خطبہ حجۃ الوداع اور میگنا کارٹا (Part 1)- Dr A Q Khan

36

ہمارے پیارے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم، رحمۃ للعالمینؐ، خاتم النبیینؐ نے آخری خطبہ 9؍ذوالحجہ، 10 ہجری (632 عیسوی) میں میدان عرفات میں دیا۔ وہ میں آپ کی خدمت میں پیش کررہا ہوں۔ اس کا ایک مقصد ہے جو میں بعد میں آپ کی خدمت میں پیش کروں گا۔ یہ خطبہ آپ ﷺ نے اونٹنی پر بیٹھ کردیا تھا۔

رحمتِ عالم حضرت محمد ﷺ نے اپنے آخری حج کے موقع پرعرفات و منیٰ میں عظیم الشان خطبے ارشاد فرمائے جو قیامت تک آنے والی نسل انسانی کے لئے عظیم منشور و دستور ہیں۔ چنانچہ 9؍ذوالحجہ کو میدان عرفات میں آپ ﷺ نے جو خطبہ ارشاد فرمایا، اس کا ترجمہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہوں۔

ﷲ پاک کی حمد و ثنا کے بعد آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ:’لوگو! میری بات غور سے سنو۔ میرا خیال ہے کہ اس سال کے بعد اس جگہ پر تم سے نہ مل سکوں اور نہ شاید اس سال کے بعد حج کرسکوں۔ لوگو! ﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور تمہارے بہت سے قبیلے اور خاندان بنا دیئے ہیں۔ تاکہ تم پہچانے جا سکو۔ یعنی باہم ایک دوسرے کی شناخت کرسکو اور ﷲ تعالیٰ کے نزدیک تم میں سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے۔کسی عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت اور برتری نہیں ہے اور نہ کسی کالے کوگورے پر اور گورے کو کالے پر فضیلت اور برتری۔ صرف پرہیزگاری کی بنیاد پر ہے۔ تم سب لوگ آدم علیہ السلام کی اولاد ہو اور آدم علیہ السلام مٹی سے پیدا کئے گئے ہیں۔ خبردار خون یا مال کا ہر وہ دعویٰ جس کے لوگ مدعی ہیں وہ میرے قدموں تلے ہیں۔(میں اسے باطل قرار دیتا ہوں) مگر بیت ﷲ کی نگرانی اور حاجیوں کو پانی پلانے کی خدمت حسبِ دستور ملے گی‘‘۔

اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا :’’اے گروہ قریش قیامت کے دن ایسا نہ ہو کہ تم دنیا کا بوجھ اپنی گردنوں پر اٹھاتے ہوئے آئو اور لوگ آخرت کا سامان لے کر آئیں۔ یاد رکھو اگر ایسا ہوا تو میں تمہیں ﷲ کے عذاب سے نہ بچاسکوں گا‘‘۔

خبردار! زمانہ جاہلیت (قبل از اسلام) کی تمام رسمیں میرے قدموں کے نیچے روند دی گئی ہیں۔ زمانہ جاہلیت کے تمام خون (خواہ وہ کسی کے بھی ہوں) معاف ہیں۔ (اب فریقین میں سے کوئی اس کا بدلہ نہ لے گا)میں اس سلسلے میں سب سے پہلے اپنے ہی خاندان کا ایک خون جو ربی ابن حارث کے بیٹے کا ہے، معاف کرتا ہوں۔ واقعہ یہ تھا کہ عامر بن ربیع نے بنوسعد میں سے کسی دودھ پلانے والی کو طلب کیا تھا جسے ہذمل نے قتل کرڈالا تھا۔ دور جاہلیت کا ہر سود معاف ہے (اس قانون کی ابتداء بھی میں اپنی طرف سے کرتا ہوں ) اور اپنے عم محترم (چچا) عباس کا سود معاف کرتا ہوں۔ ان کا سود سب کا سب معاف اور کالعدم ہے۔

لوگو! تمہارے خون (جانیں)، تمہارے اموال اور تمہاری عزت و آبرو قیامت تک ایک دوسرے پر حرام ہیں۔ جس طرح تم پر اس دن ، اس مہینہ اور اس شہر کی حرمت واجب ہے اور تم سب عنقریب اپنے پروردگار سے جاملو گے۔ جہاں تم سے تمہارے اعمال کا محاسبہ ہوگا۔

