سیاسی کھیل تماشہ – Mazhar Abbas

22

آج کل سنا ہے راولپنڈی، اسلام آباد میں سردی بہت ہے۔ ایسے میں مولانا فضل الرحمٰن اور حزبِ اختلاف کو ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کی ’’چائے پانی‘‘ کی درخواست کو فوراً قبول کر لینا چاہئے۔

اِس سرد موسم میں سیاست کی گرمی نے مزہ دوبالا کردیا ہے مگر حیرت ہے جو کام PDMکے حامیوں نے اسلام آباد میں کرنا تھا، وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی امریکی دارالحکومت میں کررہے ہیں۔ فرق اتنا ضرور آیا ہے کہ وہاں ہزاروں کی تعداد میں نیشنل گارڈز طلب کرلئے گئے ہیں اور یہاں ’’ریڈزون‘‘ میں مظاہرہ کرنیکی اجازت دے دی گئی۔

جمہوریت تو آگئی نا۔ رہی بات سیاست کی تو ’’براڈشیٹ‘‘ نے پورے نظام کو ہی چارج شیٹ کردیا ہے، کیا مشرف اور کیا نواز، زرداری یہاں تو موجودہ حکمرانوں پر بھی سوالات اٹھ گئے۔

میاں صاحب اور کمپنی نے تو سب سے پہلے لندن کورٹ کے فیصلے کو اپنی بےگناہی سے تعبیر کردیا حالانکہ ان کی اپیل کا فیصلہ آنا باقی ہے۔

دوسری طرف ’’براڈشیٹ‘‘ یا براڈ چارج شیٹ نے یہ بھی ثابت کردیا کہ سیاست میں کیسے ’’مداخلت‘‘ ہوتی رہی ہے۔ کون سا الیکشن ہے حضور جس میں انتخابات سے پہلے اور بعد میں معاملات کہیں اور نہیں طے ہوتے؟ کراچی کا شمارتو خیر اب کسی گنتی میں ہی نہیں، یقین نہ آئے تو حکومتی اتحادیوں سے ہی پوچھ لیں یا پاک سرزمین پارٹی والوں سے معلوم کر لیں۔ جی، میں 2018کے الیکشن کی بات کررہا ہوں مگر یہاں بات پنجاب کی ہورہی ہے۔

اب چوہدری برادران کتنے ہی عمران خان سے ناراض یا عثمان بزدار سے بےزار ہوں، مجال ہے PDMکی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھیں۔ رہ گئی بات باقی ماندہ اپوزیشن کی تو اُن کے لئے ایک زرداری صاحب ہی کافی ہیں۔ کہاں حزبِ اختلاف حکومت گرانے نکلی تھی اور کہاں خود کو بچانا مشکل ہورہا ہے۔ زرداری صاحب نے استعفوں سے پیچھے ہٹ کر نہ صرف اپنی سندھ حکومت بچا لی بلکہ سینٹ انتخابات میں حصہ لے کر تحریک کو ویسے ہی بٹھا دیا۔ اب کم از کم وزیراعظم عمران خان کو ان کا شکریہ تو ادا کرنا چاہئے۔

خان صاحب بھی کیا کریں؟ تحریک انصاف کو ابھی ایک دریا اور پار کرنا ہے اور وہ ہے فارن فنڈنگ کا۔ ویسے میں الیکشن کمیشن پر بھی حیران ہوں۔ شاید ہی اِس کمیشن کی تاریخ میں کسی درخواست پر چار سال لگا دیے گئے ہوں۔ حزبِ اختلاف کا احتجاج اپنی جگہ، معاملہ اتنا آسان ہوتا تو اتنے سال نہ لگتے۔

کاش خان صاحب 2013میں پارٹی الیکشن میں ہونے والی مبینہ دھاندلی پر جسٹس وجیہہ الدین کی رپورٹ یا بعد میں تسنیم نورانی کی بات ہی مان لیتے تو آج PTIکے کئی بانی رکن اُن کے ساتھ ہوتے۔

اب رہ گئی بات پارٹی الیکشن کی تو بدقسمتی سے خان صاحب بھی اِسی روش پر چل پڑے جس پر پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کاربند ہیں، وہاں بھی نامزدگیوں پر گزارا ہو رہا ہے اور یہاں بھی۔

