فلسطین، پاکستان اور افغانستان- Saleem Safi

13

انبیاء کرام کی سرزمین فلسطین، تاریخی طور پر فلسطینی عربوں کی ملکیت ہے۔ اس کے دل، یروشلم میں مسلمانوں کا قبلہ اول بیت المقدس واقع ہے۔عیسائیوں اور یہودیوں کے لئے بھی مقدس ہے اس علاقے پر اسرائیلیوں کا قبضہ ہر حوالے سے ناجائز ہےجس کے لئےگزشتہ ستر سال کے دوران فلسطینیوں نے جو قربانیاں دیں، وہ اپنی مثال آپ ہیں۔ سوال یہ ہے ہم مسلمان اور بالخصوص ہم پاکستانی فلسطین کے نام پر جو کچھ کررہے ہیں ، اس سے کیا فلسطین کی آزادی کی منزل کی طرف کوئی پیش رفت ممکن ہے؟ اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ کہیں ہم فلسطین کے نام پر صرف سیاست، سفارت اور صحافت چمکا رہے ہیں یا کہ پھر واقعی ہم کوئی ایسا کام کرنا چاہتے ہیں کہ جس سے فلسطینیوں کو کوئی فائدہ ہو۔عملی اور سنجیدہ کام تو تبھی ممکن ہے کہ جب آپ نے اس مسئلے کے تمام پہلوئوں کو سمجھا ہو، اس کی تمام جہتوں پر غور کیا ہو ۔ چنانچہ ضروری سمجھا کہ چند تاریخی اور زمینی حقائق گوش گزار کروں:

اسرائیل کے اردگرد واقع عرب ممالک ، اسرائیل کے ساتھ ماضی میں کئی جنگیں لڑچکے ہیں اور ہر جنگ میں اسرائیل نے ان کو شکست دی ہے۔ ان میں ایک مصر ہے جس کی آبادی تقریباً 10کروڑ ہے ۔ لبنان کی 53لاکھ، شام کی 2کروڑ اور اردن کی تقریبا ایک کروڑ ہے جبکہ اسرائیل کی آبادی صرف 87لاکھ ہے ۔ 87لاکھ انسانوں کا یہ ملک 14کروڑ آبادی پر مشتمل پڑوسی ممالک کو شکست دے چکا ہے ۔

تمام عرب ممالک کی آبادی ملا کر تقریباً پچاس کروڑ بنتی ہے لیکن وہ اوآئی سی کی ایک مذمتی قرارداد کے سوا کچھ نہیں کرسکتے ۔ اب جب عرب ممالک کا یہ حال ہے تو سوال یہ ہے کہ عربوں سے ریالوں کی بھیک مانگنے والا اور چاول کے فطرانے وصول کرنے والا پاکستان فلسطینیوں کے لئے کیا تیر مار سکتا ہے؟ شاہ محمود قریشی کی اداکاری اپنی جگہ لیکن جو ملک اپنے کشمیر (مقبوضہ کشمیر پر انڈیا کا قبضہ فلسطین کے خلاف اسرائیلی جارحیت سے کم جارحیت نہیں۔ یہاں تو اقوام متحدہ کی قراردادیں بھی موجود ہیں جبکہ گزشتہ سال اگست کے بعد انڈیا نے جس طرح تمام کشمیریوں کو قیدی بنارکھا ہے، اس طرح اسرائیل نے آج تک فلسطینیوں کے ساتھ بھی نہیں کیا) کے معاملے پر اقوامِ متحدہ تو کیا او آئی سی سے انڈیا کے خلاف ایک مذمتی قرارداد پاس نہ کروا سکا، وہ اسرائیل کے خلاف سفارتی محاذ پر کیا تیر مار سکتا ہے کہ جس کی سرپرستی امریکہ، برطانیہ اور یورپ جیسی طاقتیں کررہی ہیں؟

ہمارے سیاستدان اور بالخصوص مذہبی جماعتوں کے رہنما اس طرح کے مواقع پر اپنی سیاست چمکانے کے لئے جلسے جلوس نکال کر اسرائیل پر حملہ آور ہونے کا درس دیتے ہیں لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ اس وقت اسرائیل مشرق وسطیٰ کی سپر پاور بن چکا ہے اور طاقت سے اس کو زیر نہیں کیا جاسکتا ۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ اس چھوٹے سے ملک کی فی کس جی ڈی پی مصر سے 14 گنا زیادہ، ایران سے 8 گنا زیادہ، لبنان سے 6 گنا زیادہ اور سعودی عرب سے 2 گنا زیادہ ہے۔ بائیوٹیکنالوجی، انڈسٹری، فضائی نگرانی اور اسی طرح کی دیگر سائنسی مدات میں عرب اور اسلامی دنیا تو کیا بعض حوالوں سے مغرب بھی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ اس سے بھی بڑی اور بھیانک حقیقت یہ ہے کہ یہ مشرق وسطیٰ کی واحد ایٹمی طاقت ہے۔

