خیال کہاں سے آتا ہے؟ – Yasir Pirzada

24

میں ہفتے کی صبح آٹھ بجے بیدار ہوتا ہوں ، دماغ میں ہوتا ہے کہ آج کالم لکھنا ہے ۔ پہلا ایک گھنٹہ تو اخبارات کے مطالعے میں گزر جاتا ہے ، پھر سوشل میڈیا کی خبر لیتا ہوں کہ وہاں کیا ہنگامہ برپا ہے ، اس کے بعد خیال آتا ہے کہ آج چھٹی ہے تو کیوں نہ براؤن بریڈ کی بجائے پراٹھے کی عیاشی کر لی جائے ۔ اِس عیاشی کے بعد جب غنودگی طار ی ہونے لگتی ہے تو دل کرتا ہے کہ آنکھیں موند کے لیٹ جاؤںچنانچہ دل کی بات مان لیتا ہوں۔تاہم اِس دوران میرا دماغ کالم کے موضوع میں اٹکا رہتا ہے ، ذہن میں مختلف قسم کے خیالات آتے رہتے ہیں جنہیں سوچ سوچ کر قبول یا رد کرتا رہتا ہوں، نیم غنودگی کے عالم میں بھی یہ کیفیت جاری رہتی ہے اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب بیدار ہوتا ہوں تو کالم کا ایک کچا پکا سا خاکہ ذہن میں بن چکا ہوتا ہے ۔ اِس عمل کو آپ ایک کشمیری کا مراقبہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ مگر ہر مرتبہ ایسا نہیں ہوتا۔ کبھی دو دو گھنٹے تک لیپ ٹاپ کھولے خالی سکرین کو تکتا رہتا ہوں اور کوئی خیال ذہن میں نہیں آتا اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ ادھر لکھنے بیٹھتا ہوں اور ادھر کی بورڈ پر انگلیاں حرکت میں آجاتی ہیں اور ڈیڑھ دو گھنٹے میں مضمون مکمل ہوجاتا ہے ۔مگر ایسا شاذو نادر ہی ہوتا ہے کہ غیب سے کوئی مضمون خیال میں آ جائے ۔

خیال کہاں سے آتا ہے ؟ یہ سوال کسی معمے سے کم نہیں ۔کیا شاعر ، ادیب ،لکھاری خداد داد صلاحیت کے مالک ہوتے ہیں ؟ کیا یہ صلاحیت پیدائشی طور پر انسانوں کوودیعت ہوتی ہے یا کوئی شخص محنت کرکے بھی یہ ہنر پیدا کر سکتا؟ کیا انہیں خیالات کی آمد ہوتی ہے ؟ ’آمد ‘ سے کیا مراد ہے ؟ کیا فرشتے کی صدا سے اِن کے قلم خود بخود چلنے لگتے ہیں یا ذہن میں آنے والا ہر خیال ہی آمد ہوتا ہے ؟اور اگر ہر خیال آمد کی شکل میں ہوتا ہے تو کیا یونہی بیٹھے بٹھائے کسی شخص پر’ہیملٹ‘ یا ’ہیر وارث شاہ ‘ اتر ہو سکتی ہے ؟اِن سوالات کے جوابات جاننے میں اگر آپ کو دلچسپی ہے تو مکرمی عرفان جاوید کا مضمون ’خیال کہاں سے آتا ہے ؟‘ پڑھنا پڑے گاجس میں انہوں نے مستند تاریخی اور ادبی حوالوں کی مدد سے اِن گتھیوں کو سلجھانے کی کوشش کی ہے۔بنیادی سوال کا جواب دیتے ہوئے عرفان جاوید لکھتے ہیں کہ’’ایک فلسفی کو امکانی طور پر فلسفے سے متعلق ہی خیال آئے گا ۔اِس بات کا امکان کم ہے کہ ایک ڈاکٹر کو طیارے کی اڑان میں جدت کا کوئی تکنیکی خیال سوجھے یا ایک انجینئر کے ذہن میں سرطان سے شفا دینے والی کسی پیچیدہ دوا کی ترکیب آئے ۔۔۔۔یوں قدرت نے اِس معاملے میں حد بندی کا اہتمام کر رکھا ہے ۔ اِس کی مثال یوں بھی دی جا سکتی ہے کہ ریڈیو فضا میں موجود صوتی لہروں ہی کو وصول کرنے کا اہل ہوگا ،وہ عکسی لہروں کو پکڑنے کا اہتمام نہ کر پائے گاکہ اس کے ہاں فقط آواز سنانے کا اہتمام ہے۔۔۔البتہ مستثنیات موجود ہیں ۔۔۔‘‘

