جمہوریت بچانی ہے، وراثتی سیاستدان نہیں! | Shama Junejo

161

پاکستان کا المیہ ہی یہ ہے المیہ کچھ اور ہوتا ہے، بن کچھ اور جاتا ہے۔

مسئلہ ایک ہوتا ہے، لیکن اس کے ساتھ کچھ ایسا اور ہوجاتا ہے کہ اصل مسئلے کو چھوڑ کے سب اس دوسرے نان ایشو پر پل پڑتے ہیں اور یوں مسائل در مسائل در مسائل کا ایک انبار ہے کہ ختم ہونے کو ہی نہیں آرہا۔ پانامہ کیس کا بھی فیصلہ آیا تو اس سے پہلے کے طوفان کچھ زور پکڑتا، بات دس ارب پر جاکے اٹک گئی۔ یہی کچھ پچھلے دو دن سے ہوا کہ مسئلہ تو کچھ اور تھا، بن کچھ اور گیا۔ ایشو ڈان لیکس کی متنازع نوٹیفکیشن کا تھا، لیکن بات ایک ٹویٹ پر جا اٹکی اور اداروں کے درمیان تصادم الگ ہوا جگ ہنسائی الگ۔

کیونکہ پاکستان شاید واحد ملک ہے جہاں سوائے نیوکلئیر رازوں کے اب بس سب کچھ لیک ہونے لگا ہے۔ ہر چیز۔ ہر راز۔ ہر میٹنگ۔ اچک لی جاتی ہے۔ اور پھر اس کے بعد ٹرمپ کی پیروی کرتے ہوئے سوچے سمجھے بغیر ایسے ٹویٹس ہوجاتے ہیں کہ بات کچھ سے کچھ بن جاتی ہے۔

لہٰذا کل جب ڈان لیکس کا نوٹیفکیشن لیک ہوا تو پنڈی پہنچنے سے پہلے ہی اچکنے والوں نے ٹویٹر پر پھیلا دیا۔ طارق فاطمی نے تو چلیں اس رپورٹ کے مطابق ایک پریزنٹیشن دی تھی، لیکن راؤ تحسین کا کیا قصور تھا وہ سمجھ سے بالا تر ہے۔ راؤ تحسین نے معاملہ چیلنج کرنے کا فیصلہ تو کیا ہے کہ ایک سرکاری افسر کا کیا قصور تھا جس کا اس قصے میں کوئی کردار بھی نہیں تھا۔ لیکن میرے خیال میں اب یہ وقت ہے کہ وہ بھی لیک کر ہی دیں کہ بات لیک کس نے کی تھی، گو کہ یہ بھی لیک ہو ہی چکا ہے، لیکن نام پھر بھی سامنے آنے چاہیئں۔ دوسری طرف آپ کس طرح سے آپ اے پی این ایس کو پابند کر سکتے ہیں کہ وہ اس اخبار جو کہ پاکستان کی تخلیق سے پہلے کام کر رہا ہے، پر یہ الزام لگا دیں کہ جھوٹی خبر چھاپی ہے۔

ڈان لیکس کے معاملے میں خبر اتنی بڑی نہیں تھی، جتنا بڑا رد عمل آیا کہ جیسے پاکستان کے نوکلئیر رازوں کو عیاں کردیا گیا۔ کیونکہ پاکستان میں پنڈی کے تھلے (نیچے) لگنا ایک آسمانی صحیفے کے مانند بن چکا ہے، جس پر ذرا سا بھی کالم آجائے تو نیوز لیکس بن جاتا ہے۔ اسی طرح کل بھی خبر یہ نوٹیفکیشن نہیں بلکہ وہ رد عمل تھا جس نے نہ صرف پاکستان میں بلکہ پوری دنیا میں تہلکہ مچا دیا۔ پاکستانی فوج نے نہ صرف وہ نوٹیفکیشن مسترد کردیا بلکہ خود نئی تحقیقات کرانے کا عندیہ بھی دے دیا۔ لہٰذا خبر یہ بنی کہ آئینی طور پر آرمی جو کہ سویلین گونمنٹ کے ماتحت ادارہ ہے، وہاں سے کس اتھارٹی کے تحت یہ ٹویٹ کیا گیا؟

