تم منٹو کو نہیں جانتے – Yasir Pirzada

27

چراغوں کا دھواں‘ میں انتظار حسین نے منٹو کے متعلق ایک دلچسپ واقعہ لکھا ہے، انہی کی زبانی سنئے: ’’جلسہ ابھی شروع نہیں ہوا تھا۔ لوگ رفتہ رفتہ آ رہے تھے۔ مگر منٹو صاحب پہلے سے آئے بیٹھے تھے۔ منٹو صاحب کو میں نے اِس سے پہلے کبھی نہ انجمن کے جلسہ میں دیکھا تھا نہ حلقہ کے جلسے میں۔ جانے کس رو میں یہاں آ گئے تھے۔ پروگرام میں اُن کا افسانہ تو تھا نہیں۔ یا شاید ہو۔ اگر پروگرام میں اُن کا افسانہ تھا تو وہ بہرحال پڑھا نہیں گیا۔ منٹو صاحب نے محفل ہی کو تہہ و بالا کردیا۔ جلسہ کی کارروائی کا آغاز ہوا۔ صدارت کے لئے حمید اختر نے وجیہہ الدین احمد کے نام کا اعلان کیا۔ وجیہہ الدین احمد اپنے بھاری تن و توش کے ساتھ کرسیٔ صدارت پر بیٹھے ہی تھے کہ منٹو صاحب نے حمید اختر سے پوچھا ’جناب کی تعریف‘۔

حمید اختر بیچارے سٹپٹا گئے۔ بولے ’وجیہہ الدین احمد ہیں۔ مولانا صلاح الدین احمد کے صاحبزادے‘۔

’مولانا صلاح الدین احمد تو خیر ہوئے‘۔ منٹو صاحب بولے ’مگر یہ کون صاحب ہیں‘۔

وجیہہ الدین احمد کی سمجھ میں پہلے تو کچھ نہ آیا کہ کیا کہیں۔ آخر جوابی حملہ کیا۔ بولے ’اور آپ کون صاحب ہیں‘۔

’میں کون صاحب ہوں۔ تم منٹو کو نہیں جانتے‘۔

پیچھے کی صفو ں میں اچانک کھلبلی ہوئی۔ ضیا جالندھری بیچ میں سے کھڑے ہوئے اور منٹو صاحب کے رویے پر احتجاج کرنے لگے۔ منٹو صاحب بھی اب کھڑے ہو گئے تھے۔ پھر اس کے بعد چراغو ں میں روشنی نہ رہی۔

یہ تھے سعادت حسن منٹو، لا ابالی طبیعت اور باغیانہ مزاج کے مالک، اردو کے منفرد اور اچھوتے ادیب۔ آج جب میں یہ سطور لکھ رہا ہوں تو 18جنوری ہے، آج کے دن منٹو صاحب کا لاہور میں انتقال ہوا تھا۔ منٹو کی رہائش لاہور کے ہال روڈ کے پہلو میں واقع لکشمی مینشن کے ایک چھوٹے سے مکان میں تھی۔ کچھ عرصہ پہلے میں یہ جگہ دیکھنے گیا تاکہ منٹو کا مکان تلاش کر سکوں مگر مجھے وہاں منٹو کی کوئی نشانی نظر نہیں آئی۔ پراگ، کافکا کا شہر ہے، اس پورے شہر پر کافکا کی چھاپ نظر آتی ہے، میں پراگ میں کافکا کی قبر کی زیارت کر چکا ہوں مگر لاہور میں رہتے ہوئے میانی صاحب کے قبرستا ن میں منٹو کی قبر تلاش نہیں کر سکا۔ بمبئی کے بعد لاہور منٹو کا شہر تھا، مجھے علم نہیں کہ بمبئی نے منٹو کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ میرا دُکھ تو یہ ہے کہ لاہور نے منٹو صاحب کی کتنی عزت رکھی، مرنے کے بعد ہی سہی؟

