تین تصویریں، ایک عید کارڈ اور شاعری – Hassan Nisar

24

پہلی تصویر ہفتہ دس دن پہلے نظر سے گزری جو زندگی بھر بھلائی نہ جا سکے گی۔ یہ لاہور کے کسی کمرشل ایریا کی تصویر تھی جس میں ایک بچہ کسی کھڑی موٹر سائیکل کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑا موٹر سائیکل کی سیٹ پر سر رکھے گہری نیند سو رہا ہے جس سے اس کی عمر اور قد کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ یہ تصویر اس وقت بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے اور میں سوچ رہا ہوں کہ یہ کس قسم کی مزدوری کی تھکن سے چور ہو کر سویا ہو گا۔ شاید موٹر سائیکل صاف کرتے کرتے سو گیا ہو کیونکہ نیند تو سولی پر بھی آ جاتی ہے، یہ تو پھر موٹر سائیکل ہے۔ پھر سوچا یہ بچہ روزے سے ہو گا یا مسلسل روزے کا عادی…اس نے سحری میں کیا کھایا ہو گا اور افطار کیسے کرے گا؟ اس کے ماں باپ کون ہوں گے؟ کیسے ہوں گے؟ ہوں گے بھی یا نہیں ہوں گے اور یہ اس گہری نیند سے بیدار کیسے ہوا ہو گا؟ خودبخود جاگ اٹھا ہو گا یا موٹر سائیکل کے مالک نے جگایا ہو گا تو کیسے جگایا ہو گا اور جاگ جانے کے بعد یہ بچہ کدھر جائے گا اور کیا کرے گا؟ یہ کبھی سکول جا سکے گا یا اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اس کے ساتھ یہی کچھ ہوتا رہے گا؟ میں کیا پورا پاکستان بھی اس سوال کا جواب نہیں دے سکتا۔

دوسری تصویر پاکستان میں برطانیہ کے ہائی کمشنر ڈاکٹر کرسچن ٹرنر کی ہے جس میں وہ کچرا بھرے دو عدد پلاسٹک بیگز لئے کھڑے ہیں۔ برطانوی ہائی کمشنر نے اپنے ٹویٹ میں ہم پاکستانیوں کو یاد دلایا کہ ’’صفائی نصف ایمان ہے‘‘ میں نے ایک بار لکھا تھا کہ ہم لوگوں نے ’’صفائی نصف ایمان ہے‘‘ کو ’’ہاتھ کی صفائی‘‘ سمجھ رکھا ہے کیونکہ ہر آدمی دوسرے کو ’’ہاتھ کی صفائی‘‘ دکھا رہا ہے۔ میرے نزدیک یہ ٹویٹ ہمارے اجتماعی چہرے پر کسی زناٹے دار تھپڑ سے کم نہیں لیکن ظاہر ہے اگر یہ چہرہ ہی سُن ہو چکا ہے تو ایک تھپڑ کیا، تھپڑوں کی برسات بھی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔

تیسری تصویر پڑوسی ملک بھارت کی ریاست آسام سے ایک ماں بیٹے کی ہے۔ بیٹے کا نام اکھل گگوئی ہے جس نے جیل میں ہوتے ہوئے بطور آزاد امیدوار اپنی بوڑھی والدہ کی مدد سے اپنی انتخابی مہم چلائی اور مودی کی پارٹی بی جے پی کے امیدوار کو شرمناک شکست سے دوچار کر دیا۔ کمال یہ ہے کہ خود وزیراعظم نریندر مودی اور اس کے وزیر داخلہ امیت شا نے اپنے امیدوار کے حق میں جلسے کئے، مہم چلائی لیکن مودی اور مہم ہار گئے، ممتا جیت گئی۔ مالی طور پر کمزور لیکن پُرعزم اکھل گگوئی 2019 سے جیل میں ہے۔ اس نوجوان کو شہریت کے متنازع بل کے خلاف عوامی رائے عامہ کو ہموار اور بیدار کرنے کے جرم میں جیل کی سزا دی گئی تھی لیکن اس کی 85سالہ والدہ نے حکمران جماعت کو خاک چٹا کر پورے خطہ کے خاک نشینوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ عام آدمی چاہے تو مچھر کی طرح نمرود کی ناک میں گھس کر بھی اسے سبق سکھا سکتا ہے۔

اب چلتے ہیں ایک عید کارڈ کی طرف جو لاہور قلندرز کے CEOعاطف رانا کی طرف سے موصول ہوا ہے۔ کرکٹ سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں لیکن عاطف رانا مجھے بہت پیارا اور عزیز ہے۔ اس کارڈ کے ساتھ چاکلیٹ اور ایک شوخ سی ٹی شرٹ بھی تھی جس کے فرنٹ پر ’’لاہور قلندرز‘‘ اور پیچھے میرا نام لکھا تھا۔ چاکلیٹ عاطف کی طرح لذیذ لیکن ٹی شرٹ بہت شوخ تھی۔ ایسے تیز رنگ تو میں نے جوانی میں نہ پہنے، بڑھاپے میں کیسے پہن لوں لیکن اس میں سب سے خوب صورت چیز ’’عید کارڈ‘‘ تھا۔ میرا دل کھل اٹھا کیونکہ مدت ہوئی ’’عید کارڈز‘‘ کا تو کلچر ہی ختم ہو چکا ہے جسے عاطف نے پھر سے زندہ کر دیا۔ ﷲ نے چاہا تو اگلے برس میں بھی دوست احباب کو خصوصی عید کارڈز بھیجوں گا جس کیلئے انسپائریشن عاطف سے ملی….شکریہ

اور آخر پہ ڈاکٹر طاہر مسعودی کی شاعری

کبھی

گلاب یا موتیا

کے پھولوں کو

سونگھتے ہوئے

سوچا

پھولوں میں

کہاں سے

آ گئی خوشبو