دیومالائی کردار، دلیپ کمار (2) – Hassan Nisar

25

اگلی صبح میں تیار ہو کر چپ چاپ گھر سے نکل گیا اور 9بجے وقت پر سٹوڈیو پہنچ گیا۔ دیویکارانی نے میرا خیرمقدم کیا اور خود مجھے لے کر فلور پر گئیں جہاں کسی شوٹنگ کی تیاری ہو رہی تھی۔ وہاں مجھے ایک خوش لباس اور سب سے ممتاز شخص دکھائی دیا۔ دیویکارانی مجھے اس کےپاس لے گئیں۔ مجھے اس کی شکل جانی پہچانی لگی۔ مجھے یاد آیا کہ کرافورڈ مارکیٹ میں پوسٹرز پر میں نے یہ چہرہ دیکھا ہے۔ اس کے سیاہ گھنگھریالے بال پیچھے کی طرف بنے ہوئے تھے۔ مسکراتی آنکھوں سے اس نے مجھے دیکھا۔ دیویکارانی نے نئے اداکار کے طور پر میرا تعارف کرایا۔ اس نے گرمجوشی سے مصافحہ کیا اور دیر تک میرا ہاتھ تھامے رکھا۔ یہ اس دوستی کی ابتدا تھی جو پوری زندگی برقرار رہنی تھی۔ وہ اشوک کمار تھے جو جلد ہی میرے لئے اشوک بھیا بن گئے (وہ 10دسمبر 2001 کو چل بسے)

اشوک کمار فلور سے نکلے اور ایک لڑکے کو اپنا میک اپ روم کھولنے کے لئے کہا۔ وہ چابیاں لانے بھاگا تو میں نے ایک نوجوان کو اپنی طرف آتے دیکھا۔ یہ راجکپور تھا جسے مجھے دیکھ کر حیرت ہوئی۔ جب اسے معلوم ہوا کہ میں نے سٹوڈیو میں کام شروع کردیاہے تو وہ اپنے روایتی کھلنڈرے پن پر اتر آیا ’’کیا تمہارے والد کو معلوم ہے؟‘‘ اس نے شرارت سے پوچھا۔ میں نے کوئی جواب نہیں دیا کیونکہ دیویکا رانی اور اشوک بھیا قریب ہی کھڑے تھے جنہیں یہ جان کر حیرت ہوئی کہ راج کپور اور میں پہلے سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔ راج نے خالصہ کالج میں فٹ بال کے دونوں کا ذکر کیا۔ اس پر دیویکارانی نے کہا ’’کاش میں بھی لڑکوں کی طرح فٹ بال کھیل سکتی‘‘۔اس میں کوئی شک نہیں کہ راج کپور مجھے وہاں دیکھ کر بہت خوش ہوا۔ دیویکا رانی نے اس بات کویقینی بنایا کہ میں تمام شوٹنگز پر موجود رہوں تاکہ ماحول آشنا ہو سکوں۔

دھیرے دھیرے مجھے سب کچھ اچھالگنے لگا۔ اشوک بھیا اور ایس مکھرجی قریب ہی رہتے تھے۔ بومبے ٹاکیز کے لئے یہ تعمیر کا زمانہ تھا۔ دیویکارانی اپنے شوہر ہمانشورائے کی موت (16مئی 1940) کے بعد سوڈیو سنبھال رہی تھی اور اب ایک روسی مصور سویتو لوف رورخ سے شادی کے بعد سٹوڈیو کو سنبھالنے کی ذمہ داری ایس مکھرجی اور امیا چکرورتی کو سونپنا چاہتی تھیں۔ دیویکا رانی نے جرمنی سے باقاعدہ فلم میکنگ کی تربیت لی تھی اور وہ میک اپ اور سیٹ ڈیزائننگ میں بھی ماہرتھیں۔ ان کے گرد ہمیشہ روشن سا ہالہ دکھائی دیتا۔ ایک دن انہوں نے مجھے طلب کیا۔ وہ انگریزی بولتی تھیں کہنے لگیں ’’یوسف! تم ماحو ل میں رچ بس گئے ہو، سو اب میں جلد از جلد تمہیں بطور اداکار سامنے لانے کا سوچ رہی ہوں۔ بہتر ہے تم اپنا کوئی فلمی نام اپنالو۔ وہ نام جس سے تم شہرت پائو گے اور میرے خیال میں دلیپ کمار اچھا نام ہے، تمہیں کیسا لگا؟‘‘ ایک لمحہ کے لئے میں گنگ رہ گیا۔ میں نے کہا ’’نام اچھا ہے لیکن کیا یہ ضروری ہے؟‘‘ تو اپنے روایتی دبدبے کے ساتھ انہوں نے کہا ’’میں تمہارا ایک طویل اور تابناک مستقبل دیکھ رہی ہوں لہٰذا مناسب ہوگا‘‘۔ میں نے مکھر جی صاحب سے کی تو بولے ’’فلمی نام سے فائدہ ہوگا اور دلیپ کمار بہت ہی اچھا نام ہے اگرچہ میں ہمیشہ تمہیں تمہارے گھر والوں کی طرح یوسف ہی کہوں گا‘‘۔ اور پھر مجھے یہ بھی معلوم ہوا کہ اشوک کمار کا اصلی نام بھی کچھ اور ہے یعنی ….’’مکندلال کانجی لال گنگولی‘‘۔

