سول سروس کا ’’زوال‘‘- Yasir Pirzada

25

ہماری سول سروس کے ایک افسر ہیں، صاحب کردار، کھرے اور دبنگ،قانونی اصول و ضوابط کا چلتا پھرتا انسائیکلو پیڈیا ہیں، آئین کی کوئی ایسی شق نہیں جو انہیں زبانی یاد نہ ہو اور سول سروس کا کوئی ایسا قانون نہیں جو انہوں نے گھول کر نہ پیا ہو۔ اب ریٹائر ہو چکے ہیں۔ ایک مرتبہ میں نے اُن سے پوچھا کہ آپ کی اِس قابلیت کا راز کیا ہے؟ کافی دیر تک وہ کسر نفسی سے کام لیتے رہے پھر میرے اصرار پر انہوں نے یہ واقعہ سنایا۔یہ 31 اکتوبر 1971 کی شام تھی جب انہوں نے بطور ایک نوجوان افسر کے سول سروسز اکیڈمی میں رپورٹ کیا۔ رسمی کارروائی مکمل ہونے کے بعد اگلے روز بعد دوپہر انہیں ڈائریکٹر مرحوم سید قاسم رضوی سے ملاقات کے لئے وقت بتایا گیا۔ملاقات میں انہیںلاہور میں تعینات سروس کے چند معتبر سینئر افسران اور جج صاحبان کی فہرست دی گئی تاکہ ان میں سے دو یا تین ’سرکاری انکلز‘ کا انتخاب کرلیں۔مذکورہ افسر نے فہرست میں شامل ہائی کورٹ کے دو جج صاحبان اور ایک صوبائی سیکریٹری کے نام پر نشان لگا دیا۔ اِن میں سے ایک جج صاحب سے پہلی ملاقات کا اہتمام اتوار کے لئے طے کروادیا گیا۔نوجوان افسر جج صاحب سے ملنے گیا تو وہ بہت تپاک سے ملے۔ اُن کی نشست لائبریری میں ہوئی، یہ جان کر خوشی کم اور حیرانی زیادہ ہوئی کہ انہوں نے آئندہ آنے کے لئے وقت لینے کی ضرورت سے استثنیٰ دے دیا بشرطیکہ مناسب وقت پر آئیں۔ساتھ ہی انہوں نے لائبریری استعمال کرنے کی مکمل آزادی بھی دے دی، بس ایک ڈائری میں اندراج کرنا ہوتا کہ فلاں کتاب پڑھنے کی غرض سے نکالی ہے۔ نوجوان افسر کو وقت کی مناسبت سے فیملی کے ساتھ کھانے اور چائے وغیرہ میں گھر کے فرد کی طرح شمولیت کرنا ہوتی۔بعض اوقات ایسا بھی ہوتا کہ جج انکل فیصلہ لکھوارہے ہوتے تو ’’میں وارد ہو جاتا، وہ مجھے بیٹھنے کا کہہ کرا سٹینو گرافر کو ڈکٹیشن جاری رکھتے جبکہ مجھے کوئی شائع شدہ عدالتی فیصلہ پڑھنے کے لئے تھما دیتے،میں سوال لکھ لیتا جو بعد میں پوچھ لیتا۔یہ خاموش نشستیں اکثر خاصی طویل مگر بہت ہی مفید رہتیں۔اگلی مارچ کے اوائل تک یہ سلسلہ جاری رہا۔14 مارچ 1972کوہمیں خبر ملی کہ ڈائریکٹر رضوی صاحب مرحوم اُن 1300 افسران میں شامل ہیں جنہیں مارشل لا کے تحت جبری طور پر برخاست کر دیا گیاتھا۔ اکیڈمی سے رخصت ہونےکے بعد انہوں نے کیمپس کی پچھلی آبادی میں ایک انیکسی کرائے پر لے لی۔اکثر اوقات رات کے کھانے کے بعد قہوے پر رضوی صاحب کے گھر پر نشست ہوتی‘‘۔مذکورہ افسر بتاتے ہیں کہ’’ ہماری تربیت مکمل ہونے تک یہ سلسلہ جاری رہاتاہم ان ملاقاتوں میںایک مرتبہ بھی رضوی صاحب کے منہ سے بھٹو صاحب کے بارے ایک منفی لفظ نہیں سنا گو کہ کئی بار دبیز عینک کے پیچھے ڈبڈباتی آنکھوں میں ایک چمک ضرور دیکھی۔اکثر سوچتا ہوں کہ اپنے والدین، اساتذہ اور ان غیر رسمی درسگاہوںسے اگر کماحقہ استفادہ نہ کیا ہوتا تو عملی زندگی میں ان کی پیشہ ورانہ مہارت اور کردار کی وہ مشعل میسر نہ ہوتی جس کی لو کی بدولت زندگی میںمشکلات کا سامنا کرنے کی ہمت مجھ میں پیدا ہوئی‘‘۔

