زوال آئے تو پورے کمال میں آئے – Hassan Nisar

24

تازہ ’’اخبار جہاں‘‘ اٹھایا اور ورق گردانی کرتے کرتے صفحہ 53پر پہنچا تو جانے کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔یادوں کی دھند میں دور کہیں بہت سے چراغ جل رہے تھے، جگنو ٹمٹما رہے تھے ۔

’’حدود وقت سے آگے نکل گیا سب کچھ ‘‘

مجھے احساس ہے کہ نوجوان ریڈرز کیلئے اس کالم کے ساتھ RELATEکرنا مشکل ہو گا لیکن میں کیا کروں کہ گہری ہوتی ہوئی یادوں کی اس دھند میں دھندلائے ہوئے چراغوں اور جگنوئوں کے علاوہ مجھے کچھ دکھائی سجھائی نہیں دے رہا ۔

صفحہ 53پر ایک بوکس ہے جس میں دو تصویریں، ایک ایس بی جون مرحوم کی دوسری اس فلم کے پوسٹر کی جس کیلئے ایس بی جون نے یہ لاز وال گیت گایا تھا۔

تو جو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے

یہ مانا کہ محفل جواں ہے حسین ہے

فلم ’’سویرا‘‘ کے اس رنگین پوسٹر پر تین تصویروں کے ساتھ لکھا ہے ……شمیم آرا، کمال، لہری یہ سب اور ان کے ہمعصر کہاں چلے گئے ؟کبھی ان کے ناموں اور چہروں کی دھوم مچی ہوتی تھی۔

چوک، چوراہے، دیواریں کیا درخت بھی ان کے چہروں سے چمکتے جگمگاتے تھے لیکن پھر وقت کی دھول اور دھند نے سب کچھ نگل گیا ۔جنہیں دیکھنے کیلئے کبھی بلیک میں ٹکٹ خریدے جاتے تھے، آج لوگ ان کے ناموں سے بھی آشنا نہیں، ان کے چہرے تک بھول چکے حالانکہ وہ ایسے تو نہیں تھے جنہیں اتنی آسانی اور سفاکی سے فراموش کر دیا جاتا۔

سنتوش کمار، صبیحہ، سدھیر، مسرت نذیر، درپن، وحید مراد، محمد علی، شمیم آرا، کمال، طالش، علائوالدین، آصف جاہ، نذر، نرالا، لہری، شبنم، زمرد، سورن لتا، الیاس کاشمیری، جیسے ناموں کی فہرست بہت طویل ہے۔

ابھی کل واک کے درمیان وقفہ میں ،میں نے ابن صحرا سے فرمائش کی ’’جب ترے شہر سے گزرتا ہوں‘‘ دکھائو ،یہ فلم ’’وعدہ‘‘ کا گیت ہے جو سیف الدین سیف صاحب نے لکھا تھا ۔فلم کے نمایاں ستاروں میں سنتوش، صبیحہ، علائوالدین، الیاس کاشمیری شامل تھے جنہیں گزرے زمانے گزر گئے۔

فلم انڈسٹری نے گنڈاسے کے ساتھ خودکشی کرلی یعنی وہ درخت ہی کٹ گیا جس کی شاخوں پر حسین اور رنگین ترین پرندے چہچہاتے تھے ۔بغیر کسی تعصب کے عرض کر رہا ہوں کہ عمر بیت گئی لیکن آج تک سنتوش، سدھیر، درپن، محمد علی، وحید مراد جیسا چہرہ کم از کم میں نے کبھی کہیں نہیں دیکھا ۔

مجھ سے بھی پرانی اک فلم ہے ’’پائل کی جھنکار‘‘ اس کا ایک نغمہ ہے جو سلیم رضا نے گایا ’’ حسن کو چاند جوانی کو کنول کہتے ہیں ‘ان کی صورت نظر آئے تو غزل کہتے ہیں ‘‘۔یہ درپن اور نیلو پر فلمایا گیا تھا، ہینڈسم درپن کی نیلی آنکھیں اور نیلو کا رقص دیکھ لیں تو وہ کچھ بھی سمجھ آ جائے گا جسے بیان کرنا میرے بس میں نہیں ہے۔

کبھی وقت ملے تو سدھیر اور نور جہاں کی ’’نوراں‘‘ اور ’’انارکلی‘‘ دیکھیں تو سدھیر کو دیکھ کر سمجھ آ جائے گی کہ مردانہ وجاہت کہتے کسے ہیں ۔اسی طرح محمد علی کی ’’خاموش رہو‘‘ سے لیکر ’’آگ کا دریا‘‘تک دیکھ لیں۔

’’پرفارمینس ‘‘ کا مطلب بھی سمجھ آ جائے گا لیکن نہ سینما رہا نہ سٹوڈیوز نہ فلم تو کنٹی نیوٹی کہاں سے آتی اس لئے نئی نسل بلکہ نسلیں بھی سچی ہیں جو اپنے گزرے کل اور پرسوں تک سے بھی واقف نہیں لیکن جب تک ہم جیسے موجود ہیں، کسی نہ کسی بہانے انہیں یاد کرتے رہیں گے ۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ لوگ بطور انسان بھی بہت خوب اور اعلیٰ تھے ۔فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا کہ یہ فنکار زیادہ اچھا ہے یا انسان ۔جب میں صحرائے صحافت میں داخل ہوا تو فلم اپنے عروج پر تھی ۔

’’گنڈاسہ‘‘ ابھی ایجاد نہیں ہوا تھا سو بہت سے لوگوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا …..پھر ایک اک کرکے یہ چاند گہناتے اور ستارے ٹوٹتے چلے گئے، دھند بڑھتی چلی گئی اور اصل ٹریجڈی یہ ہوئی کہ زوال صرف فلم انڈسٹری پر ہی نہیں آیا کیونکہ

گرو توساتھ گرے شانِ شہسواری بھی

زوال آئے تو پورے کمال میں آئے