اے لوگو! تمہاری عورتوں پر تمہارے کچھ حقوق ہیں اور اسی طرح تم پر تمہاری عورتوں کے حقوق ہیں۔ تمہارا ان پر یہ حق ہے کہ تمہارے بستر پر کسی ایسے آدمی کو نہ بیٹھنے دیں جسے تم پسند نہیں کرتے۔ نیز ان پر تمہارا یہ حق ہے کہ کھلی بے حیائی کا کوئی کام نہ کریں۔ لیکن اگر وہ کریں تو تمہارے رب نے تمہیں اجازت دی ہے کہ ان کے سونے کی جگہ اپنے سے الگ کردو۔

(اگر اس سے بھی باز نہ آئیں) تو پھر تمہیں اجازت ہے کہ ایسی ہلکی مار مارو جس سے بدن پر نشان نہ پڑیں۔ اگر وہ اپنی نازیبا حرکتوں سے باز آجائیں تو حسبِ دستور ان کا کھانا اور کپڑا تمہارے ذمہ ہے۔

خبردار کسی عورت کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنے شوہر کے مال میں سے اس کی اجازت کے بغیر کسی کو کچھ دے۔ عورتوں کے ساتھ اچھا برتائو کرنے کے ہمیشہ پابند رہو کیونکہ وہ تمہاری نگرانی میں ہیں اور اس حیثیت سے نہیں کہ اپنے معاملات خود چلاسکیں۔ عورتوں کے معاملے میں ﷲ سے ڈرتے رہو۔ تم نے ان کو اللہ کی امانت کے طور پر حاصل کیا ہے اور ﷲ کے کلمات کے ذریعے انہیں جائز و حلال کیا ہے۔

لوگو! ﷲ تعالیٰ نے (میراث کا قانون نافذ کرکے) ہر حق دار کو اس کا حق دے دیا ہے۔ اس لئے اب کسی وارث کے حق میں وصیت جائز و نافذ نہیں۔ بچے کا نسب اس مرد سے ہوگا جس کی وہ بیوی ہے۔ جس نے بدکاری کی اس کےلئے سزا ہے۔ بچہ اس کا نہیں کہلائے گا اور اس کا حساب کتاب ﷲ کے ذمہ ہے۔ جس نے اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف نسبت کی یا کسی غلام نے اپنے کو کسی اور مالک کی طرف منسوب کیا اس پر خدا کی لعنت ہے۔ قرض ادا کیا جائے گا ۔ ضامن تاوان کا ذمہ دار ہے۔ خبردار جرم کرنے والا خود اپنے جرم کا ذمہ دار ہے۔ باپ کے جرم کا ذمہ دار بیٹا نہیں اور بیٹے کے جرم کا ذمہ دار باپ نہیں۔ کسی شخص کے لئے کسی بھائی کی چیز لینا جائز نہیں۔ البتہ اس صورت میں جائز ہے کہ وہ خوش دلی کے ساتھ دے۔ پس تم لوگ اپنے اوپر ظلم و زیادتی نہ کرو۔

لوگو! خوب اچھی طرح سمجھ لو کہ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور سب مسلمان آپس میں ایک دوسرے کے بھائی بھائی ہیں۔ تمہارے غلام تمہارے غلام ہیں۔ تم جو کچھ خود کھاتے ہو انہیں بھی کھلائو اور جو خود پہنو انہیں بھی پہنائو۔

خبردار! میرے بعد گمراہ یا کافر نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ جس شخص کے پاس کسی کی امانت ہو اس پر لازم ہے کہ وہ امانت والے کو ٹھیک ٹھیک طریقہ سے لوٹا دے۔ اگر کوئی نکٹا (ناک کٹا) اور سیاہ فام حبشی تمہارا امیر بنا دیا جائے اور وہ کتاب ﷲ (قرآن مجید) کے مطابق تمہاری قیادت کرے تو تم پر اس کی اطاعت لازم ہے۔

اے لوگو! میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی امت نہیں ہے۔ میں تمہارے اندر ایک نعمت چھوڑے جارہا ہوں۔ اگر تم مضبوطی سے اسے تھامے رہو گے تو گمراہ نہ ہوگے اور وہ نعمت کتاب ﷲ (قرآن مجید) اور میری سنت (حدیث) ہے۔(جاری ہے)