غدار پھر جیت جائیں گے؟ – Hamid Mir

22

23مارچ کو اسلام آباد میں بارش ہو رہی تھی اور تیز ہوائیں چل رہی تھیں۔ یومِ پاکستان کے سلسلے میں فوجی پریڈ دو دن کیلئے ملتوی کی جا چکی تھی۔ ٹی وی چینلز پر دو خبریں چھائی ہوئی تھیں ایک یہ کہ اپوزیشن کے دو رہنمائوں بلاول اور مریم میں لڑائی ہو گئی، دوسری یہ کہ نریندر مودی اور عمران خان میں صلح ہو گئی۔

بارش اور تیز ہوائوں کے ساتھ بادل بھی خوفناک آوازوں کے ساتھ گرج رہے تھے اور اس دوران سرینگر سے ایک کشمیری صحافی بار بار یہ پوچھ رہا تھا کہ پاکستان اور بھارت نے آبی تنازعات پر مذاکرات کے آغاز کیلئے 23مارچ کا دن کیوں رکھا ہے؟ میرے پاس اس سوال کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں تھا۔ میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ کشمیری صحافی بار بار میسج بھیج رہا تھا، آخر کار میں نے پوچھا کہ آپ اس سوال میں اتنی دلچسپی کیوں لے رہے ہیں؟

کشمیری صحافی نے کہا کہ 2018 میں جب عمران خان وزیراعظم بنے تو ان کی حلف وفاداری کی تقریب میں بھارتی سیاست دان نوجوت سنگھ سدھو اور پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایک دوسرے کو گلے لگا لیا تھا۔

اس کے بعد عمران خان نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر نریندر مودی دوبارہ الیکشن جیت گئے تو کشمیر پر بڑا بریک تھرو ہو سکتا ہے لیکن دوسری مرتبہ وزیراعظم بننے کے کچھ عرصہ بعد مودی نے 5 اگست 2019 کو کشمیریوں کو پاکستان سے بریک کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔ خیال تھا کہ اب پاکستان کے ریاستی ادارے مودی پر اندھا اعتماد نہیں کریں گے لیکن 9نومبر 2019 کو یومِ اقبال پر کرتار پور راہداری کا افتتاح کیا گیا۔

کشمیری صحافی کا کہنا تھا کہ کرتار پور راہداری کے افتتاح کیلئے یومِ اقبال کا انتخاب ہمارے لئے بہت اہم تھا کیونکہ علامہ اقبالؒ کو جموں و کشمیر میں وہی مقام و مرتبہ دیا جاتا ہے جو انہیں پاکستان میں حاصل ہے۔

کچھ عرصہ کے بعد افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کیلئے واہگہ بارڈر کھولنے کا دن 13جولائی 2020مقرر کیا گیا۔ یہ کشمیریوں کا یومِ شہدا ہے۔ 2020میں کورونا وائرس کے باعث پوری دنیا کافی دن تک بند رہی۔

کھیلوں کے مقابلے بھی ملتوی رہے پھر اعلان ہوا کہ پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان کرکٹ سیریز کا آغاز 5 اگست 2020 کو ہوگا۔ 5 اگست کشمیریوں کیلئے یومِ سیاہ بن چکا ہے، کشمیریوں کو حیرت ہوئی کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے چھ یا سات اگست کا دن کیوں منتخب نہیں کیا اور خاص طور پر وہ دن کیوں منتخب کیا جب بھارت کے کشمیر پر آئینی قبضے کا ایک سال پورا ہو رہا تھا؟

میں نے کشمیری صحافی کو بتایا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ سب اتفاقات ہوں؟ کشمیر ی صحافی نے کہا کہ چلیں مان لیا یہ سب اتفاقات تھے لیکن 23مارچ کو تو پاکستان میں چھٹی ہوتی ہے۔ پاکستان کے واٹر کمشنر نے بھارتی ہم منصب سے مذاکرات کیلئے اس دن کا انتخاب کیوں کیا اور پھر اسی دن نریندر مودی نے عمران خان کو یومِ پاکستان پر نیک تمنائوں کا پیغام بھی بھیج دیا، کیا یہ سب اتفاق ہے؟ میرے پاس کوئی جواب نہ تھا۔

کشمیری صحافی پوچھ رہا تھا کہ کچھ عرصہ پہلے تک عمران خان کی طرف سے مودی کو ہٹلر کہا جاتا تھا، اچانک ہٹلر کے ساتھ لائن آف کنٹرول پر سیز فائز ہو گیا اور ہٹلر نے نیک تمنائوں کا خط بھی بھیج دیا، لگتا ہے پاکستان میں سب بدل گئے ہیں لیکن آپ کو یہ بتانا تھا کہ کشمیر میں کچھ نہیں بدلا، بھارتی سیکورٹی فورسز روزانہ بےگناہ کشمیریوں کو قتل کر رہی ہیں۔ میرے پاس اس کشمیری صحافی کے کسی سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔

میں نے اسے کہا کہ بھائی تم تو جانتے ہو کہ پاکستان میں حب الوطنی کے علمبرداروں کی نظر میں مجھ جیسے صحافی غدار قرار دیے جاتے ہیں، میرے پاس تمہارے سوالوں کا جواب نہیں ہے، تم کسی محبِ وطن سے جواب مانگو۔ کشمیری صحافی کا آخری میسج یہ آیا کہ ’’کل ہی ایک ایس پی نے مجھے بلا کر کہا کہ آپ دیش کے غداروں سے رابطے ختم کر دیں، آپ وہاں غدار اور ہم یہاں غدار‘‘۔

کسی کو اچھا لگے یا بُرا لیکن نظر آ رہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کو قریب لانے کیلئے جن خاص دنوں پر اہم اعلانات کئے جا رہے ہیں ان کا مقصد کشمیریوں کو نفسیاتی جھٹکے دیکر پاکستان سے بدظن کرنا نظر آتا ہے۔

مقبوضہ جموں و کشمیر کے بزرگ حریت رہنما سید علی شاہ گیلانی نے پاکستان اور بھارت میں سیز فائر کے بعد 28فروری کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’ڈی جی ایم اوز کے درمیان ہونے والے معاہدے کے بعد لائن آف کنٹرول پر توپیں خاموش ہو جائیں گی لیکن کیا کشمیر میں جاری خون ریزی بند ہو پائے گی؟‘‘ کچھ دن پہلے جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایک بیان دیا کہ ہمیں ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ سید علی گیلانی نے 22مارچ کو اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’’ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر بہتر تعلقات استوار کرنا اچھی سوچ ہے لیکن یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب تلخی پیدا کرنے کی وجہ باقی نہ رہے۔

ایک طرف کشمیری عوام ظلم کی چکی میں پستے رہیں اور دوسری طرف ہم خطے میں امن کی بھی توقع رکھیں… یہ کیسے ممکن ہے؟‘‘ سید علی گیلانی کے اس سوال کا جواب کوئی دے سکتا ہے یا نہیں؟

24 مارچ کو انگریزی اخبار ڈان میں پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری اور ایک بھارتی تھنک ٹینک کے سابقہ سربراہ رادھا کمار نے اپنے مشترکہ مضمون میں کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کو امن مذاکرات کا سلسلہ وہیں سے پھر شروع کرنا چاہئے جہاں پر 2007 میں پہنچا تھا۔

2007 میں جنرل پرویز مشرف نے مسئلہ کشمیر کا جو حل پیش کیا تھا وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کو بھلا کر لائن آف کنٹرول کو مستقل سرحد بنانا تھا جسے سید علی گیلانی سمیت آرپار کے سب بڑے کشمیری لیڈروں نے مسترد کر دیا تھا۔

اسی مسترد شدہ فارمولے کو دوبارہ امن کے نام پر کشمیریوں کیلئے قابلِ قبول نہیں بنایا جا سکتا۔ مودی کی طرف سے دکھائی جانے والی لچک کا مقصد مسئلہ کشمیر حل کرنا نہیں ہے۔ مودی صرف اور صرف نئی امریکی حکومت کی آشیرباد سے افغانستان میں ایک اہم کردار حاصل کرنا چاہتا ہے کیونکہ افغان حکومت طالبان سے امن مذاکرات کامیاب بنانے میں سنجیدہ نہیں۔

افغان حکومت بھارتی فوج کا کم از کم ایک بریگیڈ افغانستان لانا چاہتی ہے اور اگر بھارتی فوج افغانستان میں آ گئی تو امریکہ اس بھارتی فوج کی حفاظت کی ضمانت بھی پاکستان سے طلب کرے گا۔

کچھ دوستوں کا خیال ہے کہ مریم اور بلاول کی لڑائی کا عمران خان کو بڑا فائدہ ہوگا اور اب وہ کشمیر پر جو چاہیں کریں گے۔ میں بڑی عاجزی سے اس رائے سے اتفاق نہیں کرتا۔ بلاول اور مریم کی لڑائی نہ بھی ہوتی تو کشمیریوں پر مشرف فارمولا مسلط کرنے کی کوشش ختم نہ ہوتی کیونکہ اس کوشش کے پیچھے کچھ عرب ممالک سرگرم ہیں۔

یہ عرب ممالک پاکستان کی حکومت اور اپوزیشن دونوں کو کنٹرول کرنے کی پوزیشن میں ہیں لیکن یاد رہے کہ 2007 میں بھی ایک این آر او ہو چکا تھا اس کے باوجود مشرف فارمولے پر عمل نہ ہو سکا۔ محب وطن ہار گئے تھے اور غدار جیت گئے تھے۔ مسئلہ کشمیر کا جو حل کشمیریوں کو قبول نہیں وہ خطے میں امن نہیں بدامنی کا باعث بنے گا۔