صالحین کے گروہ کے پاس کون سا نسخہ ہے؟ – Yasir Pirzada

23

ایک منٹ کے لیے فرض کر لیں کہ کوئی معجزہ برپا ہو گیا ہے اور ملک میں صالحین کا گروہ برسر اقتدار آ گیا ہے۔ یہ بے حد نیک، مخلص، دیانتدار، متقی اور پرہیز گار بندے ہیںجنہیںمال و دولت، نمود و نمائش اور طاقت و اقتدار کی کوئی خواہش نہیں۔ یہ درویش صفت لوگ ہیں جنہیں بڑی مشکل سے اِس بات پر راضی کیا گیا ہے کہ آپ عنانِ اقتدار سنبھال لیں اور ملک کو مسائل کے گرداب سے نکال کر ترقی کی شاہراہ پر بگٹٹ ڈال دیں۔ہم اِس معجزے پر تبصرہ نہیںکریں گے کہ آیا صالحین کا ایسا کوئی گروہ ملک میں وجود بھی رکھتا ہے یا نہیں اور رکھتا ہے تو اسے کیسے برسر اقتدار لایا جا سکتا ہے؟فی الحال ہم یہ فرض کر لیتے ہیں کہ صالحین کا یہ گروہ مسند اقتدار پر بیٹھ چکا ہے اور کوئی دن جاتا ہے کہ ذوق خدائی سے سرشار اِن پراسرار بندوں کی ہیبت سے پہاڑ جیسے مافیا سمٹ کر رائی بن جائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ وہ کون سے ایسے فیصلے ہوں گے جو صالحین کا یہ گروہ کرے گااور جن سے ملک کی سمت فوری طور پردرست ہو جائے گی اور پھر کچھ ہی عرصے میں غربت اور افلاس کا خاتمہ ہو جائے گا۔

اِس سوال کا ایک ممکنہ جواب تو اُن افکار و نظریات کی روشنی میں ترتیب دیا جا سکتا ہے جن کا اظہار اِس قسم کے صالح حضرات اکثر اپنی تقاریر، مضامین اور گفتگو میں فرماتے ہیں۔مثلاً جن باتوں کو وہ معاشرے میں برائی کی اصل جڑ سمجھتے ہیں اُن میں فحاشی ،عریانی، سودی نظام، عورت مارچ، امریکی اور مغربی ثقافت کی ترویج، مخلوط تعلیم وغیرہ شامل ہیں۔ہم اِس بحث میں نہیں پڑتے کہ یہ نقطہ نظر درست ہے یا نہیں بلکہ اپنے تخیلاتی تجربے کی خاطر اسے من و عن درست تسلیم کر لیتے ہیں۔ ایسی صورت میں ہمارے صالحین کامثالی گروہ اپنے اقتدار کے پہلے سو دنوں میں جو فوری اقدامات کرے گا اُن میں شرح سود کو صفر پر لانا، مخلوط تعلیم اور خواتین کے بے پردہ گھر سے باہر نکلنے اورعورت مارچ پر پابندی لگاناشامل ہوگا۔قطع نظر اِس بات سے کہ اِن اقدامات کو عوام کے طبقات کی تائید حاصل ہوگی یا نہیں یا صفر شرح سود کے بعد ہم اپنی عالمی ادائیگیوں سے کیسے بری الذمہ ہو پائیںگے،ہم یہ فرض کر لیتے ہیں کہ صالحین کے گروہ نے ملک کے طول و عرض میں یہ پابندیاں لگا دی ہیں۔پھر کیا ہوگا؟ کیا اِس کے نتیجے میں ہمارے تمام پیچیدہ معاشی اور سماجی، مقامی اور بین الاقوامی مسائل حل ہو جائیں گے ؟ایک دودھ پیتا بچہ بھی جانتا ہے کہ اِن اقدامات کے نتیجے میں کوئی بھی مسئلہ حل نہیں ہوگاکیونکہ اگر ایسا ہوتا تو افغانستان کے تمام مسائل ’’صالحین کی حکومت ‘‘میں ختم ہو جاتے جو کئی برس تک افغانستان میں قائم رہی جہاں مخلوط تعلیم اور عورت کی بے پردگی کا کوئی تصور نہیں تھا۔ ویسے افغانستان جانے کی بھی ضرورت نہیں، خود ہمارے ملک میں صالحین کی یہ حکومت مرد آہن کی سربراہی میں پوری قوت اور جبروت کے ساتھ گیارہ برس تک قائم رہی، اِس دوران وہ مذہبی جماعت اقتدار کا حصہ تھی جس کے پاس مبینہ طور پر ایک مثالی نظامِ حکومت کا پورا بلیو پرنٹ موجود تھا۔مگر مطلق العنانیت کے گیارہ برس جب ختم ہوئے تو پتا چلا کہ ملک کے مسائل کیا ختم ہونے ہیں الٹا ملک دہشت گردی اور انتہا پسندی کی آماجگاہ بن چکا ہے۔اگر ان دوستوںسے بحث کی جائے تو جواب میں کہتے ہیں کہ اصل میں سارا نظام ہی ناکارہ اور بوسیدہ ہے، جب تک اسے جڑ سے اکھاڑ کر نہیں پھینکا جائے گا اُس وقت تک کسی مثبت بات کی امید رکھنا عبث ہے۔ یہ دلیل بھی بودی ہے کیونکہ ہمارا تو مفروضہ ہی اِس بات سے شروع ہوا تھا کہ ناکارہ نظام جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا گیا ہے اور کسی طر ح صالحین کا گروہ اقتدار میں آ چکا ہے، اب وہ بتائے کہ کیا کرے گا؟ یہ لوگ گورننس کا ایسا کون سا خاکہ پیش کریں گے جس کی بدولت وہ ملک کے مسائل حل کر دیں گے؟

