تیئس مارچ اور آدھا سچ – Hamid Mir

52

ہم پاکستانیوں کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمیں اپنی تاریخ کے متعلق ہمیشہ آدھا سچ بتایا گیا۔ آدھے سچ کی عمارت پر جو پاکستان کھڑا کیا گیا اس کا جغرافیہ بدل دیا گیا اور ہم نے آدھا پاکستان کھو دیا۔

آج بھی پاکستان میں کسی پبلک فورم پر یہ بحث کرنا بہت مشکل ہے کہ وہ ڈھاکہ جہاں 1906میں آل انڈیا مسلم لیگ نے جنم لیا اور وہ ڈھاکہ جہاں 23مارچ 1940کی قرارداد پیش کرنے والے اے کے فضل الحق دفن ہیں، اس ڈھاکہ میں 16دسمبر 1971کو پاکستانی فوج نے ہندوستانی فوج کے سامنے ہتھیار کیوں ڈالے؟

افسوسناک امر یہ ہے کہ ہماری یونیورسٹیوں اور کالجوں میں سقوطِ ڈھاکہ کی وجوہات پر بحث تو دور کی بات وہاں تو 23مارچ کے بارے میں بھی پورا سچ نہیں پڑھایا جاتا۔ جب تک ہم 23مارچ کے بارے میں پورا سچ بولنا شروع نہیں کریں گے ہم 16دسمبر کے سچ تک بھی نہ پہنچ پائیں گے۔ عام طور پر 23مارچ کو یومِ پاکستان منانے کی یہ وجہ بیان کی جاتی ہے کہ اس دن منٹو پارک لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں مسلمانوں کیلئے ایک علیحدہ ریاست قائم کرنے کے حق میں قرار داد منظور کی گئی۔

کچھ تاریخ دانوں نے یہ سوال اٹھایا کہ اس قرارداد میں لفظ علیحدہ ریاست استعمال ہوا یا ریاستیں استعمال ہوا؟ 1946کی قرارداد دہلی میں اس سوال کا جواب موجود ہے کیونکہ ریاستوں کی جگہ ایک ریاست کے مطالبے نے لے لی۔ 23مارچ کا پورا سچ یہ ہے کہ 22،23 اور 24مارچ کو لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں صرف ایک قرارداد منظور نہیں ہوئی تھی بلکہ چار قراردادیں منظور ہوئی تھیں اور دوسری قرارداد فلسطین کے متعلق تھی۔

23مارچ کی اصل تاریخ یہ ہے کہ ان چار قراردادوں کو منظور کرنے سے پہلے ہونے والے اجلاس میں قائداعظم محمد علی جناح نے 22مارچ کو 100منٹ طویل فی البدیہہ تقریر کی۔ اس فی البدیہہ تقریر اور لاہور کے اجلاس کی مکمل کارروائی کو مسلم لیگ نے اکتوبر 1940میں ایک کتاب کی صورت میں بمبئی سے شائع کیا۔ قائداعظم ؒنے اپنی زندگی میں ہی قرارداد لاہور کو قرار داد پاکستان قرار دے دیا اور 1941سے 1947تک مسلسل سات سال مسلم لیگ 23مارچ کو یوم پاکستان پر جلسے جلوس منعقد کیا کرتی تھی۔

پاکستان بن جانے کے کچھ عرصہ بعد گیارہ ستمبر 1948کو قائداعظمؒ کا انتقال ہو گیا اور بدقسمتی سے پاکستان کو برطانوی حکومت کے وفادار فوجی افسروں اور بیوروکریسی نے اپنے شکنجے میں جکڑ لیا۔ یوم پاکستان کو ایک فوجی پریڈ تک محدود کر دیا گیا اور 22مارچ کے دن کی گئی قائداعظم ؒکی تقریر کو نصابی کتب سے غائب کر دیا گیا جس کے بغیر قرارداد پاکستان کو سمجھنا بہت مشکل ہے۔

22مارچ 1940کو لاہور میں قائداعظم ؒکی تقریر دراصل ان کا خطبہ صدارت تھا۔ اس تقریر کے آغاز میں انہوں نے اعلان کیا کہ عورتوں کو اپنی جدوجہد میں شریک کرنا بہت ضروری ہے لہٰذا ہر صوبہ اور ہر ضلع میں مسلم لیگ کا شعبہ خواتین قائم کیا جائے۔

آگے چل کر بانی پاکستان نے کانگریس اور برطانوی حکومت کی ملی بھگت کو واضح الفاظ میں بےنقاب کیا اور کہا …’’مجھے کبھی یہ خیال بھی نہ تھا کہ کانگریس اور انگریز حکومت میں ایسی ملی بھگت اور خفیہ عہدو پیمان ہوں گے جو تحریری شکل میں تو موجود نہیں لیکن ان پر ایسے عمل ہوگا کہ ہم مسلمان ہزار چیخیں ہماری کوئی شنوائی نہ ہوگی‘‘۔ قائداعظم ؒنے اس تقریر میں کہا کہ ہم مسلمان ایک اقلیت نہیں بلکہ ایک ملت ہیں لیکن کانگریس اور انگریزحکومت ہمیں صرف اقلیت رکھنا چاہتی ہے۔

