ساڈے تے نہ رہنا – Ansaar Abbasi

19

عمران خان حکومت کو بڑی ناکامیوں کا سامنا ہے۔ معیشت کا بُرا حال ہے، گورننس خصوصاً پنجاب میں اگر تباہ ہو چکی تو کشمیر کے مسئلہ پر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ حکومت کی کشمیر پالیسی کیا ہے؟ کسی کو معلوم ہی نہیں۔ بھارت ہماری شہہ رگ اگست 2019 میں کاٹ چکا اور ہم امن امن کھیل رہے ہیں۔ ابتدا میں خان صاحب بہت غصہ میں تھے۔ غصہ نکالتے ہوئے بھارت سے تجارت روک دی، اپنے ہی ملک میں کشمیریوں کے حق میں پُر امن احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا، نریند مودی کو فاشسٹ قرار دیتے ہوئے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ دنیا کو وہ بھارت کے خلاف اور کشمیریوں کے حق میں بیدار کریں گے جو بھارتی مظالم کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں مسلمانوں کے ساتھ ہو رہے ظلم و زیادتی پر جان بوجھ کر آنکھیں بند کیے ہوئے ہے۔ خان صاحب کو بعد میں پتا چلا کہ ہمارے تو مسلمان بردار ممالک بھی ہمارے ساتھ کھڑے نہ ہوئے۔ ہماری شہہ رگ کاٹنے والے کے خلاف طاقت کے استعمال کے آپشن کو تو خان صاحب نے صاف صاف رد ہی کر دیا اور یہ پالیسی واضح کر دی کہ بھارت سے جنگ نہیں ہو سکتی اور اگر کسی نے کشمیریوں کی محبت میں بارڈر کو پار کیا تو یہ پاکستان سے غداری ہو گی۔ اب امریکا کے اشارے پر اور ہمارے کچھ برادر ممالک کے رول کے بعد فاشسٹ مودی سے دوستی کی پینگیں بڑھائی جا رہی ہیں اور امن امن کا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ یہی نہیں بلکہ بھارت سے تجارت کے دروازے دوبارہ کھولنے کے لیے بھی سوچ بچار ہو رہا ہے۔ فوجی قیادت بھی امن کی بات کر رہی ہے اور تلخ ماضی کو بھلا کر بہتر مستقبل کے لیے آگے چلنے کا سہانہ خواب دیکھا جا رہا ہے۔ کشمیر بھارت کے ساتھ بات چیت کی صورت میں ایجنڈے پر تو رہے گا لیکن عملی طور پر بحیثیت قوم ہم کشمیریوں کے لیے کچھ نہیں کر سکتے۔ ہاں ہر سال کوئی نہ کوئی نغمہ ضرور بنا کر کشمیریوں سے اپنی ہمدردی کا اظہار کر سکتے ہیں اور یہی ہم کرتے رہیں گے۔ کشمیریوں کو ہم نے پیغام دے دیا کہ ’’ساڈے تے نہ رہنا‘‘۔ خود کچھ کر سکتے ہو تو کر لو۔