اس کا ایک جواب مولانا مودودی کی کتاب ’اسلام کا نظا م حیات ‘ میں موجود ہے۔ ’اسلام کا سیاسی نظام‘والے مختصر سے باب میں مولانا نے بڑی صراحت کے ساتھ اسلامی حکومت کا خاکہ بیان کیا ہے۔ مولانا کی اِس سیاسی اسلام کی تشریح سے نہ صرف اُن کے ہمعصر علمائے دین بلکہ دیگر جید علما ء بھی اختلاف کرتے ہیں لیکن فی الحال اگر ہم مولانا مودودی کی دین کی تعبیر کو درست مان لیں تو جمہوریت کا جو خاکہ مولانا نے پیش کیا ،اُس میں اور بالغ رائے دہی کے جدید تصور میں ،سوائے اِس کے اور کوئی فرق نہیں کہ حاکمیت صرف اللہ کی ہوگی او ر یہ کہ ریاست میں صرف اللہ کا قانون چلے گا۔ اب یہ بات ہمارے آئین میں پہلے ہی درج ہے اور اسلامی نظریاتی کونسل تمام قوانین کی پڑتال کرکے اِس بات کی تصدیق کر چکی ہے کہ ملک میں کوئی ایسا قانون نافذ نہیں جو خلاف مذہب ہو۔یہاں سے ایک نیا سوال جنم لیتا ہے کہ اگر ایسا ہے تو پھر مسئلہ کہاں ہے؟ ہمارے مذہبی دوست اِس ضمن میں یہ دلیل دیتے ہیں کہ محض آئین میں لکھنے سے کوئی ریاست اسلامی نہیں ہو جاتی۔ اُن کی یہ بات درست ہے بالکل اسی طرح جیسے محض آئین میں اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں لکھ دینے سے اقلیتوں کوخود بخود حقوق نہیں مل جاتے۔ لیکن جب اُن سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ آئین میں دیئے گئے اصولوں پر عمل کیسے کیا جائے تو اِس کا کوئی ٹھوس جواب دینے سے وہ قاصر نظر آتے ہیں۔ اِس کلیدی سوال کا جواب جدید معاشروں کے طرز حکمرانی کا مطالعہ کرنے سے ملے گا۔دنیا میں ہم سے کہیں بد تر مسائل اور کم تر وسائل والے ممالک نے ہماری آنکھو ں کے سامنے ترقی کی ہے مگر اِن ممالک نے یہ ترقی مسائل کو اُن کی اصل جڑ سے اکھاڑ کر کی نہ کہ فروعی باتوں پر پابندی لگا کر۔ اِن ممالک نے جدید جمہوری معاشروں کی بنیاد ڈالی اور پھر اس جمہوری روایت کو اپنے ہاں وہ تقدس دیا جو کبھی چرچ کو حاصل تھا۔ صدیوں کی لڑائی کے بعد کہیں جا کر انہیں وہ آزادی ملی جس کے لیے ہم آج بھی آنکھوں میں خواب لیے بیٹھے ہیں۔نہ جانے یہ خواب کب شرمندہ تعبیر ہوگا!