جنوبی پنجاب: سیاست کا نیا اکھاڑا – Imran Yaqub Khan

23

سیاست کے جادوگر اور مفاہمت کے بادشاہ کی شہرت رکھنے والے سابق صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے لاہور میں ڈیرے ڈالے تو ہر سیاسی سوچ و فکر رکھنے والے ذہن میں خیال آیا کہ کیا ہونے جا رہا ہے؟ یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ زرداری صاحب کی قیادت میں پیپلز پارٹی سکڑ کر سندھ تک محدود ہو چکی ہے اور پنجاب میں ان کی تنظیمی حالت بھی اچھی نہیں رہی۔ ان حالات میں ان کا لاہور میں ڈیرے ڈالنا ایک معمہ سمجھا جا رہا ہے‘ لیکن مسلم لیگ ق کے رہنما چوہدری پرویز الٰہی سے ملاقات کے دوران ہونے والی گفتگو ان کے عزائم اور مستقبل کے سیاسی نقشے کا پتہ دیتی ہے۔

قومی میڈیا میں ذرائع کے حوالے سے شائع شدہ اندرونی کہانی کے مطابق دوران ملاقات آصف زرداری نے پرویز الٰہی کو مخاطب کرکے کہا ”آپ ہمارے بھی اتحادی تھے اور اس حکومت کے بھی ہیں، فرق تو پتا چل گیا ہوگا؟ عمران خان کبھی سیاستدان نہیں تھے، خان کو لانے والے بھی اب پچھتا رہے ہیں، اگلے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی سب کو سرپرائز دے گی۔ عمران خان اور وزرا یہ سمجھتے ہیں کہ دھمکیوں سے وہ سندھ حکومت کو ڈرا دیں گے تو یہ ان کی بھول ہے۔ ہم نے تو آمروں کا مقابلہ کیا ہے، یہ عمران خان اور انکی حکومت کیا چیز ہے؟ بلاول بھٹو نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ بہترین اپوزیشن کرنا جانتا ہے۔ جنوبی پنجاب کی اہم شخصیات پیپلز پارٹی میں شامل ہوں گی‘‘۔

قومی میڈیا میں اندرونی کہانی کے نام پر سامنے آنے والی گفتگو کے مطابق پرویز الٰہی نے کہا ”اتحادی ہونے کے باوجود متعدد مرتبہ حکومتی پالیسوں سے اختلاف کیا۔ بجٹ اجلاس کے دوران تمام اسمبلیوں میں ہنگامہ آرائی ہوئی مگر ہم نے پنجاب میں ایسا نہیں ہونے دیا۔ اب تحریک انصاف کے اتحادی ہیں تو انتخابات تک پی ٹی آئی کے اتحادی ہی رہیں گے‘‘۔ پرویز الٰہی نے پیپلز پارٹی کے نوجوان چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی تعریف بھی کی اور کہا کہ قومی اسمبلی میں متعدد مرتبہ بلاول بھٹو کی تقریر سنی‘ بہت میچور بات کرتے ہیں۔

اس گفتگو کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ آصف علی زرداری اگلے الیکشن کی تیاری کے لیے لنگوٹ کس چکے ہیں۔ ملک میں اس وقت چونکہ ایک سابق کرکٹر کی حکومت ہے اس لیے کرکٹ کی زبان میں بات کی جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ زرداری پہلے سے جاری میچ کو جلد ختم ہوتا دیکھ رہے ہیں اور نئے میچ کے لیے گراؤنڈ اور پچ کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ نئے کھلاڑیوں کی تلاش میں ہیں۔ آصف علی زرداری کا پرویز الٰہی کو یہ یاد دلانا کہ وہ ان کے اتحادی تھے اور اس حکومت کے بھی اتحادی ہیں، فرق تو سمجھ آیا ہوگا، بہت معنی خیز ہے۔ پنجاب میں کمزور پارٹی صورتحال کے ساتھ میچ کو اپنے حق میں کرنے کیلئے آصف علی زرداری پرانے اتحادیوں کو ایک بار پھر لبھا رہے ہیں اور بہتر اتحادی ہونے کے وعدے کررہے ہیں۔

سابق صدر آصف علی زرداری نے وزیر اعظم عمران خان پر بھی تبصرہ کیا اور انہیں سیاستدان ماننے سے انکار کیا‘ اور بات یہیں تک محدود نہ رکھی بلکہ کہا کہ انہیں کوئی اور لایا تھا اور اب لانے والے پچھتا رہے ہیں‘‘۔ سابق صدر کے اس تبصرے سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ مقتدرہ کی سوچ پڑھ رہے ہیں اور اس کے مطابق حکمت عملی ترتیب دے رہے ہیں۔ ان کی گفتگو کا سب سے اہم جملہ آنے والے دنوں میں جنوبی پنجاب سے انفرادی طور پر حلقہ جاتی سیاست میں مضبوط شخصیات کی پیپلز پارٹی میں شمولیت کا دعویٰ ہے۔ سابق صدر یہ سمجھ رہے ہیں کہ جنوبی پنجاب محاذ کے ارکان اس حکومت کی طرف سے وعدے وفا نہ ہونے پر نئی منزلوں کی طرف اڑان بھریں گے۔ ان کا خیال ہے کہ جنوبی پنجاب محاذ کے ارکان کی بڑی تعداد ان کے ساتھ آسکتی ہے۔ یہ اندازہ اس لیے لگایا جا رہا ہے کہ حکومتی کشتی میں سوار ارکان کے لیے دو ہی چوائسز ہو سکتی ہیں، پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ ن۔ پہلی چوائس زیادہ بہتر اس لیے نظر آ رہی ہے کہ مسلم لیگ ن مشکل وقت میں ساتھ کھڑے رہنے والے ارکان کو قربان کرکے مرغان بادنما کو کیونکر ایڈجسٹ کرے گی۔ اس کا اشارہ جہانگیر ترین نے بھی سینئر صحافیوں کے گروپ کے ساتھ ملاقات میں دیا تھا، اگرچہ انہوں نے پیپلز پارٹی کو آپشن نہیں کہا تھا لیکن مسلم لیگ ن سمیت تمام آپشنز کھلی رکھنے کا اعتراف کیا تھا۔

سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی پنجاب کی روایات کے پاسدار ہیں۔ انہوں نے سابق صدر پر واضح کیا کہ ان کے ساتھ حکومتی اتحاد میں جو بھی سلوک ہوا، اس کی مدت پوری ہونے تک وہ اتحاد کا حصہ رہیں گے۔ اس کے ساتھ چوہدری صاحب نے مستقبل کے امکانات کو بھی وا رکھا اور پیپلز پارٹی کے نوجوان چیئرمین بلاول بھٹو کی سیاست کی تعریف کی۔

اس ملاقات میں سابق صدر نے جنوبی پنجاب پر مسلم لیگ ق کی توجہ کی تعریف کی۔ یہ وہ نکتہ ہے جس پر اگلے الیکشن میں سب سیاسی جماعتوں کا زور ہوگا۔ تحریک انصاف نے جنوبی پنجاب کا صوبہ بنانے کا وعدہ کیا تھا لیکن تین سال میں محض سیکرٹریٹ کا لالی پاپ دیا گیا۔ میرے نزدیک تو سیکرٹریٹ کی اصطلاح ہی غلط ہے۔ جب صوبے کا وجود نہیں تو سیکرٹریٹ کیسے بن سکتا ہے؟ دراصل چند دفاتر بنائے گئے لیکن ان دفاتر سے عوام کے مسائل ملتان میں حل نہ ہو سکے کیونکہ وہاں کوئی ون ونڈو نہیں تھی‘ جہاں عوام رجوع کرتے اور ایک چھت تلے ان کے مسائل اور شکایات کو سنا اور حل کیا جاتا۔ مسلم لیگ ق کا جنوبی پنجاب میں ووٹ بینک موجود ہے لیکن پیپلز پارٹی باقی پنجاب کی طرح وہاں بھی کوئی مؤثر تنظیم نہیں رکھتی۔ تحریک انصاف کو وعدے پورے نہ کرنے پر جنوبی پنجاب میں جو نقصان اٹھانا پڑے گا اور اس کا جو ووٹ بینک متاثر ہوگا اب باقی جماعتیں اس ووٹ بینک میں حصہ چاہتی ہیں لیکن اس کیلئے جب تک مؤثر تنظیم اور نمائندگی نہیں ہوگی کسی کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔ مسلم لیگ ق کا بھی جنوبی پنجاب میں الیکٹیبلز پر انحصار ہے اور تنظیم کا وجود نہیں۔ اس ملاقات میں عام انتخابات کی تیاری پر بات ہوئی لیکن سابق صدر کو بھی یہ اندازہ ہوگا کہ اب وقت کم رہ گیا ہے، جس مؤثر انداز میں انتخابی اکھاڑے میں اترنے کی ضرورت ہے اس کیلئے پنجاب میں ان کی تیاری نہیں۔ اس ملاقات سے یہ تاثر ابھرا ہے کہ سابق صدر سندھ کی نشستوں کے ساتھ پنجاب اور کے پی سے کچھ نشستوں پر زور لگانا چاہتے ہیں تاکہ اگلے الیکشن میں مرکز میں ان کی پوزیشن بہتر ہو۔ پنجاب میں ان کی توجہ کا مرکز جنوبی پنجاب ہے۔ جہاں تک کے پی کی بات ہے تو ماضی بتاتا ہے کہ کے پی کے عوام کسی بھی حکومت کو زیادہ عرصہ تک مسلط نہیں رہنے دیتے۔

پیپلز پارٹی بلوچستان میں ‘باپ‘ کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتی ہے۔ جنوبی پنجاب اور کے پی سے اگر ان کی توقعات پوری ہو جائیں تو اگلے الیکشن میں مرکز پر کنٹرول کا خواب پورا کرنا آصف علی زرداری صاحب کی سیاسی جادوگری کیلئے مشکل مہم نہیں ہوگی۔ یہی وہ سیاسی نقشہ ہے جس پر سابق صدر کام کر رہے ہیں۔ مقتدرہ کی موجودہ سیٹ اپ سے بیزاری کے حوالے سے اگر سابق صدر کا دعویٰ درست ہے، تو یہ صورتحال اپوزیشن جماعتوں کے لیے امکانات کے نئے در وا کر رہی ہے اور زرداری صاحب ان امکانات کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتے۔

تحریک انصاف کی حکومت کو اب سیاسی انتقام کا تاثر ختم کرکے کارکردگی پر توجہ دینا ہوگی ورنہ بازی پلٹ سکتی ہے۔ اپوزیشن کی قیادت کو وفاقی اداروں کے ذریعے بار بار طلب کرنے، ان کے سر پرگرفتاری کی تلوار لٹکانے، ان سے ہونے والی تفتیش کی من پسند کہانی میڈیا کو ‘لیک‘کرنے سے اب کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ چند ماہ باقی ہیں، اگر عوام کو کوئی حقیقی ریلیف دے پائے تبھی ووٹ بینک بچے گا ورنہ کرائے کے ترجمان بھی اپنی اپنی راہ لیں گے اور کپتان کی طویل اور صبر آزما سیاسی جدوجہد کا ثمرعوام تک نہ پہنچا تو عوام بھی انہیں روایتی سیاستدان کے درجے پر لا کھڑا کریں گے۔