پاکستانی معیشت کے ساتھ بھی کشمیر والا حال ہو رہا ہے۔ چند ہفتوں قبل تک معاشی اشاریوں میں بہتری کے گن گانے والے وزیر اعظم نے اپنے دوسرے وزیر خزانہ عبدلحفیظ شیخ کو فارغ کر دیا اور حماد اظہر کو نیا وزیر خزانہ مقرر کر دیا۔ وزیر اطلاعات شبلی فراز کے ذریعے قوم کو بتایا گیا کہ شیخ مہنگائی پر قابو پانے میں ناکام رہے اور نئے وزیر خزانہ سے توقع ہے کہ وہ نہ صرف مہنگائی پر قابو پائیں گے بلکہ زمینی حقائق کے مطابق پالیسیاں بنائیں گے۔ یعنی رخصت کیے گئے وزیر خزانہ کی پالیسیاں (جن کا چند ہفتے قبل تک کپتان اور اُن کی پوری ٹیم دن رات دفاع کرتی تھی اور اُن کو سینیٹر بنانے کے لیے بے قرار تھی) زمینی حقائق کے خلاف تھیں۔ ڈھائی سالوں میں خان صاحب نے اپنی تیسری معاشی ٹیم میدان میں اتار دی لیکن حماد اظہر سے یہ توقع رکھنا درست نہیں کہ جس بھنور میں ہماری معیشت کو پھنسا دیا گیا ہے، اُسے وہ کامیابی سے باہر نکال لائیں گے اور وہ بھی بغیر مہنگائی کے، بغیر نئے ٹیکس لگائے اور بغیر پیٹرول، بجلی، گیس کے نرخ بڑھائے جو پہلے ہی آسمانوں کو چھو رہے ہیں۔ کاش خان صاحب اصل مسئلہ سمجھیں کہ مسئلہ معاشی ٹیم کے ساتھ نہیں بلکہ اُن کی اپنی پالیسیوں کے ساتھ ہے۔ ایک طرف سیاسی لڑائیاں لڑنے کا شوق تو دوسری طرف نیب کو اپوزیشن کی پکڑ دھکڑ کی خاطر کھلی چھٹی دینا جس کی وجہ سے سرکاری مشینری کام کرنے کے لیے تیار نہیں اور بزنس مین بھی سہما ہوا ہے، معیشت کو یہ طرزِ عمل بہت مہنگا پڑ رہا ہے۔ نہ یہاں سیاسی استحکام ہے نہ ہی کاروباری حالات بہتر جبکہ گورننس بھی بہت خراب ہو چکی۔ پاکستان کی معیشت کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کنٹرول کر رہے ہیں اور یہ کنٹرول ایسا ہے کہ عوام کی چیخیں نکل رہی ہیں اور معاشی حالات دن بدن بد سے بدتر ہو رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن مل کر چارٹر آف اکانومی، چارٹر آف گورننس، چارٹر آف ادارہ جاتی اصلاحات پر اتفاق کریں تاکہ ملک موجودہ چیلنجز سے نکلے لیکن خان صاحب تو اپوزیشن سے بات کرنا کیا ہاتھ ملانے کے لیے تیار بھی نہیں۔ ایسے میں کچھ بہتر کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ وہ بات ہے جو کپتان صاحب کو سمجھ نہیں آ رہی۔ گزشتہ ہفتے وزیر اعظم نے اپنے مشیر برائے توانائی ندیم بابر کو بھی فارغ کر دیا لیکن یہاں بھی کپتان نے بہت دیر کر دی۔ کتنے عرصہ سے میڈیا خصوصاً جیو کے شاہزیب خانزادہ چیخ چیخ کر ثبوتوں کے ساتھ کہہ رہے تھے کہ پٹرول اور ایل این جی کی امپورٹ میں پاکستان کو کھربوں کا نقصان پہنچا دیا گیا لیکن خان صاحب نے ایکشن اُس وقت لیا جب پانی سر پر سے گزر چکا تھا۔

گورننس کے حالات کو دیکھنا ہے تو حکومت کی کورونا ویکسین کی پالیسی کو دیکھ لیں۔ مفت کی ویکسین کسی ملک نے دے دی تو وہ اپنے شہریوں کو لگا رہے ہیں۔ خود خریدنے کے لیے اتنی دیر کر دی کہ اب کہا جا رہا ہے کہ مل نہیں رہی۔ جو ویکسین لگائی جا رہی ہے اُس میں نجانے غریب کا بھی کوئی حصہ ہے کہ نہیں؟ ایک طرف تو ایک وفاقی وزیر سمیت شکایتیں مل رہی ہیں کہ بااثر لوگ آوٹ آف ٹرن ویکسین لگوا رہے ہیں تو دوسری طرف انٹرنٹ اور موبائل کے ذریعے ویکسین لگوانے کے لیے رجسٹریشن کروانے کا جو طریقہ وضح کیا گیا ہے وہ بچارے غریب کے لیے اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر کی طرف سے بیرون ملک سے ویکسین خریدی گئی لیکن حکومت نے اُس کی جو قیمت مقرر کی وہ بہت زیادہ ہے جس پر ٹراپیرنسی انٹرنیشنل نے شور مچا دیا۔ موجودہ پالیسی کے تحت مجھے لگتا ہے کہ جو ویکسین آئے گی وہ غریب کو بہت کم لگے گی۔ اس لیے میری حکومت سے درخواست ہے کہ مفت ویکسین غریب اور متوسط طبقے کو پہلے لگائی جائے اور جو لوگ Afford کر سکتے ہوں، اُن کے لیے ویکسین امپورٹ کر کے اُسی قیمت پر لگائی جتنے میں وہ حکومت کو پڑی ہو۔ پرائیویٹ سیکٹر اگر ویکسین امپورٹ کرتا ہے تو حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ منافع کم سے کم لیا جائے۔ لیکن جس گورننس کے حالات ایسے ہیں، اُس میں کچھ ایسا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