلسطینی آزادی کی سب سے معتبر تنظیم کے طور پر اپنی حیثیت منوالی۔ دریں اثنا فلسطینی اور عرب اتحاد ٹوٹ گیا اور فلسطینی سبھی کی مشقِ ستم کا نشانہ بنے تا آنکہ مصر کے انور سادات نے 17 ستمبر 1978ء کو کیمپ ڈیوڈ میں اسرائیل کے وزیراعظم مینیخم بیگن کے ساتھ امریکی صدر جمی کارٹر کی وساطت سے امن معاہدہ کرلیا۔ عرب اسرائیل تعلقات میں یہ بڑا موڑ تھا ۔بعدازاں اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین پہلا اوسلو معاہدہ (1993ء) میں ہوا جس پر پی ایل او کے چیئرمین یاسر عرفات اور اسرائیل کے وزیراعظم اسحاق رابن نے صدر کلنٹن کی موجودگی میں دستخط کیے۔ بعدازاں مصر میں دوسرا اوسلو معاہدہ (1995ء) ہوا۔ ان معاہدوں کی رو سے PLO نے اسرائیل کو تسلیم کرلیا اور اسرائیل نے فلسطینی اتھارٹی کو قبول کرلیا۔ اگلے پانچ برس میں دو ریاستوں کے فارمولے پہ سرحدوں کا تعین مشرقی یروشلم، عرب علاقوں میں یہودی بستیوں، باہمی تعلقات کی نوعیت، فلسطینیوں کی واپسی سمیت تمام امور طے کیے جانے تھے۔ حالانکہ جیسا کہ ناروے کی اپنی تحقیقات سے سامنے آیا ہے کہ اوسلو معاہدہ اسرائیل کی شرائط پہ کیا گیا تھا، پھر بھی اس پر پیش رفت نہ ہوسکی۔ نتیجتاً فلسطینیوں کی فقید المثال انتفاضہ کی تحریکیں چلیں جو 1987 سے 1993ء اور دوسری بار 2000ء سے 2005ء تک جاری رہیں۔ اس دوران 2008، 2012ء 2014 اور گزشتہ عشرہ میں غزہ کی پٹی پہ اسرائیلی حملوں میں ہزاروں فلسطینی شہید ہوئے اور دسیوں ہزار گھر تباہ ہوئے۔ یاسر عرفات کی وفات کے بعد فلسطینی اتھارٹی فلسطینیوں کو متحد نہ رکھ سکی اور جمہوری عمل رک گیا۔ 2006ء کے بعد صدر کا انتخاب ہوا نہ کونسل کا۔ سوویت یونین کے انہدام اور 2001ء میں 9/11کی دہشت گردی کے بعد عرب دنیا میں مذہبی شدت پسندی میں اضافہ ہوا اور فلسطینی بھی نظریاتی طور پر تقسیم ہوگئے۔ اسرائیل میں دائیں بازو کی کٹر مذہبی انتہا پسندی پھیلی تو غزہ بھی حماس کے زیر اثر آگیا۔ نہ صرف یہ کہ فلسطینی تقسیم کردئیے گئے بلکہ خود اسرائیل بھی بری طرح سے تقسیم ہوگیا۔ دو سال میں اسرائیل میں چار انتخابات ہوچکے ہیں لیکن ایک مستحکم حکومت بن نہیں پارہی۔ جو بنتی بھی ہے وہ انتہا پسند اقلیت کی یرغمال ہوکے رہ جاتی ہے۔ حالیہ بحران اور دس روزہ جنگ بھی عبوری وزیراعظم نیتن یاہو کی مشرقی یروشلم اور القدس میں پولیس گردی اور شیخ جرحہ میں یہودیوں کی آبادکاری کے خلاف فلسطینیوں کی مزاحمت سے شروع ہوئی۔ نیتن یاہو نے متبادل قومی حکومت کو روکنے کے لیے جارحیت کی راہ لی۔ دوسری جانب حماس جو بدترین معاشی بحران کی لپیٹ میں تھی کو فکر ہوئی کہ کہیں مشرقی یروشلم سے شروع ہونے والی نوجوانوں کی لہر اس کے ہاتھ سے نہ نکل جائے ۔ اس نے اسرائیل پر راکٹوں کی بارش سے غزہ پر اسرائیلی ہوائی حملوں کی دعوت دی۔ یوں ساری توجہ اسرائیل کے اندر فلسطینیوں کی جمہوری جدوجہد سے ہٹ گئی۔ نیتن یاہو کا یہ تصور کہ ’’زمین بھی رکھو اور امن بھی رہے‘‘ بری طرح سے پٹ گیا۔ اب جنگ بندی ہوگئی ہے۔ کیا پھر سے اوسلو3- کی تیاری کی جارہی ہے؟ یادش بخیر عظیم فلسطینی دانشور ایڈورڈ سعید نے پہلے اوسلو معاہدے بارے کہا تھا کہ یہ ’’فلسطینیوں کا ورسائلز‘‘ ہے یعنی جس طرح جرمنوں کو اتحادیوں کی شرائط ماننی پڑی تھیں، فلسطینیوں کو بھی اسرائیل کی شرائط ماننے پہ مجبور کردیا گیا۔ اب بات ہو بھی تو کس سے؟فلسطینیوں کا کوئی بڑا نمائندہ ہے نہ اسرائیل کا۔اسرائیل کے کثرتی جمہوری ریاست بنے بغیر اور فلسطینی اتھارٹی کے شراکتی متحدہ جمہوری قوت بنے بغیر اسرائیلی فلسطینی تاریخی مناقشے کا کوئی پائیدار حل نہیں۔