پھر قائداعظمؒ نے ہندوئوں کے ایک مشہور لیڈر لالہ لاجپت رائے کی طرف سے سی آر داس کو لکھے جانے والے ایک خط کا حوالہ دیا اور بتایا کہ یہ خط اندر پرکاش کی کتاب میں موجود ہے اور اس خط میں لالہ لاجپت رائے نے لکھا کہ مسلمانوں اور ہندوئوں کا اتحاد نہیں ہو سکتا کیونکہ مسلمانوں کا مذہب اس اتحاد کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ یہ وہی لالہ لاجپت رائے ہیں جنہوں نے اپنی والدہ کے نام پر لاہور میں گلاب دیوی اسپتال بنایا۔

اسی لالہ لاجپت رائے کے خط کے اقتباسات قائداعظمؒ نے مسلم لیگ کے اجلاس میں پیش کئے اور کہا جو بات لالہ لاجپت رائے کو بہت پہلے سمجھ آ گئی وہ گاندھی کو کیوں سمجھ نہیں آتی؟ قائداعظمؒ نے کہا کہ مسلمان اور ہندو کا فلسفہ حیات جدا، مذہبی عادات و اطوار جدا، لٹریچر جدا، یہ دو تہذیبیں ہیں یہ کبھی ایک قوم نہیں بن سکتے۔

پھر انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان کو آج جو مصنوعی وحدت حاصل ہے یہ انگریز کی سنگینوں کے بل بوتے پر قائم ہے۔ قائداعظمؒ نے گاندھی کے عدم تشدد کے فلسفے کا پردہ چاک کرتے ہوئے اس تقریر میں کہا کہ گاندھی نے سکھر کے ہندوئوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی مسلح پرائیویٹ جماعتیں بنائیں اور مزاحمت کریں۔

قائداعظمؒ کی اس تقریر کو غور سے پڑھیں تو محسوس ہوتا ہے کہ انہیں 1940میں نظر آ گیا تھاکہ کانگریس اور ہندو مہاسبھا اندر سے ایک ہیں۔ آج بھی نریندر مودی کے ہندوستان میں مسلمانوں کو لالہ لاجپت رائے کی نظر سے دیکھا جا سکتا ہے۔

قائداعظمؒ نے اپنی اس تقریر میں فلسطین کا بھی ذکر کیا اور برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ ظلم بند کیا جائے۔ کچھ لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ 23مارچ کو قرارداد لاہور انگریزوں نے سر ظفر ﷲ خان کے ذریعے تیار کرائی تھی۔ تاریخی حقائق ایسے تمام دعوؤں کی تردید کرتے ہیں۔

22مارچ کو قائداعظمؒ کی تقریر میں 23مارچ کی قرارداد کی جھلک واضح نظر آ رہی تھی جو 24مارچ کو منظور ہوئی۔ قرارداد پیش کرنے والے بنگالی لیڈر اے کے فضل الحق کو قائداعظمؒ کی وفات کے بعد غدار قرار دیدیا گیا۔ پہلی قرارداد پر بحث کے بعد قائداعظمؒ نے دوسری قرارداد پیش کرنے کا اعلان کیا۔ یہ قرارداد عبدالرحمٰن صدیقی نے پیش کی۔

قرارداد میں برطانوی فوج کو خبردار کیا گیا کہ وہ فلسطینی عربوں کو محکوم بنانے کی کوششوں سے باز رہے۔ تیسری قرارداد لاہور میں خاکساروں پر پولیس حملے کی مذمت اور چوتھی قرارداد صوبائی مسلم لیگوں کو مرکزی ورکنگ کمیٹی کے قواعد و ضوابط کا پابند بنانے سے متعلق تھی جس سے صاف پتہ چلتا تھا کہ قائداعظم ؒ پارٹی کو جمہوری طریقے سے چلانے پر یقین رکھتے تھے انہوں نے پارٹی میں آمریت قائم نہیں کی تھی۔

اس اجلاس میں جن خاکساروں پر پولیس کے حملے کی مذمت کی گئی انہی خاکساروں نے قائداعظمؒ پر قاتلانہ حملہ بھی کیا تھا اور ان کے جلسوں میں گڑ بڑ کی کوشش بھی کی لیکن قائداعظم ؒ سیاسی اختلاف کو ذاتی انتقام بنانے پر یقین نہیں رکھتے تھے۔

قائداعظمؒ کی وفات کے بعد جمہوری اور فوجی آمر 23مارچ کو صرف ایک فوجی پریڈ تک محدود نہ کرتے اور 23مارچ کے متعلق پورا سچ قوم کو بتاتے تو یہ ایک قوم دو ملکوں میں تقسیم نہ ہوتی۔ جب سیاستدانوں نے سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت ختم کر دی تو فوجی جرنیلوں نے پاکستان کو جمہوریت سے محروم کر دیا۔

ہم برطانوی سامراج کی غلامی سے آزاد ہو گئے لیکن کبھی امریکی سامراج اور کبھی اپنے ہی آدھے سچ کے غلام بن گئے۔ علامہ اقبالؒ اور قائداعظمؒ دونوں آمریت اور بادشاہت کے خلاف تھے لیکن آج کے حکمرانوں کو غیرملکی بادشاہوں کی غلامی بھی قبول ہے اور عالمی مالیاتی اداروں کی غلامی بھی قبول ہے کیونکہ انہیں ریٹائرمنٹ کے بعد ان بادشاہوں سے ملازمت لینا ہوتی ہے۔ اس غلامی سے نجات اسی وقت ممکن ہے جب ہم پورا سچ بولنا سیکھیں گے۔