خیر اور شر کے ’’شیئرز‘‘- Hassan Nisar

21

گزشتہ چند روز سے طبیعت ڈانواں ڈول ہے۔ کچھ بھی کرنے کو جی نہیں چاہ رہا۔ ’’بیٹھے رہیں تصورِ جاناں کئے ہوئے‘‘ والی کیفیت بھی ہرگز نہیں۔ انتہا یہ کہ ڈاکٹر کےپاس جانے کو بھی دل نہیں کرتا۔ صحیح معنوں میں ’’اوازار‘‘ ہونے کا مطلب سمجھ میں آ رہا ہے۔ پہلی بار ایسا ہوا کہ دوپہر کے ایک بجے اخباروں کو ہاتھ لگایا۔ حالانکہ روٹین یہ ہے کہ 8تا 12بجے تک اخبارات سے نمٹ لیتا ہوں اور پھر 2بجے تک کالم دفتر پہنچ جاتا ہے لیکن آج اخبار بینی ہی ایک بجے شروع کی تو لاشعور میں اک اور ناغہ تھا کہ دو خبروں نے جکڑ لیا۔

پہلی خبر کا تعلق عطائیوں کی بھرمار سے ہے جبکہ دوسری خبر نشیئوں کے راج سے متعلق ہے جس کا دلچسپ ترین پہلو یہ ہے کہ منشیات کا کاروبار پولیس اہلکاروں کی سرپرستی میں ہوتا ہے تو میں سوچ رہا ہوں کہ وہ کون سا شعبہ ہے جس پر عطائیوں اور نشیئوں کا غلبہ نہیں۔ یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ عطائی وہ ہوتا ہے جو کوئی ایسا کام کرے جسے وہ جانتا نہیں تو غور سے اپنے اردگرد دیکھیں کہ کتنے فیصد لوگ ہیں جو اپنا کام جانتے اور صحیح معنوں میں اس کا حق ادا کر رہے ہیں؟ اور اگر یہ 50فیصد بھی ہیں تو کیا یہی کچھ ہو رہا ہوتا جو ہو رہا ہے؟ رہ گئے نشئی تو اس اصطلاح کو شاید ٹھیک سے سمجھا اور استعمال ہی نہیں کیا جاتا کیونکہ جہالت کے ماروں نے نشے کو صرف منشیات تک ہی محدود کر رکھا ہے۔ عربی میں اسے ’’خمر‘‘ کہا گیا ہے جبکہ لغوی مطلب یہ کہ ہر وہ شے حرام ہے جو انسان کی عقل کو ڈھانپ لے، اس کی مت مار دے یعنی یہ طاقت، عزت، شہرت، دولت، اقتدار، اختیار، مقبولیت، خوب صورتی، حسب و نسب ہی نہیں ’’غرورِ تقویٰ‘‘ بھی ہو سکتا ہے یعنی ہر وہ شے جو آپ کو غیرمتوازن، احساس برتری میں مبتلا کر دے وہ ’’خمر‘‘ ہے جبکہ اسے صرف ایک قسم کے نشے تک محدود کر کے اس پیغام کی روح کو ہی قتل کر دیا گیا۔ اس کے ساتھ اک اور لفظ ہے ’’میسر‘‘ جس کے ساتھ یہی ظلم ہوا کہ اسے ’’جوئے‘‘ تک محدود کر کے اس کی روح کو بھی مسخ کر دیا گیا حالانکہ یہ صرف ’’جوئے‘‘ تک محدود ہرگز نہیں بلکہ ہر وہ آمدنی ممنوع ہے جس میں انسان کی کوشش، تگ و دو، محنت شامل نہیں لیکن یہاں تو علم کے سونامی آئے رہتے ہیں جو عام آدمی کو الفاظ و اصطلاحات کی گہرائی اور حدود سے ہی متعارف نہ کرا سکے۔ صحیح کہا تھا کسی سیانے نے کہ نیم حکیم خطرئہ جان اور نیم ملا خطرئہ ایمان سے کم نہیں۔

صرف ’’خمر‘‘ اور ’’میسر‘‘ پر ہی غور کر لیں تو کون ہے جو ان کی DEFINATIONSمیں فٹ نہیں بیٹھتا؟ یقیناً کچھ بھلے لوگ موجود ہیں جن کے سبب معاشرہ جیسے تیسے گھسٹ رہا ہے، سانس لے رہا ہے لیکن خیر اور شر کا تناسب بہت بری طرح تباہ ہو چکا ہے۔ کوئی بھی انسانی معاشرہ نہ سو فیصد برا ہوتا ہے نہ سو فیصد اچھا کیونکہ جہاں انسان ہو گا وہاں جرم بھی ہو گا اور گناہ بھی۔ خیر بھی ہو اور شر بھی۔ دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ تناسب کس قسم کا ہے؟ اس میں خیر کے ’’شیئرز‘‘ زیادہ ہیں یا شر کے؟

انسانی معاشرہ کو ایک ’’کمپنی‘‘ سمجھ لیں۔ خیر کے شیئرز زیادہ ہوں گے تو ’’خیر‘‘ ڈکٹیٹ کرے گا، شر کے ’’شیئرز‘‘ زیادہ ہوں گے تو شر کا اثر و رسوخ زیادہ ہو گا اور وہی اس ’’کمپنی‘‘ کی پہچان قرار پائے گا۔ جس معاشرہ کے مثبت پہلو ڈومینیٹ کر رہے ہوں گے تو وہی اس کی پہچان بن جائیں گے اور اگر منفی کا غلبہ ہو گا تو وہ اس کی پہچان بن جائے گا۔ یہی حال قبیلوں اور افراد کا ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں جس کو ’’مارشل ریس‘‘ کہا جاتا ہے تو اس قبیلہ کا ہر فرد ’’مارشل‘‘ نہیں ہوتا، اکثریت دلیروں کی ہوتی ہے جو اس کی پہچان بن جاتی ہے۔ مثلاً چنیوٹی شیخ بہترین کاروباری سمجھے جاتے ہیں تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہر چنیوٹی شیخ ’’بزنس جینئس‘‘ ہوتا ہے لیکن ہاں….. اکثریت کے جینز میں یہ صلاحیت پائی جاتی ہے جو ان کی پہچان بن جاتی ہے۔

مختصراً یہ کہ ہمارے معاشرے میں شر اور بدی کے شیئرز تیزی سے بڑھتے جا رہے ہیں۔ ’’ثنا خوانِ تقدیس مشرق و مذہب‘‘ کو چاہئے کہ سب کچھ ہاتھ سے نکل جانے سے پہلے کوئی اُپائے کر لیں ورنہ بہت دیر ہو جائے گی۔