وار کرافٹ کا ایک بنیادی اصول ہے کہ اپنے دشمن پر وار کرتے ہوئے آپ کا بنیادی ٹارگٹ یہ ہونا چاہیے کہ اس پر ایسے وار کیا جائے کہ وہ اپنے اوسان کھو بیٹھے، اور ایسے جوابی وار کرے کہ اس کا اپنا نقصان زیادہ ہو۔ ہمارے سیاستدان جہاں کرپشن کی انتہاؤں پر پہنچے ہوئے ہیں، وہاں چالیں بھی ایسی چلتی ہیں کہ وہ ”لیفٹ رائٹ“ کی سائیکالوجی والوں کے اوپر سے گذر جاتی ہے اور یوں وہ ایسا جوابی وار کرتے ہیں کہ نقصان ان کو زیادہ ہو جاتا ہے۔

مجھے پاکستان ملٹری کی صلاحیتوں پر کبھی بھی کوئی شبہ نہیں رہا لیکن مجھے افسوس سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ برسوں اس دشت میں گزارنے کے باوجود ہمارے جرنیلوں کو سیاست نہیں آتی۔ وہ صرف بلیک اینڈ وائٹ ہی دیکھتے ہیں اور پھر ٹریپ ہوجاتے ہیں۔ کل کا ردعمل انتہائی غیر ذمہ دار اور بچکانہ تھا جس پر حیرت سے زیادہ افسوس ہوتا ہے کہ ”وہاٹ یو ہیو ڈن؟ “ مجھ سمیت اور بہت تجزیہ نگاروں کی یہی کیلکولیشن تھی کہ آرمی اس نوٹیفکیشن سے متفق نہیں ہوگی، اور وزیراعظم جو کہ پاناما کے جھٹکے کو جھیل گئے، ڈان لیکس کے نوٹیفکیشن میں اس ”پروووکیشن“ کی وجہ سے شاید اڑ جایئں گے۔ لیکن ”ریجیکٹڈ“ لفظ نے تو کہانی کا رخ ہی بدل گیا۔

اس ٹویٹ کی وجہ سے پاور سینٹر کا تصور ہی بدل گیا کہ اتھارٹی کہاں ہے۔ کم از کم وہاں تو نہیں ہے جس کا آپ نے پوری دنیا کو تاثر دیا ہوا ہے، نانا پاٹیکر ہوتا تو شاید یوں تبصرہ کرتا کہ ”سالا ایک ٹویٹ نے پوری جمہوریت کو ہیجڑا بنا دیا“۔ کیونکہ جتنی بھی شگر کوٹنگ کی جائے اب بھی وہی صورتحال ہے جہاں منتخب وزیر عظم کو کان سے پکڑ کر سلاخوں کے پیچھے بند کر دیا جاتا تھا۔ لہٰذا پاکستانی میڈیا بیشک جو بھی کہے، ہمارے حوالدار اینکرز کا طبقہ خواہ کیسے ہی اینالائز کرے لیکن مغرب اور ان تمام قوتوں کے لئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا ٹویٹ ان سارے بیانات کی نفی کر گیا جو کہ خود آرمی نے جمہوریت کی بالا دستی کے لئے دیے۔ یہ ابھی کچھ مہینوں ہی کی بات ہے کہ جرمن ٹی وی پر سابقہ ڈی جی آئی ایس پی آر کے انٹرویو نے پورے یورپ میں ایک خوشگوار تاثر دیا کہ پاکستان کی ملٹری جمہوریت کے ساتھ ہے لیکن کل اس سارے تاثر کا تیا پانچہ ہو گیا اور حقیقت وہی سامنے آئی، جس کو جھٹلا جھٹلا کے ہم تھک گئے ہیں۔ اور یہی ہوا کہ لندن میں بینک ہالیڈے کے باوجود مجھ سے ”پوچھنے والے“ تبصرہ کرتے رہے کہ پاکستان میں طاقت کا محور ابھی تک پنڈی ہے، اسلام آباد نہیں تو یہ جمہوریت کا کیا ڈھکوسلہ ہے؟

