دیومالائی کردار، دلیپ کمار (1) – Hassan Nisar

24

کوزوں میں دریا صرف محاوروں میں بند ہوتے ہیں۔ دلیپ کمار تو دریا نہیں، سمندر تھے۔ برصغیر کی سینما ہسٹری سو سال پلس ہے جس میں نہ کوئی دوسرا دلیپ کمار ہے نہ کبھی ہو گا۔ دلیپ صرف بڑے پرفارمر ہی نہیں، عظیم انسان اور دانشور بھی تھے۔ وہ کہا کرتے ’’دلیپ کمار تو میرا کمرشل نام ہے۔ میں تو سرتاپا محمد یوسف سرور خان ہوں۔‘‘ وہ صحیح معنوں میں یوسف ثانی تھے جن کی مسکراہٹ پہ ماحول مسکرانے لگتا اور سوگواری اک جہان کو سوگوار کر دیتی۔ انتہائوں کے امتزاج دلیپ کمار ٹریجڈی کنگ ہی نہیں، کامیڈی کنگ بھی تھے۔ ایسی دیومالائی شخصیت کے سامنے میں کیا، میرا قلم کیا؟ اس لئے دلیپ صاحب کی زبانی ان کے کیریئر کی ابتدائی کہانی پیش خدمت ہے۔ دلیپ صاحب کہتے ہیں____