عرفان جاوید کا ماننا ہے کہ اکثر بڑے ادیبوں کو بیٹھے بٹھائے کوئی خیال سوجھ جاتا ہے ،مثلاً ٹالسٹائی رات کے کھانے کے بعد صوفے پر نیم دراز تھا کہ ایک عورت کے سفید مرمریں بازو کی ’کہنی ‘ کی ایک جھلک اس کی چشم تصور کے سامنے لہرا گئی ، یہیں سے اُس نے اپنے ناول اینا کارنینا کا مرکزی خیال بننا شروع کیا مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسی لمحے ٹالسٹائی پر پورا ناول وارد ہو گیا ، عرفان کے الفاظ میں لکھوں تو ’’کہنے کو تو وہ ایک عظیم ادیب کا چند لمحوں پر مشتمل گیان اور خیال تھا مگر اس کے پیچھے خیال کاری کا ایک پیچیدہ و وسیع سلسلہ تھا جو شعور ، تحت الشعور ، جین، ذہنی تربیت، ودیعت کردہ خوبی،ماحول اور پرواز خیال سمیت بے شمار عناصر کو متحرک کر گیا۔‘‘ اِس جملے میں گویا عرفان نے دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہے ۔بے شک کسی ناول ، افسانے یا غزل کا تصور ادیب کے ذہن میں بیٹھے بٹھائے آ سکتا ہے مگر اِس تصور کو پایہ تکمیل تک پہنچانے اور اسے ادب کا شہ پارہ بنانے کے لیے انتھک محنت کرنی پڑتی ہے ۔ اسی ٹالسٹائی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ’وار اینڈ پیس ‘کے مسودے کو اُس نے تقریباً پچاس مرتبہ درست کیا ۔اِس کڑی محنت کے بغیر اعلی ٰ ادب تخلیق کرنا ممکن نہیں۔تاہم کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی لکھاری پر اچانک پوری کہانی ’نازل ‘ ہو جاتی ہے یاکسی شاعر پر فی البدیہہ غزل ’اتر ‘ جاتی ہے لیکن اصل میں اِس ’اچانک ‘ کے پیچھے پوری ریاضت ہوتی ہے جس کے بغیر یہ ’آمد ‘ ممکن نہیں۔یعنی جب کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ یہ ’خیال میرے ذہن میں آیا ‘ تو اِس کا یہ مطلب فرض نہیں کیا جا سکتا کہ اُس شخص کو آمد ہی ہوئی۔میری رائے میں آمد اسی صورت میں ہوتی ہے جب کوئی شخص اس کی سعی کرتا ہے ۔ یہ ممکن نہیں کہ ایک شخص نے ریاضی کی الف بے بھی نہ پڑھی ہو اور اُس پر Binomial Theorem اتر جائے یا کسی نے کچی کا قاعدہ تک نہ پڑھا ہو اور اُس پر فردوسی کا شاہنامہ نازل ہو جائے !

عرفان جاوید کا یہ شاہکار مضمون اُن کی نئی نویلی کتاب ’عجائب خانہ ‘ میں شامل ہے ۔اڑھائی سو صفحات کی یہ کتاب کسی انسائیکلو پیڈیا سے کم نہیں ۔ یوں سمجھیں کہ کتا ب اور صاحب دونوں اسم با مسمیٰ ہیں ۔عرفان جاوید کی تحریر کووجاہت مسعود نے ’اُڑتے ہوئے رنگوں میں پاس‘ کیا ہوا ہے ،سو بندہ اُس پر تبصرہ کرنے کا اہل نہیں ۔ کالم کی تنگ دامنی کے باعث میں ’عجائب خانہ ‘ کے باقی مضامین کا ذکر نہیں کر سکا حالانکہ اِس کتاب کا ہر مضمون ہی پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔اگر کسی کا خیال ہے کہ میں نے عرفان جاوید کی زیادہ ہی تعریف کر دی ہے تو میں اِس کے لیے اقربا پروری کا طعنہ بھی قبول کرنے کے لیے تیار ہوں گو کہ عرفان سے میرا خون کا رشتہ نہیں صرف دل کا رشتہ ہے ۔

کالم کی دُم:جو لوگ اب تک عرفان جاوید کی کتاب نہیں پڑھ سکے اُن کے لیے اطلاعاً عرض ہے کہ اِس کتاب میں ایک مضمون ’اخبار میں لپٹی بوتل ۔۔جنس ۔۔۔زندگی ،فن و ادب‘ کے نام سے بھی ہے۔ صرف بالغوں کے لیے