اب دیکھیں نا سابق صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری سمیت تمام عہدیدار کتنے سخت مقابلے کے بعد ’’بلامقابلہ‘‘ منتخب ہو گئے۔ میں نے جناب فرحت اللہ بابر کو دوسرے دن پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین کا سیکرٹری جنرل نامزد ہونے پر مبارک باد دی تو بولے، ’’مجھے پتا تھا کہ تم ان چند لوگوں میں سے ہو جو فون کرکے طنزیہ مبارک باد دو گے‘‘۔

میں نے ازراہ مذاق کہا ’’سر جی، کبھی الیکشن بھی کرا دیں‘‘۔ اب میں شریف برادران کی بات اس لئے نہیں کررہا کہ وہاں تو یہ سلسلہ نیچے خاندان تک پہنچ گیا ہے۔ جب اس ملک میں سیاست اور ریاست اس طرح چلے گی تو قیادت کہاں سے آئے گی؟ بلاول یا مریم بھی وہی کررہے ہیں جو ان کے بڑوں نے کیا۔ ہاں ایک زمانہ تھا جب کم از کم پی پی پی میں وارڈ اور یونٹ کی سطح پر انتخابات ہوتے تھے۔

ایک بار تو 1987میں پنجاب میں ڈسٹرکٹ سطح تک بھی الیکشن ہوئے مگر پھر کوئی انجانا خوف ان جماعتوں میں جمہوریت لانے سے روک دیتا ہے لیکن ہمارے کپتان تو یہ کر سکتے تھے اور اب بھی کر سکتے ہیں۔ پارٹی میں ہر سطح تک الیکشن کروائیں نئی قیادت کو آگے لائیں۔

یہی ہماری سیاسی جماعتوں کا المیہ ہے۔ ملک میں جمہوریت چاہتے ہیں اور گھر میں آمریت قائم کی ہوئی ہے اور کچھ نہیں تو پڑوسی ملک پر ہی ایک نگاہ ڈال لیں، کانگریس آج کہاں کھڑی ہے۔ بنگلہ دیش میں بھی صورت حال اس سے مختلف نہیں اور نہ ہی سری لنکا میں۔

اس منفی یا منافقت کی سیاست کے اثرات نیچے تک جاتے ہیں شاید یہی وجہ ہے کہ آج ان تمام جماعتوں کے سوشل میڈیا سیل چلانے والوں پر نظر ڈالیں اور جو بحث اور زبان استعمال ہوتی ہے اسے دیکھ کر مجھے تو خاصی مایوسی ہوتی ہے۔

رہ گئی بات ’’جمہوریت‘‘ کی تو اب اس کی ذمہ داری بھی انہوں نے سنبھال لی ہے جنہوں نے اصل میں ملک کی باگ ڈور سنبھالی ہوئی ہے۔ سیاست کاروبار بن جائے تو نفع نقصان دیکھ کر فیصلے ہوتے ہیں۔ اب سیاست میں مداخلت تو وہاں ہو جہاں کوئی باہر سے آیا ہو۔

اب چالیس سال میں جیسے لیڈر اور کارکن آپ نے پیدا کئے ویسے ہی نتائج سامنے آرہے ہیں، چاہے پانامہ کی صورت میں ہوں یا براڈ شیٹ کی۔ سیاست میں ’’کرپٹ‘‘ لوگوں کو لانا، حکومتیں بنانا اور گرانا ضیاء، بیگ، درانی، گل، اسحاق خان یا بعد میں آنے والے مشرف کی بدولت ممکن ہوا۔ اِس سے زیادہ بس اور رہنے دیں۔

بس سیاست اِس ملک میں اب کسی کھیل تماشے سے کم نہیں جہاں سیاست دان کسی مہرے سے زیادہ نہیں۔ کبھی کبھی ’’مہرہ‘‘ میں تھوڑا گیپ آجائے تو علاج تو کرنا یا کروانا ہی پڑتا ہے ورنہ پھر بات آپریشن تک چلی جاتی ہے۔