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وزیر اعظم کے ڈائریکٹو میں آخر ایسا کیا تھا کہ پیرا 18 کو پڑھے بغیر یوں فائرنگ شروع کردی جاتی کہ اس کا نقصان اسلام آباد کے بجائے خود پنڈی کو نقصان ہوا ہے اور مجھ سمیت وہ سارے لوگ جو پاناما لیکس پر لٹھ لے کے کرپٹ سیاستدانوں کے پیچھے پڑے ہوئے تھے، مرغیوں کی طرح پر پھیلا کے ٹویٹس پر ٹویٹس کرنا شروع ہوگئے کہ دھرنوں کی گندگی سے اٹی اور کرپشن کی غلاظت میں لتھڑی، لولی لنگڑی ہی سہی لیکن یہ رہی سہی جمہوریت ہی نہ چلی جائے۔

کیونکہ ایسی ٹون تو کبھی مارشل لگاتے ہوئے بھی نہیں سامنے آئی کہ ”سب مسترد“ اور فل اسٹاپ۔

ڈان لیکس کا جو بھی قضیہ تھا اس پر بھی دو رائے ہیں کہ یہ کیا نیشنل سیکورٹی میٹنگس میں ہونے والے آرگومنٹس پر لاگو ہوتی ہے یا قومی راز عیاں کرنے میں؟ یہاں فوج کا موقف تھا کا ہم نے وہ بات کی ہی نہیں جو کہ لیک کی گئی۔ معاملہ لیک کرنے والے کو پکڑنے پر تھا۔ اس پر اگر رد عمل آتا بھی تو ایسے نہیں جیسے آیا اور اس سے کلپرٹس کو زیادہ فائدہ پہنچا کہ اب اگر وہ گئے (جو کہ نہیں جایئں گے کیونکہ ڈیل یہی ہے کہ جمہوریت چلنی چاہیے) تو پاناما کیس میں عدالتی جھرلو سے بچنے کے باوجود بھی سیاسی شہید ہی کہلائیں گے۔

لہٰذا جمہوریت چاہیے، یہ سیاستداں نہیں جنہوں نے جمہوریت کو خاندانی بادشاہت کے نام پر مذاق بنایا ہوا ہے۔ اگر“ ٹویپلومیسی“ کرنی ہے تو ”موڈیسٹ“ انداز میں یہ بیداری پیدا کریں کہ کس طرح نسل در نسل در نسل خاندانوں ہی نے بادشاہ بن کر حکومت کی ہے اور ان کو منتخب کرنے والے بھی کوئی اور نہیں، ہم ہی ہیں۔ ہم نے آج تک بھٹو کو صرف اسی کے خاندان میں تلاش کیا ہے، اور اب میاں صاحب کو بھی پوری پارٹی میں اپنے خاندان کے علاوہ اور کوئی متبادل نظر نہیں آتا۔ بدلنا ہے اس نظام کو بدلیں جس میں کوئی غریب الیکشن نہیں لڑ سکتا۔

لیکن اس کے لئے کیا سسٹم کو ہی لپیٹ دیا جائے؟ اور اگر ایسا کیا بھی جائے تو کیا اس نریٹیو کو فالو کیا جائے جس میں آئی ایس پی آر پروڈکشن کے تحت احسان اللہ احسان ہمیں سکھائے گا کہ اسلامی تعلیمات کیا ہیں؟