دشمن کا دشمن دوست – Dr Ramesh Kumar

20

آج سےڈھائی ہزار سال قبل موجودہ سرزمین پاکستان میں واقع قدیم ٹیکسلا کے عظیم فلسفی استادکوٹلیہ چانکیہ نے اپنے شاگردوں کو درس دیا تھا کہ دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قدیم زمانے کی حکمت و دانائی سے بھرپور یہ نصیحت آج کے جدید دور میں سفارتی محاذ پر بھی سوفیصد نافذ العمل ہے۔عالمی منظرنامہ پر نظر ڈالی جائے تو ایک طرف ایران مخالف ممالک اپنے ازلی دشمن اسرائیل سے پینگیں بڑھا رہے ہیں تو دوسری طرف چین اورایران نے مشترکہ امریکی خطرے کے پیش نظرپچیس سالہ دوستی کے دوطرفہ معاہدے کو عملی شکل دے دی ہے، بھارت کو خلیجی ممالک کی جانب سے مشرق وسطیٰ تک رسائی کیلئے ایران کی بجائے پاکستان کا راستہ اختیار کرنے پر زور دیا جارہا ہے تو نیا امریکی صدرجوبائیڈن بھی سابق صدرٹرمپ کی خارجہ پالیسیوں کو آگے بڑھاتے ہوئے چین مخالف ممالک آسٹریلیا،بھارت اور جاپان پر مشتمل علاقائی سیکورٹی اتحاد قائم کررہاہے ۔ مذکورہ ممالک کے آپس میں متعدد نظریاتی اور سیاسی اختلافات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں لیکن مشترکہ دشمن کا خوف انہیں ایک دوسرے کے قریب لارہاہے۔ پاکستان روز اول سے امریکہ کااہم اسٹریٹیجک اتحادی ہے، پاکستان اور امریکہ کے مابین سفارتی تعلقات کی ایک بڑی وجہ سویت یونین کی صورت میں نظریاتی دشمن سے بچاؤبھی تھا۔آج پاک چین دوستی کوایک ضرب المثل کی حیثیت حاصل ہوچکی ہے، درحقیقت عوامی سطح پر1962 سے قبل بھارت اور چین میں ہندی چینی بھائی بھائی کا نعرہ گونجا کرتا تھا، بھارت سے عسکری تصادم نے پاکستا ن اور چین کے مابین دوطرفہ تعاون کی راہ ہموار کی۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا محور عالمی برادری سے خوشگوار تعلقات کا فروغ ہے، تاہم گزشتہ ایک عرصے سے ہمارے دو ہمسایہ ممالک چین اور ایران کوامریکی دباؤ کا سامنا ہے،اس حوالے سے میں مختلف فورمز پر اپنےاس خدشے کا اظہار کرچکا ہوں کہ امریکہ کی اقتصادی میدان میں چپقلش عنقریب عسکری تصادم کا روپ دھار سکتی ہے جس کے منفی اثرات لا محالہ پاکستان پر بھی پڑیں گے۔بدقسمتی سے گزشتہ ایک عرصے سے سپرپاور امریکہ اور ایران کے مابین سفارتی کشیدگی جاری ہےجبکہ سابق امریکی صدرٹرمپ نے چین کو دباؤ میں لانے کیلئے سیاسی اور معاشی سطح پر تنہا کرنے کی پالیسی اختیار کی ہوئی تھی، امریکہ کی جانب سے یک طرفہ اقدامات کی وجہ سے ہمارا خطہ بدستور غیریقینی صورتحال سے دوچار ہے، ٹرمپ کے دور اقتدار کے آخری ایام تک یہ خدشہ ظاہر کیا جاتا رہا کہ ایران یا چین میں کسی ایک کو فوجی ہدف بنایا جاسکتا ہے۔ امریکہ کی تاریخ بتلاتی ہے کہ حکومت کی تبدیلی سے ریاستی پالیسیاں بدلا نہیں کرتیں تاوقتیکہ قومی مفاد کے حصول کیلئے حکمت عملی میں تبدیلی ناگزیر نہ ہوجائے۔ یہی وجہ ہے کہ نئے امریکی صدر جوبائیڈن کی جانب سے بھی چین اور ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کا سلسلہ جاری ہے، تاہم اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ دشمن کا دشمن دوست کے فارمولے کے تحت نظریاتی طور پر مختلف دونوں ممالک قریب آگئے ہیں۔ حالیہ دنوںمیں چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے اپنے دورہ تہران کے دوران اپنے ایرانی ہم منصب جواد ظریف کے ساتھ پچیس سالہ دو طرفہ تعاون اور اسٹراٹیجک پارٹنرشپ کے معاہدے پر دستخط کئے ہیں، مذکورہ معاہدے کی رو سے دونوں ممالک تجارت، توانائی، سیکورٹی، انفراسٹرکچر سمیت مختلف شعبوں میں ایک دوسرے سے تعاون کریں گے، چین آئندہ پچیس سال کے دوران ایران میں چار سوارب ڈالر سے زائد کی بھاری سرمایہ کاری کرے گا، عالمی سطح پر چین خام تیل درآمد کرنے والے جبکہ ایران برآمد کرنے والے بڑے ممالک میں شمار ہوتا ہے، مذکورہ معاہدے کے بعد اقتصادی پابندیوں کے شکار ایران کو دنیا کی دوسری بڑی اقتصادی قوت چین کی صورت میں تیل کامستقل خریدار میسر آگیا ہے جبکہ چین کو رعایتی نرخوں پر تیل دستیاب ہوگا، امریکی جارحیت کے خدشے سے دوچار دونوں ممالک عسکری شعبے میں بھی ایک دوسرے سے بھرپور تعاون کریں گے اور انٹیلی جنس معلومات کا بروقت تبادلہ بھی ہوگا۔حالیہ دوطرفہ معاہدے کو علاقائی امن و استحکام اور خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے کیلئے بہت بڑی پیش رفت قراردیاجارہا ہے،تاہم میں سمجھتا ہوں کہ خطے پر امنڈتے جنگ کے بادل ابھی ٹلے نہیں ہیں،جوبائیڈن انتظامیہ کی طرف سے ماحولیاتی تبدیلی سربراہی اجلاس میںدنیا کے دس پہلے متاثرہ ممالک میں شامل پاکستان کو نظرانداز کرنا ہمارے لئے سفارتی سطح پر ایک انتباہی اشارہ ہے۔ میری نظر میں جغرافیائی طور پر چین اورایران کو آپس میں منسلک ہونے کیلئے پاکستان کا تعاون ناگزیر ہے، ہمیں اس حوالے سے ممکنہ عالمی دباؤ کامقابلہ کرنے کیلئے بہت سمجھداری اور دوراندیشی سے کام لینا ہوگا ، تاہم مجھے یقین ہے کہ مشرقی سرحد پر بھارت کے ساتھ حالیہ امن پیش رفت کے بعدہمارے دوسرے دو ہمسایہ ممالک ایران اور چین کا قریب آنا ہمارے پیارے وطن کی ترقی و خوشحالی کیلئے نیک شگون ثابت ہوگا۔ آج اتفاق سے یکم اپریل کو ایران میں امام خمینی کے اسلامی انقلاب کی 42ویں سالگرہ منائی جارہی ہے، میںبطور پاکستانی اپنے ایرانی پڑوسیوں کو انتھک عوامی جدوجہد کی تاریخی کامیابی پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان سے اظہار یکجہتی کرتا ہوں