’’ایک صبح میں چرچ گیٹ سٹیشن پر کھڑا دادر جانے والی ٹرین کا انتظار کر رہا تھا جہاں کسی شخص نے لکڑی کی چارپائیاں کنٹونمنٹ کو فراہم کرنے کے لئے مجھے بلایا تھا۔ اسٹیشن پر مجھے سائیکلوجسٹ ڈاکٹر مسانی نظر آئے۔ وہ ایک مرتبہ ولسن کالج آئے تھے جہاں میں پڑھتا تھا۔ میں فوراً ان کے پاس گیا۔ وہ میرے والد آغا جی کے جاننے والے بھی تھے۔ انہوں نے مجھے پہچان لیا اور پوچھا ’’تم کیا کر رہے ہو یوسف؟‘‘ میں نے بتایا ملازمت ڈھونڈ رہا ہوں جو مل نہیں رہی اس لئے اب کاروبار کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ’’بمبئی ٹاکیز‘‘ کے مالکان سے ملنے جا رہے ہیں، تم میرے ساتھ چلو، ہو سکتا ہے ان کے پاس تمہارے لئے کوئی نوکری ہو۔ میں دادر جانے کا ارادہ ترک کر کے ان کے ساتھ ہو لیا۔ میں نے زندگی میں فلم سٹوڈیو نہیں دیکھا تھا۔ راج کپور کی زبان سے بمبئی ٹاکیز کا نام ضرور سنا تھا۔ اس کے والد پرتھوی راج کی فلمیں یہاں بنتی تھیں۔ بمبئی ٹاکیز کئی ایکڑوں پر پھیلا ہوا تھا اور اس میں ایک باغ کے اندر درمیان میں فوارہ بھی تھا۔ جب ڈاکٹر مسانی اندر داخل ہوئے تو مسز دیویکا رانی نے گرمجوشی سے ان کا استقبال کیا۔ اس دوران میں اپنے تعارف کا انتظار کر رہا تھا۔ دیویکا رانی رکھ رکھائو کی منہ بولتی تصویر تھیں۔ ڈاکٹر مسانی نے میرا تعارف کرایا تو انہوں نے مجھے ’’نمستے‘‘ کہا۔ ان کی نگاہ مسلسل مجھ پر جمی تھی جیسے ان کے ذہن میں کچھ چل رہا ہو۔ انہوں نے ہمیں امیا چکرورتی سے ملوایا (بعد میں علم ہوا کہ یہ مشہور فلم ڈائریکٹر ہیں)۔ دیویکا رانی نے مجھ سے پوچھا کہ کیا مجھے اردو آتی ہے۔ میں نے اثبات میں سر ہلایا۔ پھر وہ ڈاکٹر مسانی سے میرے خاندان بارے دلچسپی سے سنتی رہیں۔ ان کے چہرے پر قدرتی چمک اور صحت مندی جھلک رہی تھی۔ پھر ایک دلآویز مسکراہٹ کے ساتھ انہوں نے مجھ سے وہ سوال کیا جو میری زندگی مکمل طور پر تبدیل کرنے والا تھا۔ پوچھا ’’کیا میں اداکار بننا چاہوں گا اور کیا مجھے 1250روپے تنخواہ قبول ہو گی؟‘‘ میں نے ان کی سحر انگیز مسکراہٹ کا جواب دیتے ہوئے کہا ’’میں اس فن کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا۔ میں نے زندگی میں ایک ہی فلم دیکھی ہے اور وہ بھی جنگ کی دستاویزی فلم تھی جو دیولالی میں فوجیوں کو دکھائی گئی تھی‘‘۔ انہوں نے کہا ’’مجھے لگتا ہے تم میں ایک اچھا اداکار بننے کی صلاحیت ہے، محنت کرو گے تو سیکھ جائو گے۔‘‘ واپسی پر گھر پہنچ کر میں نے اپنے بھائی ایوب سے بات کی۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ مجھے 1250روپے ماہانہ کی پیشکش ہوئی ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ یہ سالانہ تنخواہ ہو گی کیونکہ ان کی معلومات کے مطابق اس وقت راج کپور کو ماہانہ 170روپے ملتے تھے۔ میں اپنے والد آغا جی کی کم ہوتی آمدنی پوری کرنے کیلئے فوری طور پر کچھ کمانا چاہتا تھا سو میں چرچ گیٹ کے قریب ڈاکٹر مسانی کے گھر گیا کہ 1250روپے سالانہ بہت ہی کم ہے۔ انہوں نے تصدیق کے لئے دیویکا رانی کو فون کیا تو ان کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی۔ جب ریسیور رکھا تو بولے ’’دیویکا رانی نے 1250روپے سالانہ نہیں ماہانہ کی پیشکش کی ہے۔‘‘ یہ سن 1942ء تھا اور دن جمعہ کا (تاریخ یاد نہیں) جب میں دعائوں اور لنچ کے بعد خاموشی کے ساتھ گھر سے نکلا تھا اور کسی کو معلوم نہیں تھا میں کہاں جا رہا ہوں۔ اس سہ پہر جب ٹیکسی بمبئی ٹاکیز میں داخل ہوئی تو ایسا محسوس ہوا کہ درودیوار مجھے خوش آمدید کہہ رہے ہیں۔ دیویکا رانی اپنے آفس میں تنہا میز کے پیچھے بیٹھی تھیں جس پر ہر چیز سلیقہ سے رکھی رہتی تھی۔ گفتگو مختصر رہی۔ انہیں معلوم تھا کہ میں ان کی پیشکش قبول کرنے آیا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ایگریمنٹ کی تیاری ان کے معاون مسٹر آئر کریں گے۔ وہ چاہتی تھیں میں فوراً کام شروع کر دوں اور اگلی صبح آ کر ان سب لوگوں سے مل لوں جن کے ساتھ مجھے کام کرنا ہے۔ میرے والد اس پیشے کو پسند نہیں کرتے تھے۔ کئی مرتبہ میرے سامنے انہوں نے راج کپور کے دادا بشیشور ناتھ کپورجی سے کہا تھا کہ یہ بڑے افسوس کا مقام ہے کہ ان کا بیٹا پرتھوی راج اور پوتا راج کپور ’’نوٹنکی‘‘ کے سوا اور کچھ بھی نہیں کرتے۔ بہرحال جب میں گھر لوٹا تو میں نے اماں کو بتایا کہ مجھے 1250روپے ماہانہ کی نوکری مل گئی ہے جس سے کچن کے اخراجات ہی نہیں، بہن بھائیوں کی تعلیم کا خرچ بھی آسانی سے پورا ہو جائے گا۔ (جاری ہے)