ستّر کی دہائی کی جو روایت میں نے بیان کی ہے وہ اکادمی میں کب کی متروک ہو چکی، اب کسی جج صاحب کے پاس وقت ہے اور نہ کسی سیکریٹری کے پاس کہ نوجوان افسر کو چار پانچ ماہ کے لیے اپنے ساتھ نتھی کرلے اور اُس کی تربیت میں اپنا حصہ ڈالے۔بظاہر یوں لگتا ہے جیسے معاشرے کے دیگر طبقات کی طرح سول سروس بھی زوال کا شکار ہے، آئے روز ہم بدعنوانی کے قصے سنتے ہیں، نا اہل افسران کو پر شکوہ دفاتر میں بیٹھے دیکھتے ہیں اور نالائق لوگوں کو گریڈ بائیس میں ترقی بھی ہماری آنکھوں کے سامنے ملتی ہے۔ ان تمام باتو ں نے عوام کی نظر میں سول سروس کا تاثر برباد کرکے رکھ دیا ہے،رہی سہی کسر سوشل میڈیا نے پوری کر دی ہے، آئے روز وہاں کسی نہ کسی افسر کی بدتمیزی کی ویڈیو وائرل ہوئی ہوتی ہے یا اُس کے شاہانہ ٹھاٹھ کی تصاویر پر عوام تبرا کرتے نظر آتے ہیں۔ سول سرونٹس سے پوچھو تو اُ ن کے پاس اپنے دفاع میں تاویلوں کے انبار ہوتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ نہ ہمیں آئینی تحفظ حاصل رہا اور نہ ہماری تنخواہ وہ رہی جو ستّر کی دہائی میں ہوا کرتی تھی، آ ج کل ہماری قابلیت اور تجربے کے برابر کے افسر کو نجی شعبے میں ہم سے چھ سے دس گنا زیادہ تنخواہ ملتی ہے اور کام ہم اُن سے بہتر کرتے ہیں۔ ہر چند کہ یہ مشاہدہ حق کی گفتگو ہے لیکن اِس میں سے بادہ و ساغر غائب ہے۔ تنخواہ والی بات درست ہے مگر تنخواہ کے ساتھ جو مراعات، افسرانہ طمطراق اور معاشرتی وقار (جو تھوڑا بہت باقی ہے ) جُڑا ہے وہ نجی شعبے میں سول سروس کے مقابلے میں قدر ے کم ہے اور یہی فرق کسی سول سرونٹ کو، سرکاری ملازمت کی تمام تر قباحتوں کے باوجود، استعفیٰ نہیں دینے دیتا۔

بے شک سول سروس زوال پذیر ہوئی ہے مگر اب بھی اِس میں ایسے ایسے گوہر نایاب ہیں جو دن رات کی پروا کیے بغیر پوری تندہی سے اپنا کام کرتے ہیں۔ خاص طور سے نئے آنے والے افسران جو باہر کی جامعات سے پڑھ کر آئے ہیں، اپنی اپروچ میں تخلیقی بھی ہیں اور اُن میں ’آؤٹ آف باکس ‘ کام کرنے کی صلاحیت بھی ہے جو سالخوردہ افسروں میں تقریباً مفقو د ہو چکی ہے۔ اِن نوجوانوں کو اگر اسی طرح سینئر افسران کی رہنمائی میسر آ جائے جیسے ستّر کی دہائی میں سول سروس اکیڈمی میں رواج تھا تو آگے چل کر یہ بھی اسی طرح کے قابل اور متین افسر بن سکتے ہیں جیسے ساٹھ یا ستّر کی دہائی میں ہوا کرتے تھے۔تاہم ایک بات جو مجھے ہر قسم کے سول سرونٹس میں مشترک نظر آتی ہے کہ سروس میں شامل ہونے کے بعد افسران کا رویہ عوام کے بارے میں تبدیل ہو جاتا ہے، سول سرونٹس جو بھی پالیسیاں بناتے ہیں وہ عوام کی نظر سے نہیں بلکہ اپنی ملازمت کے بچاؤ کے نقطہ نظر سے بناتے ہیں اور ایسا کرنے کے نتیجے میں جب پالیسی کی حتمی شکل سامنے آتی ہے تو وہ ایسی مضحکہ خیز ہوتی ہے کہ یوں لگتا ہے جیسے کسی نے مریخ پر بیٹھ کر پاکستانی عوام کے بارے میں فیصلہ کیا ہو۔ اِس کے علاوہ سول سرونٹس یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اگر وہ ایماندار ہیں تو یہ گویا اُن کا کوئی احسان ہے جبکہ ایمانداری تو سول سرونٹ کا بنیادی وصف ہونا چاہئے۔ ایسے’’ ایمانداروں‘‘ سے جب کسی مجبور بندے کو کام پڑتا ہے تو وہ کانوں کو ہاتھ لگا کرغالب کا یہ شعر پڑھتا ہوا ان کے دفتر جاتا ہے کہ’ ’کام اس سے آ پڑا ہے کہ جس کا جہان میں، لیوے نہ کوئی نام ستم گر کہے بغیر‘‘۔