سونامی لہروں کی نذر ہوتا پاکستان – Saleem Safi

25

میدانِ صحافت و سیاست میں جاری لا یعنی مکالمے اور مباحثے دیکھتا ہوں تو ماضی کا وہ بغداد یاد آجاتا ہے جس کے دروازے پر تاتاری دستک دے رہے تھے لیکن وہاں کے صاحبانِ اختیار اور اہلِ دانش غیرضروری مناظروں میں مصروف تھے۔ فلاں وزیر ہو، فلاں نہ ہو، فلاں غدار، فلاں محبِ وطن، زرداری کی ڈیل ہو گئی، نون لیگ کی ڈیل ہوگی یا نہیں وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب فضولیات ہیں۔ یہ سب اس ملک کو یہاں تک پہنچانے میں کوئی نہ کوئی کردار ادا کر چکی ہیں اور کر رہی ہیں لیکن اصل مسائل اور چیلنجز اور تباہیاں کچھ اور ہیں، جن کا سیاست اور صحافت کے میدانوں میں ذکر ہی نہیں ہورہا۔

اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ معیشت ہے۔ ایسی اقتصادی بدحالی اور تباہی کم از کم میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھی۔ یہ اس ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا کہ معاشی انڈیکیٹرز میں پاکستان، افغانستان سے بھی نیچے چلا گیا اور تاریخ میں ہم یہ پہلی مرتبہ دیکھ رہے ہیں کہ کسی حکومت کا اپنا وزیر خزانہ کہہ رہا ہے کہ ہمارے دور معیشت تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے۔ شوکت ترین کہہ رہے ہیں کہ ان کی حکومت کا اگلے دو سال کے لئے ٹارگٹ یہ ہے کہ کسی طریقے سے جی ڈی پی گروتھ پرانے پاکستان کی شرح یعنی پانچ فیصد پر لے جائیں لیکن المیہ یہ ہے کہ ایسا پھر بھی ممکن نہیں کیونکہ اسد عمر ، حفیظ شیخ اور نیب وغیرہ نے معیشت کا جس طرح بیڑہ غرق کردیا ہے، اس کے بعد پچاس شوکت ترین مل کر بھی اگلے دو برسوں میں پاکستان کو معاشی میدان میں 2018 کی حالت پر واپس نہیں لاسکتے۔

سونامی سرکار کے دور میں ایک اور بڑی تباہی سفارتی محاذ پر ہوئی۔ آصف زرداری اور جنرل کیانی کے دور میں ایک شعوری سفر پاکستان نے شروع کیا تھا کہ اسٹرٹیجک، دفاعی اور معاشی حوالوں سے اپنا رخ امریکہ کی بجائے چین اور روس کی طرف موڑنا ہے۔ نواز شریف کے دور میں یہ سفر تیز تر ہوا۔ موجودہ حکومت نے امریکہ کی خاطر یا پھر نواز شریف کی نفرت میں چین کے اعتماد کو شدید ٹھیس پہنچائی۔ سی پیک کو پشاور بی آر ٹی میں بدل دیا۔ ادھر سونامی سرکار پہلے سعودی عرب پھر ترکی و ایران اور اب پھر سعودی عرب کی طرف جانے کے لئے جو چھلانگیں لگاتی رہی، اس کی وجہ سے ان ممالک میں بھی اس وقت پاکستان کی نہ ادھر کے رہے، نہ ادھر کے رہے، والی کیفیت ہے۔ ایک اور حماقت ٹرمپ اور مودی کے ارادوں کے غلط اندازے لگا کرکی گئی۔ انڈیا نے دھوکہ دے کر کشمیر کی حیثیت بدل دی بلکہ ہڑپ کرلیا لیکن امریکہ نے ہمارا ساتھ دیا اور نہ عرب ممالک نے۔ دوسری طرف پاکستان اقتصادی حوالوں سے اس حالت پر آگیا ہے کہ مزید اگر انڈیا کی وجہ سے اسی طرح دوست ممالک سے ناراض ہوتا رہا، تو خود اس کا وجود خطرے میں پڑ جاتا ہے۔