ایک اور افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ خود فلسطینی مسلمان دو گروہوں یعنی پی ایل او اور حماس کے حامیوں میں تقسیم ہیں۔ یاسر عرفات کی وفات کے بعد 2006 کے انتخابات میں حماس نے کامیابی حاصل کی تھی جس کے بعد سیاسی کنٹرول کے لئے حماس اور الفتح کے مابین لڑائی شروع ہوئی۔ حالیہ دنوں میں اسرائیل کے حملوں میں 250 کے لگ بھگ فلسطینی شہید ہوئے لیکن ایک سال کی حماس اور پی ایل او کی لڑائی میں چھ سو فلسطینی مارے گئے۔ اس جنگ کے اختتام پر غزہ، حماس کے جبکہ مغربی کنارہ پی ایل او کے زیرکنٹرول آیا۔ اس وقت عرب دنیا اور عالمی طاقتوں کی کوششوں سے پی ایل او اور حماس نے مشترکہ حکومت قائم کی لیکن کچھ عرصہ بعد محمود عباس نے حماس کو حکومت سے نکال دیا۔ اس کے بعد غزہ حماس کے زیرکنٹرول اور مغربی کنارہ پی ایل او کے۔ پندرہ سال گزرنے کے باوجود پی ایل او اور حماس کی قیادت آپس میں کوئی سیاسی حل نہ نکال سکی ۔ اس کے بعد سے آج تک وہاں انتخابات نہ ہوسکے۔

ہمارے شاہ محمود قریشی اور پاکستان میں احتجاج کرنے والی جماعتیں کریڈٹ لینا چاہتی ہیں کہ ان کی کوششوں سے اسرائیل جنگ بندی پر مجبور ہوا تو ہم بھی ان کو یہ کریڈٹ دیتے ہیں لیکن ایک سوال پوچھنے کی جسارت بھی کرتے ہیں اور وہ یہ کہ کیا افغانستان میں رہنے والے فلسطینیوں کی طرح مسلمان نہیں اور اگر ہیں تو کیا افغان مسلمانوں کے قتل عام پر بھی ہمیں اسی طرح نہیں تڑپنا چاہئے جس طرح کہ ہم فلسطینی مسلمانوں کے خون پر تڑپے؟ یہ تو ہمارے پڑوسی بھی ہیں اور اسلام کی رو سے پڑوسی کا حق زیادہ ہوتا ہے۔ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران افغانستان میں مسلمان کے ہاتھوں مرنے والے مسلمانوں کی تعداد، فلسطین سے زیادہ ہے۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے آخری عشرے میں ایک دھماکے میں ستر سے زیادہ بے گناہ بچوں کو خون میں نہلایا گیا لیکن نہ جانے کیوں اس کے خلاف نہ پاکستانی پارلیمنٹ نے قرارداد منظور کی اور نہ کسی مذہبی جماعت نے احتجاجی جلوس نکالا۔ کیا مسلمانوں کے خون میں فرق ہوتا ہے؟۔ الحمد للہ کہ اسرائیل اور حماس کے مابین جنگ بندی ہوگئی لیکن افغانستان میں امریکیوں کے ساتھ نہیں بلکہ افغانوں کی افغانوں سے جنگ جاری ہے۔ اگر یہ سیاست نہیں ہورہی اور واقعی مسلمانوں کے خون بہنے نے ہمیں بے چین کررکھا ہے تو کیا میں امید لگالوں کہ اس ہفتے پاکستانی پارلیمنٹ افغانستان میں بھی جنگ بندی کے مطالبے پر مبنی قرارداد منظور کرے گی اور کیا جماعت اسلامی اور جے یو آئی جیسی مذہبی جماعتیں، افغانستان میں بھی جنگ بندی کے لئے احتجاجی جلوس نکالیں گی؟ اور اگر ایسا نہیں کرتیں تو پھر کیا لوگ یہ رائے رکھنے میں حق بجانب نہیں ہوں گے کہ اصل مسئلہ مسلمانوں کا غم نہیں بلکہ سیاست ہے؟