سدھارتھ گوتم نے کیا کہا تھا؟ – Yasir Pirzada

28

عظیم لوگ بعض اوقات عام انسانوں کے لئے بڑی مشکل پیدا کر دیتے ہیں ۔ قدرت کی طرف سے اِن لوگوں کو غیر معمولی صلاحیت اور ذہانت میسر ہوتی ہے اور یہ لوگ تکالیف سہنے اور مصائب کا سامنا کرنے کی بھی ہمت رکھتے ہیں ۔ اپنی انہی خداداد خوبیوں کی بنا پر یہ لوگ عام آدمی کے مقابلے میں زندگی کو قدرے مختلف انداز سے دیکھتے ہیں اور پھراسی تناظر میں زندگی کی معنویت بیان کرتے ہیں ۔تاہم اِس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ایسے بڑے لوگوں کی تعلیمات عام انسانوں کے لئے ہمیشہ غیر متعلق ہی رہتی ہیں اور صرف فلسفے اور تاریخ کی کتابوں تک محدود ہو جاتی ہیں ۔اِس کی ایک مثال مہاتما بدھ ہیں ، سدھارتھ گوتم جن کا اصل نام تھا ۔

گوتم ایک بادشاہ کے گھر میں پیدا ہوئے ، نازو نعم میں پلے بڑھے ، اُن کی زندگی میں کوئی غم ،تکلیف یا پریشانی نہیں تھی ، اپنی پیدائش سے جوانی تک انہوں نے صرف مسرت اور خوشی ہی دیکھی ۔ کہا جاتا ہے کہ بادشاہ نے اُن کے لئے کئی محلات تعمیر کروائے تھے تاکہ وہ سال کے مختلف اوقات میں موسم کی مناسبت سے اپنی پسند کے محل میں رہ سکیں۔مشہور ہے کہ شادی سے پہلے انہوںنے پانچ سو کنواری لڑکیوں میں سے اپنی بیوی کا انتخاب کیا ۔ ایک دن گوتم اپنے محل سے نکلے تو انہوں نے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا جو بڑھاپے کی تکلیف سے نڈھال تھا ۔ اگلے روز انہوں نے ایک بیمار شخص کو دیکھا جو بیماری کے باعث سخت کرب اور تکلیف میں تھا ۔ تیسرے دن انہوں نے لوگوں کو چِتا جلاتے ہوئے دیکھا ۔اِن واقعات نے گوتم کی زندگی میں گویا بھونچال پیدا کر دیا ، انہیں یہ ادراک ہوا کہ زندگی محض جوانی کی عیاشیوں کا نام نہیں ، اِس میں دکھ ، درد، بیماری ، بڑھاپا اور موت بھی شامل ہے ۔اُس لمحے انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی اس شاہانہ زندگی کو چھوڑدیں گے ،اسی دوران گوتم کی بیوی یشودھرا نے اُن کے بچے کو جنم دیا ، یہ بچہ شادی کے بارہ برس بعد پیدا ہوا تھا ، بچے کو دیکھ کر گوتم نے دل میں کہا کہ ’پیروں میں ایک بیڑی پڑ گئی ‘۔ اسی لئے بچے کا نام ’راہل ‘ رکھا گیا جس مطلب ہی بیڑی ہے۔پھر ایک روز گوتم نے اپنے باپ ، بیوی اور نوزائیدہ بچے کو محل میں چھوڑ ا اور ’اصل حقیقت ‘ کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے ۔انہوں نے چھ برس تک محض گھاس اور بیج کھانے پر گزارا کیا،حتی کہ اُن کا جسم سوکھ کر کانٹا ہوگیا، اُن کا خیال تھا کہ شاید یہ خود اذیتی انہیں زندگی کی تکالیف کا عادی بنا دے گی اور یوں ہر قسم کے درد کا احساس ختم ہو جائے گا ۔ مگر پھر انہیں لگا کہ یہ طریقہ درست نہیں بلکہ اُلٹا اِس خود اذیتی نے اُن کے پاکیزہ اور پوتّر جذبے کو احساس تفاخر سے زہر آلود کر دیا ہے۔انہوں نے یہ فاقہ کشی ترک کی اور ایک درخت کی چھاؤں میں بیٹھ گئے (یہ ’مہا بدھی درخت ‘آج بھی موجود ہے )اور عہد کیا کہ وہ اُس وقت تک نہیں اٹھیںگے جب تک زندگی کی حقیقت کو نہیں پا لیں گے۔