ایک اور تباہی جو آتی نظر آرہی ہے، وہ افغانستان کی طرف سے ہے۔ مختصر یہ کہ اس وقت صرف پندرہ بیس فیصد امکان ہے کہ افغانستان میں کوئی ڈیل ہوجائے لیکن اسی پچاسی فیصد خطرہ وہاں جنگ اور تباہی کا ہے جو پاکستان کے لئے بھی تباہی ہے۔ ایک طرف اس تباہی کے اثرات پاکستان پر پڑیں گے تو دوسری طرف افغان الزام لگائیں گے کہ ہمارے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ پاکستان کی وجہ سے ہوا۔ تیسری طرف امریکہ اور نیٹو اپنی ناکامی اور افغانستان کو تباہی کے سپرد کرنے کے لئے پاکستان کو قربانی کا بکرا بنا کر یہ عذر پیش کریں گے کہ یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ پاکستان نے طالبان کو شہہ دی۔ ایک اور سنگین ترین چیلنج مذہبی انتہاپسندی کا ہے۔ پاکستان ابھی انتہا پسندوں، طالبان اور القاعدہ سے پوری طرح نہیں نمٹا اور افغانستان کے حالات کی وجہ سے پاکستان کے اندر بھی ان کی دوبارہ تقویت کا قوی امکان ہے لیکن سونامی برپا کرنے اور پھر سونامی سرکار کی بقا کے لئے جس طرح ناموس رسالت ﷺ کے حساس ترین ایشو کو بے حسی کے ساتھ ڈیل کیا گیا، اس کی وجہ سے پاکستان میں بریلوی مکتب فکر کے بعض حلقے بھی انتہاپسندی کی طرف جانے لگے ہیں اور دقت نظر سے دیکھا جائے تو یہ خطرہ طالبان اور القاعدہ سے کئی گنا زیادہ سنگین ہے۔

سب سے بڑا چیلنج اور تباہی کا موجب یہ ہے کہ یہ تباہیاں اس نظام کے ہاتھوں ہوئیں، جسے برپا کرنے کے لئے مذہبی، سیاسی اور قوم پرست ہر طرح کی جماعتوں کو رسوا اور ناراض کرنے کی قیمت ادا کی گئی۔ اس سونامی کی خاطر عدلیہ اور میڈیا کو رسوا اور تباہ کیا گیا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اسی کی خاطر قومی سلامتی کے اداروں کو متنازع بنایا گیا۔ اب جن چیلنجز اور تباہیوں کا سامنا ہے، ان میں پاکستان کو بچانے کا واحد راستہ وسیع تر قومی ہم آہنگی اور ایک ایسے نظام کی تشکیل ہے کہ جس میں نفرتوں اور تعصبات کا خاتمہ ہو اور ہر فرد اور ادارہ اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر اپنی اصل ذمہ داری کی طرف واپس لوٹ جائے لیکن بدقسمتی سے سونامی سرکار اسے اپنے لئے موت سمجھتی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اس سرکار کے سرخیل جس طرح باقی ہر معاملے میں ناکام اور نااہل ہیں، اتنے ہی وہ مفاہمت کی ہر کوشش کو سبوتاژ کرنے میں کمال کی حد تک چانکیہ اور میکاولی کی طرح ماہر ہیں۔ چنانچہ جب بھی قومی اداروں کی طرف سے دیوار سے لگائے گئے سیاسی عناصر کے ساتھ مفاہمت کی کوئی کوشش کی جاتی ہے تو وہ اس سارے عمل کو سبوتاژ کردیتے ہیں اور اب تو نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ اس بنیاد پر خود ان سے بھی سینگ اڑانے کی تیاری کررہے ہیں۔ ملک کے حالات مفاہمت کا تقاضا کررہے ہیں لیکن ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا شخص، جس کی سوچ ذات سے شروع اور ذات پر ختم ہوتی ہے، اسے اپنی سیاسی موت کا پروانہ سمجھتا ہے۔ پاکستان (خاکم بدہن) سونامی کی لہروں کی نذر ہوکر ڈوبتا جارہا ہے جبکہ ہر ادارہ اور ہر اہم فرد اپنی اپنی جگہ پھنس کر حرکت کرنے سے قاصر ہے۔ یا ﷲ تو ہی اس ملک کی حفاظت فرما، آمین!