ظلم پھر ظلم ہے – Hina Pervez Butt

72

ملک میں گیس کا بحران پیدا کرنے کے بعدعاقبت نااندیش حکمران ایل این جی کا مہنگا معاہدہ کرکے وہی ٹرمینل استعمال کریں گے جن کو بنانا جرم تھا، اسی الزام پر شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل کو رگڑا لگایا گیا تھا، کرپشن کرپشن کی گردان کرنے والے ایل این جی کے اپنے کئے گئے طویل المیعاد معاہدے کو سستا ترین قرار دے رہے ہیں، اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس معاہدے سے تین سو ملین ڈالر کی بچت ہوگی، عوام جانتے ہیں کہ ن لیگ کا موقف درست تھا کہ پاکستانی معیشت کی بہتری کا انحصار بلا تعطل گیس کی فراہمی پر ہے، اس اَمر کو یقینی بنانے کیلئے طویل المدتی معاہدہ لازم و ملزوم تھا، پورا پاکستان یہ جانتا ہے کہ نااہل حکومت کے نابغے وزیر مشیر ہر فورم پر ن لیگ کے معاہدے کو مہنگا ترین قرار دے کر اس کی مخالفت کرتے رہے، سوشل میڈیا اور مین سٹریم میڈیا پر دن رات شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل کے خلاف ٹرولنگ کی گئی، ایک شخص دن رات کاغذ لہرایا کرتا تھا کہ میرے پاس ثبوت ہیں، وہ دن رات یہ بیان جاری کیا کرتا تھا کہ جلد شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل نیب کے شکنجے میں آ جائیں گے، جھوٹی میڈیا ٹرولنگ کے بعد آخرکار شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل دونوں کو ہی ایل این جی ٹرمینل بنانے اور مبینہ طور پر مہنگے معاہدے کرنے کے کیسوں میں ملوث کرلیا گیا، انہیں نیب کے چکر لگوائے گئے، لیکن ان کیسوں میں کچھ ہوتا تو نکلتا، شاہد خاقان عباسی تو نیب اور حکومت دونوں کو کھلے عام چیلنج کرتے رہے کہ میرے خلاف ریفرنس کی کھلی سماعت کی جائے اور ٹی وی پر نشر کی جائے لیکن کسی نے ہمت نہ کی۔ ساڑھے تین سال بعد نیب نے اسحاق ڈار کے خلاف ریفرنس بند کرنے کا فیصلہ کرکے بہتان تراشوں کے تابوت میں ایک اور کیل ٹھونک دیا ہے۔ان دانشمندوں کو کیا کہیں کہ جو بھی پتہ کھیلتے ہیں، وہ الٹا انہی کے خلاف ہو جاتا ہے۔ مریم نواز شریف کا نام ای سی ایل پر ڈال کر انہوں نے مسلم لیگ ن پر گویا احسان کیا کہ پارٹی کو ایسی بہادر شیرنی میسر آ گئی جس نے اپنی ماں کلثوم نواز شریف کی روایت کو دہراتے ہوئے تن تنہا چیلنج قبول کیا اور مسلم لیگ کے جلسوں میں نئی جان ڈال دی، ملک کے کونے کونے میں جہاں بھی مریم نواز شریف گئیں عوام نے انہیں سر آنکھوں پر بٹھایا۔ یہ میاں نواز شریف کی سیاست کو ختم کرنے نکلے تھے وہ تو ختم نہ ہوئی بلکہ الٹا مسلم لیگ کو نئی لیڈر میسر آگئی۔ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ اب اس شیرنی کو روکنا ان کے بس کی بات نہیں، اوپر سے حمزہ شہباز شریف ایک طویل قید سے ضمانت پر رہا ہو گئے ہیں، یعنی ایک اور ایک گیارہ کا معاملہ بن چکا ہے،اب میاں شہباز شریف کے قید سے باہر نکلنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں جس کے بعد ملکی سیاست نیا رخ اختیار کرے گی۔ سوچیں جب میاں نواز شریف وطن واپسی کا اعلان کریں گے تو کیسا زلزلہ برپا ہوگا؟ وطن عزیز میں احتساب کے نام پر لگایا گیا تماشہ طشت ازبام ہو گیا ہے، ساری عمر چھانگا مانگا سیاست کا ڈھول پیٹنے والوں نے عین سینیٹ انتخابات سے پہلے اپنے ارکان پارلیمنٹ کو ہوٹلوں میں نظربند کردیا، یہ سارا معاملہ بالکل اسی نہج پر جا پہنچا ہےجو ساحر لدھیانوی کی اس مشہور زمانہ نظم پر منطبق ہوتا ہے کہ ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے، خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا، خاک صحرا پہ جمے یا کف قاتل پہ جمے، فرقِ انصاف پہ یا پائے سلاسل پہ جمے، تیغ بیداد پہ یا لاشۂ بسمل پہ جمے، خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا، لاکھ بیٹھے کوئی چھپ چھپ کہ کمیں گاہوں میں، خون خود دیتا ہے جلادوں کے مسکن کا سراغ، سازشیں لاکھ اڑاتی رہیں ظلمت کی نقاب، لے کے ہر بوند نکلتی ہے ہتھیلی پہ چراغ، ظلم کی قسمت ناکارہ و رسوا سے کہو، جبر کی حکمت پرکار کے ایما سے کہو، محمل مجلس اقوام کی لیلیٰ سے کہو، خون دیوانہ ہے دامن پہ لپک سکتا ہے، شعلۂ تند ہے خرمن پہ لپک سکتا ہے، تم نے جس خون کو مقتل میں دبانا چاہا، آج وہ کوچہ و بازار میں آ نکلا ہے، کہیں شعلہ کہیں نعرہ کہیں پتھر بن کر، خون چلتا ہے تو رکتا نہیں سنگینوں سے، سر اٹھاتا ہے تو دبتا نہیں آئینوں سے، ظلم کی بات ہی کیا ظلم کی اوقات ہی کیا، ظلم بس ظلم ہے آغاز سے انجام تلک، خون پھر خون ہے سو شکل بدل سکتا ہے، ایسی شکلیں کہ مٹاؤ تو مٹائے نہ بنے، ایسے شعلے کہ بجھاؤ تو بجھائے نہ بنے، ایسے نعرے کہ دباؤ تو دبائے نہ بنے، ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے، خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا