خدا کو کیا جواب دو گے؟ – Hina Pervez Butt

42

2سال، 10ماہ ہوا ہو گئے، مجال ہے کوئی دن ایسا گزرا جن وزیر اعظم کے کسی بیان کے باعث کشیدگی پیدا نہ ہوئی ہو، اب موصوف نے ایک ہی جملے میں صنفِ نازک کو مجرم ٹھہرا ڈالا، معلوم نہیں کہ کون کج عقل اسکرپٹ رائٹر ہے جو ہر انٹرویو اور خطاب سے پہلے سوال و جواب کی فہرست مرتب کرتا ہے، اگر واقعی کوئی اس کام پر فائز ہے تو اُسے بھی یہ فہم نہیں کہ خطاب اور انٹرویو کے بعد فیڈ بیک کیا آسکتا ہے؟

کہنے والے تو یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ پلانٹڈ انٹرویو تھا جس میں جنسی زیادتی بارے مخصوص بیانیہ پھیلا کر کسی بڑے ایجنڈے کی تکمیل کی جارہی ہے، وہ بڑا ایجنڈا کیا ہے وہ بھی جلدسامنے آہی جائے گا لیکن جنسی زیادتی کا جواز سن کر دنیا بھر سے پاکستانی اور غیرملکی عوام، میڈیا کا ردِعمل بڑا ہی شدید دیکھا جا رہا ہے، سوشل میڈیا پر سوالوں کی بھرمار نے مجبور کردیا کہ اس موضوع کو احاطۂ تحریر میں لایا جائے۔ اگر واقعی زیادتی کی وجہ عورت کے کم کپڑے ہیں تو کے پی سمیت دنیا بھر میں زیادتی کے شکار لڑکوں اور خواجہ سرائوں کا کیا قصور ہے؟ ان کیسوں میں تو نہ عورت موجود ہوتی ہے اورنہ مختصر کپڑے؟ منوں مٹی تلے دفن کفنوں میں ملبوس پامال ہونے والی مردہ بچیوں اور خواتین کا کیا قصورہے؟ کیا واقعی کفن میں ملبوس ان کے مردہ اجسام عریانیت پھیلانے کے جرم کا ارتکاب کرتے ہیں؟ جس کو جواز بنا کر ہوس زدہ زانی ان کے بےجان اجسام کو پامال کرنے سے گریز نہیں کرتے، اکثر لواحقین تو ایسے واقعات کو رپورٹ ہی نہیں کرتے جس کی وجہ سے یہ واقعات شائع ہی نہیں ہو پاتے۔

ننھی فاطماؤں، جنتی زینبوں اور ضعیف مائوں کے کپڑے مختصر نہیں ہوتے تو پھر کون سا ایسا بدترین جذبہ یا جنون ہوتا ہے جو ان درندہ نما انسانوں کے جذبات کو بےقابو کردیتا ہے اور وہ ظلم کا شکار ہو جاتی ہیں؟ دیہات اور کھیتوں میں کام کرنے والی بہنوں، بیٹیوں اور ماؤں کے چہرے مطلوبہ چمک دمک اور جسم خوشبوؤں سے محروم ہوتے ہیں، وہ کیسے کسی کے جذبات کو ہوا دے سکتے ہیں؟ تو پھر کیا وجہ ہے کہ یہ جنسی درندے اکیلے پاکربلا تامل ان کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا ڈالتے ہیں؟ سمجھا جاتا ہے کہ شہری زیادہ جنس پرستی کے غلبے تلے دبے ہوتے ہیں جبکہ دیہاتی شریف شُرفے ہوتے ہیں، پھر دیہات میں جانوروں تک کی عصمت دری کیوں رکنے میں نہیں آ رہی ہے؟

برقع میں ملبوس عورتوں کو آسان شکار سمجھ کر معاف نہ کرنے والوں کو کیسے مرد پکاروں؟ میرا ان سے سوال ہے، کیسے ذی روح ہو کہ تمہیں اپنی بھوک پر قابو ہی نہیں؟ کیسے نام نہاد طاقتور مرد ہو کہ معمولی سی جنبش پر تمہارے جنسی جذبات ابل پڑتے ہیں؟ کیوں تم جنس کا نام سن کر ہی اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھتے ہو؟ کیسے بہادر ہو کہ کمزور غریب جسموں کو پاکر پاگل پن تم پر سوار ہو جاتا ہے؟ کیسے بدقسمت ہو کہ تم سے تمہاری اپنی بیٹیاں اور بہنیں بھی محفوظ نہیں؟ یہ پکار ہے ایک بیٹی کی، ایک بہن کی اور ایک ماں کی کہ کب تک ہمارے معاشرے میں گندگی کا یہ گھناؤنا کھیل جاری رکھا جائے گا؟ کب تک نام نہاد مسلط اربابِ بست و کشاد متاثرین کو گنہگار قرار دے کر مجرموں کو تحفظ دیتے رہیں گے؟ یاد رکھو تم سب بھی قومِ لوط کی طرح خدا کی طرف ضرور لوٹائےجاؤ گے تو اُس وقت کیا جواب دو گے؟