سیاسی ’انا‘ زوال کا باعث- Mazhar Abbas

19

ایک ’انا‘ ہی تو آڑے آ گئی تھی، 12مئی کو خون کی ہولی کھیلی، یہ سوچے بغیر کہ یہ آگے چل کر زوال کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ کچھ ایسا ہی ہوا اور ایک سال میں اس وقت کے طاقتور ترین شخص کو ایوانِ صدر چھوڑنا پڑا۔ یہی ابتدا تھی اس وقت کی سب سے منظم جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے زوال کی جو اس ’انا‘ کی بھینٹ چڑھ گئی۔ آج ہی کے دن 14سال پہلے 2007 کو قصرِ شاہی سے یہ حکم صادر ہوا کہ معزول چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کو کراچی ایئر پورٹ سے سندھ ہائی کورٹ تک ریلی کی شکل میں نہ جانے دیا جائے۔ یہ وہ وقت تھا جب ’’انا‘‘ کی بحالی کے لئے ملک بھر میں وکیل، سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتیں تحریک چلا رہی تھیں۔

10 یا 11مئی کو گورنر ہائوس میں اس سلسلے میں اہم اجلاس ہوتا ہے جس میں گورنر کے علاوہ چیف سیکرٹری، ہوم سیکرٹری، آئی جی پولیس اور ایجنسیوں کے سیکٹر کمانڈر شریک ہوتے ہیں اور انٹیلی جنس رپورٹ کی بنیاد پر صدر صاحب کو کانفرنس کال کے ذریعے مشورہ دیا جاتا ہے کہ ریلی کو روکنے کی صورت میں خون خرابے کا خدشہ ہے۔ پہلے وہ نیم رضا مند ہو جاتے ہیں مگر پھر شاید ’انا‘ آڑے آ جاتی ہے اور فیصلہ ہوتا ہے کہ چوہدری صاحب کو ایئرپورٹ سے باہر نہ آنے دیا جائے۔ اس کا ایک آسان طریقہ تو یہ ہو سکتا تھا کہ جہاز ہی نہ آنے دیا جاتا۔ دوسرے تمام اقدام انتظامی نوعیت کے کئے جاتے مگر ایم کیو ایم جس کا بظاہر چیف جسٹس سے کوئی تنازع نہیں تھا، کو استعمال کیا جاتا ہے جو ظاہر ہے تصادم کا باعث بنا اور کئی قیمتی جانیں گئیں۔ اُسی شام اسلام آباد میں ایوان صدر کے باہر ’انا‘ کی تسکین پوری ہونے کا جشن منایا گیا۔

بہرحال قدرت کا اپنا نظام ہے۔ 18 اگست 2008 کو اسی حکمران کی بھرائی ہوئی آواز میں پوری قوم صدارت سے استعفیٰ دینا سنتی ہے۔ بات یہیں تک رہتی تو سیاسی مجبوری کہا جاتا مگر اس سے چند ماہ پہلے 2008 کے الیکشن کے بعد مشرف صاحب اپنے ایک خصوصی ایلچی کو افتخار چوہدری صاحب کے پاس اس پیغام کے ساتھ بھیجتے ہیں کہ وہ آپ کو ایک صدارتی نوٹیفکیشن کے ذریعے بحال کرنے کو تیار ہیں۔ چوہدری صاحب سے ’نوٹیفکیشن‘ کی نوک پلک درست کرنے کی درخواست کی گئی۔ اُنہوں نے یہ پڑھنے کے بعد شکریہ کے ساتھ یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ اس میں وزیراعظم کی ایڈوائس شامل نہیں، جو ایک غیر آئینی اقدام ہوگا۔

ایم کیو ایم نے اپنے 40 سال میں مشرف سے بہترین دور نہیں دیکھا، خاص طور پر 2002 سے 2008 تک مگر 12مئی کو جو کچھ ہوا اس نے ایم کیو ایم کو واپس 90کی دہائی میں لے جا کر کھڑا کر دیا۔ 2008 کے بعد سے متحدہ کا زوال شروع ہو گیا۔ 2013 کے الیکشن کے بعد تو معاملات اتنے بگڑ گئے کہ روایتی طور پر بھی سابق وزیراعظم نواز شریف نے لندن فون کیا نہ ریسیو کیا اور نہ ہی سابق صدر آصف زرداری نے چند سال پہلے کی طرح 90عزیز آباد کا دورہ کیا۔ 22اگست 2016کو رہی سہی کسر بھی پوری ہو گئی اور ایک پاکستان مخالف نعرے نے پارٹی کو ایم کیو ایم (لندن) اور ایم کیو ایم (پاکستان) میں تقسیم کر دیا۔ یہ اقدام پوری پارٹی کو لے بیٹھا۔ 18سیٹیں جیتنے والی جماعت 4 سیٹیوں پر آ گئی ہے۔ 2013 میں پاکستان تحریک انصاف کراچی سے 8لاکھ ووٹ لے کر ایک ایم این اے کی نشست جیتی، 2018میں کراچی سے ’کلین سوئپ‘ کر گئی۔ ایم کیو ایم شور کرتی ہے مگر پی ٹی آئی کی اتحادی بن کر اپنی ساکھ کو مزید نقصان پہنچا کر کیونکہ اس طرح سیٹیں چھیننے کا بیانیہ کمزور پڑ جاتا ہے۔

کراچی میں اس وقت ایک بڑا سیاسی خلا موجود ہے جو بہرحال آئندہ الیکشن میں کوئی نہ کوئی تو پورا کرے گا۔ شاید کسی ایک جماعت کو اب کلین سوئپ کی سہولت میسر نہ آ سکے۔ یہ شہر پہلے ہی کئی حکمرانوں اور رہنمائوں کی ’انا‘ کی بھینٹ چڑھ چکا ہے جس کی ایک بڑی وجہ غیرمنتخب لوگوں کے فیصلے ہیں تو دوسری طرف منتخب ہونے کے بعد ہر ایم این اے اور ایم پی اے یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ وہ ’اشرافیہ‘ میں شامل ہو گیا ہے۔ میں نے بڑے بڑے طاقتور حکمرانوں کو ’انا‘ کی خاطر عرش سے فرش پر آتے دیکھا ہے۔ آمر تو خیر ’انا‘ کی خاطر حدیں پار کر دیتے ہیں مگر جمہوری لوگ بھی حکمران بن کر آمر ہو جاتے ہیں۔ 1977میں بھٹو صاحب الیکشن جیت گئے تھے۔ اپوزیشن کے مطالبہ پر فوراً دوبارہ الیکشن کروادیتے تو بھاری اکثریت سے جیتتے۔ راضی تب ہوئے جب بہت خون خرابہ ہو چکا تھا۔ جنرل ضیاء نے بھٹو کی پھانسی کو ’انا‘ کا مسئلہ بنا لیا تھا۔ مشرف کے آڑے بھی ’انا‘ آ گئی اور نواز شریف کے مشرف کو سزا دینے کے پیچھے آرٹیکل 4 کم اور ’انا‘ زیادہ تھی۔ آج اپوزیشن سے مسلسل تنائو کے پیچھے بھی کپتان کی ’انا‘ ہے۔ بہتر اور بڑے مقاصد کی خاطر تھوڑی دیر کے لئے ہی سہی دونوں حکومت اور اپوزیشن اپنی اپنی ’انا‘ کو ایک طرف رکھ دیں ورنہ تاریخ گواہ ہے ’انا‘ اصل زوال کا باعث بنتی ہے۔ شاید 12مئی کا یہی سبق ہے۔