گوتم کو بالآخر ’نروان‘ حاصل ہو گیا اور حقیقت اُن پر آشکار ہو گئی۔ گوتم پر پہلا اصیل سچ یہ آشکار ہوا کہ انسان کی پیدائش کے ساتھ ہی اُس کے غم و آلام کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور یہ دکھ اور مصائب اُس کی موت تک ساتھ رہتے ہیں۔ ’موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں ‘(غالب) ۔ دوسری عظیم سچائی یہ ہے کہ انسان کی خواہشات لا محدود ہیں ، جسمانی لذت کے حصول سے لے کر دنیاوی مال و دولت تک ، یہ ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ ہے ، انسان اگر اپنی خواہشات کو دبانے کی کوشش کرتا ہے تو اسے ناکامی ہوتی ہے جو دکھ پر منتج ہوتی ہے اور اگر اُس کی کوئی آرزو پوری ہو جائے تو پھر وہ اگلی خواہش کی تکمیل میں جُت جاتا ہے اور اُس وقت تک آزردہ رہتا ہے جب تک وہ خواہش پور ی نہ ہو۔ تیسرا اصیل سچ ’نرودھا‘ ہے ۔اپنی خواہشات سے آزادی حاصل کرنا،ہر قسم کی لذت ، دولت اور طاقت کی رغبت سے نجات پانے سے ہی دائمی دکھ اور آلام سے چھٹکارا ممکن ہے ۔چوتھا اصیل سچ ہمیں اُس راستے کی جانب لے جاتا ہے جو گوتم نے دریافت کیا ، جس پر چل کر انسان نروان حاصل کر سکتا ہے اور اِن خواہشات سے ہمیشہ کے لئے ماورا ہو سکتا ہے ۔ اِس راستے کو ’دھرما‘ کہتے ہیں ، اِس کے آٹھ نکات ہیں، درست کوشش ، درست مراقبت ، درست کلام، درست وسیلہ معاش، صحیح نیت، صحیح فعل، صحیح ذہنیت اور صحیح سمجھ بوجھ۔اپنی باقی ماندہ زندگی میں گوتم نے اپنے پیروکارو ں کو بتایا کہ کس طرح مراقبے اور استغراق کے ذریعے انسان اِن نکات پر عمل کرکے ایک اعلیٰ اخلاقی زندگی گزار سکتا ہے ، یہ وہ زندگی ہوگی جس میں اُن خواہشات کی کوئی حقیقت نہیں ہوگی جو انسان کے دائمی دکھ کا باعث بنتی ہیں۔

اِس میں کوئی شک نہیں کہ مہاتما بدھ نے زندگی کی حقیقت کو صدیوں پہلے بے نقاب کر دیا تھا اور انسان کو دائمی دکھ سے نجات کا طریقہ بھی بتا دیا تھا ۔ یہ تقویٰ ، پاکیزگی اور قناعت کا وہی راستہ ہے جس کا درس مسلم صوفیا بھی دیتے ہیں تاہم اِس میں کوئی شک نہیں کہ یہ سفر بے حد دشوا ر گزار ہے ۔ اِس سفر کی منزل طمانیت اور آسودگی تو ہے مگر راستے میں فقط درویشی اور فقر کے پڑاؤ آتے ہیں ۔اِن حالا ت میں انسان، جو خطا کا پتلا ہے، منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی ہلکان ہو جاتا ہے۔ مہاتما بدھ کا اپنے سالک ’آنند‘ کے ساتھ ایک مکالمہ ہے جس میں آنند پوچھتا ہے کہ مہا گرو ، عورت کے معاملے میں ہمیں اپنا برتاؤ کیسا رکھنا چاہئے ؟ بدھ : ایسے کہ ہم اسے دیکھ ہی نہ پائیں ۔ آنند:اور اگر عورت پر نظر پڑ جائے تو پھر کیا کریں؟ بدھ : پھر اُس سے بات نہ کریں۔ آنند: لیکن مہاگرو اگر وہ ہم سے بات کرے تو پھر کیا کریں؟ بدھ : اُس وقت خود کو ہوش میں رکھیں ،آنند۔مہاتما بدھ کی تعلیمات اسی اعلیٰ و ارفع درجے کی ہیں جن پر عمل کرنا بظاہر بہت مشکل ہے ۔ گوتم کو اللہ نے غیر معمولی ذہن ، صلاحیت اور صبر عطا کیا تھا جس کی بدولت وہ نروان حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ۔ ہم جیسے عام انسان اگر نروان نہ بھی حاصل کر سکیں تو کم از کم اتنا ضرور کر سکتے ہیں کہ اپنی خواہشات کو لگام ڈالنے کی کوشش کریں ۔بقول سوئس فلاسفر روسو’’ خوشی کے حصول کی حد سے زیادہ تگ و دو بعض اوقات اسے تکلیف دہ بنا دیتی ہے ‘‘۔