’’قسمت‘‘ کی کامیابی کے بعد اشوک بھیا سپر سٹار تھے اور مجھے فلم ’’جوار بھاٹا‘‘ کے ساتھ لانچ کیا جارہاتھا جس کے ہدایت کار امیاچکرورتی تھے۔ حیرت انگیز سچائی یہ ہے کہ میں پہلی بار کیمرے کے سامنے آنے کے خیال سے نہ تو نروس تھا اور نہ ہی پُرجوش۔ دیویکارانی سیٹ پر آئیں تو انہوں نے ہمیشہ کی طرح مجھے پرسکون اور مطمئن دیکھا۔ دیویکا رانی نے تمام تر انتظامات کا جائزہ لیا۔ وہ میری بے حد گھنی بھنوئوں کے سوا ہر چیز سے مطمئن تھیں۔ انہوں نے مجھے بیٹھنے کے لئے کہا اور میک اپ روم سے ’’موچنا‘‘ منگوانے کے بعد بڑی مہارت کے ساتھ بھنوئوں کے بڑھے ہوئے بال نکال دیئے۔ میں سانس روکے یہ درد برداشت کرتا رہا۔ انہوں نے درد کی شدت سے میری آنکھوں میں آنے والے آنسو دیکھے اور شرارت سے بھرپور لہجے میں کہا ….’’اب آئینہ دیکھو‘‘۔ اسی وقت میک اپ والے نے دردکش کریم لگا دی اور دیویکا رانی مجھے ’’گڈلک‘‘ کہتے ہوئے چلی گئیں۔ میرا پہلا شاٹ امیا چکرورتی نے مجھے سمجھایا۔ انہوں نے بتایا کہ ہیروئن خودکشی کرنے جا رہی ہے اور اس کی جان بچانے کے لئے ہیرو دوڑتا آتا ہے۔ میں کالج میں ایتھلیٹ تھا اور ہمیشہ 200 میٹر کی دوڑ جیتی تھی سو دوڑنے کی کوئی پریشانی نہیں تھی۔ جیسے ہی میںنے ’’ایکشن‘‘ کالفظ سنا مجھے پر لگ گئے۔ ڈائریکٹر صاحب ’’کٹ کٹ‘‘ کرتے رہ گئے۔ مایوس امیاچکرورتی میرے پاس آئے اور کہا ’’تم اتناتیز دوڑے کہ کیمرے میں صرف دھندلا سا نشان آیا ہے‘‘۔ امیا چکروری نے سمجھایا کہ منظر کیمرے میں موجود فلم پر ریکارڈہوتا ہے اور کیمرے کی مخصوص رفتار ہوتی ہے۔ تین یا چار مرتبہ کٹ کرانے کے بعد شاٹ او کے ہوگیا۔ ’’جوار بھاٹا‘‘ 1944 میں ریلیز ہوئی اور ناکام قرار پائی۔

قارئین! یہ ہے برصغیر کے سنیما کے دیومالائی کردار، دلیپ کمار کے آغاز کی کہانی خود ان کی زبانی جوان پر لکھی گئی کئی انگریزی اردو کتابوں میں محفوظ ہے۔ باقی ان شاﷲ کل سہی۔ (جاری ہے)