اگر ہم اردو کے پانچ بڑے افسانہ نگاروں کی فہرست بنائیں تو ایسی لسٹ منٹو کے نام کے بغیر ادھوری ہوگی لیکن اگر ہم تین بڑے افسانہ نگاروں کی فہرست بنائیں تو وہ بھی منٹو کے بغیر مکمل نہیں ہو گی، حتّٰی کہ اگر ہم صرف ایک نام پر مشتمل ایسی فہرست بنائیں تو اُس میں بھی منٹو ہی کا نام شامل ہوگا۔ ایسا کیوں ہے؟ اصل میں منٹو کے ہم عصر ادیبوں کی اکثریت ترقی پسند تحریک سے وابستہ تھی، اُس زمانے میں یہ تحریک بہت منہ زور تھی، کرشن چندر جیسے ادیب اور افسانہ نگار اِس کا حصہ تھے اور ببانگ دہل ایک خاص مقصد کے تحت افسانے لکھتے تھے، مثلاً اگر انہوں نے ہندو مسلم فسادات کا احوال لکھنا ہے تو اِس بات کا خیال رکھنا ہے کہ افسانے میں جتنے ہندو مروائے جائیں اتنے ہی مسلمان قتل ہوں۔ شروع شروع میں منٹو صاحب بھی اِس تحریک میں شامل تھے مگر بعد میں انہوں نے اِس تحریک سے بغاوت کر دی، منٹو کا ماننا تھا کہ افسانے پارٹی آرڈر پر نہیں لکھے جاتے یا ادب کسی تحریک کے منشور یا کسی اسکیم کے تحت تخلیق نہیں کیا جاتا اور کسی سے ڈکٹیشن لے کر کہانی نہیں لکھی جاتی۔ اُس دور میں یہ نظریات رکھنا کوئی معمولی بات نہیں تھی۔ اِن خیالات کی پاداش میں ترقی پسند ادیبوں نے منٹو کو تحریک سے علیحدہ کردیا جس کی منٹو صاحب نے ذرہ برابر پروا نہیں کی اور کپڑے جھاڑ کر اپنے کام میں جُت گئے اور ترقی پسند تحریک کی سرپرستی کے بغیر ہی شاہکار کہانیاں تخلیق کر ڈالیں۔ منٹو اپنی کہانیوں میں ہندو، مسلم، سکھ کو بیلنس کرکے نہیں مارتے تھے، وہ جو دیکھتے تھے وہی لکھتے تھے اور بےخوف ہو کر ڈنکے کی چوٹ پر لکھتے تھے۔ یہی اُن کی انفرادیت تھی جس نے انہیں اپنے ہم عصروں سے ممتاز کردیا۔

ہمیں اپنے ادیبوں کا غیرملکی ادیبوں سے موازنہ کرنے کا بھی خاصا شوق ہے تو لگے ہاتھوں یہ کام بھی ہو جائے۔ ادب کی باقی اصناف کا تو پتا نہیں البتہ افسانہ ہماری ادبی صنف نہیں تھی، یہ مغرب کی روایت تھی اور وہاں کئی صدیوں سے تھی، ہمارے ہاں داستانوں اور ان میں بیان کرد ہ ذیلی قصوں کی روایت تھی۔ مغربی ادب میں افسانے کا باقاعدہ ایک کسا ہوا پلاٹ ہوتا ہے، کہانی کا تانا بانا ہوتا ہے، کلائمکس ہوتا ہے اور پھر متحیر کردینے والا اختتام ہوتا ہے، ایسی شارٹ اسٹوری قاری کو اپنے حصا ر میں جکڑ کر رکھتی ہے۔ یہ صنف ہندوستا ن میں انگریزی ادب اور روسی کہانیوں کے تراجم سے آئی، ہندوستانی ادیب اِس قسم کے افسانے سے واقف نہیں تھے، تاہم بعد میں سار ی ترقی پسند تحریک اِس مغربی صنف سے متاثر ہوئی بلکہ یوں کہیے کہ ترقی پسندوں نے افسانے کی تکنیک گوگول (براہ کرم اسے گوگل نہ پڑھا جائے) اور پشکن کی کہانیوں سے سیکھی۔منٹو صاحب کا معاملہ بھی مختلف نہیں تھا، باری علیگ اُن کے استاد تھے، انہوں نے منٹو کو روسی کہانیوں کے ترجمے کرنے کا مشورہ دیا اور یوں منٹو نے افسانے لکھنے سے پہلے روسی ادب کا ترجمہ کیا اور پھر یہیں سے اُن کا اپنا قلم رواں ہوگیا۔ منٹو کے افسانوں میں سسپنس اور اچانک کسی بات کو آشکار کرنے کی جو خصوصیت ہمیں نظر آتی ہے وہ روسی ادب ہی کی دین ہے۔ رہی بات مغرب سے موازنہ کرنے کی تو منٹو یا اردو کا کوئی بھی دوسرا بڑا افسانہ نگار مغربی مصنّفین کو بہت زیادہ متاثر کرنے میں کامیاب نہیں ہوا کیونکہ اِن ادیبوں کے اردو افسانوں میں ایسا کوئی نیا اسلوب یا رنگ نہیں تھا جو اس سے پہلے مغربی ادب کے لئے اجنبی ہوتا۔ خالد حسن نے منٹو کا انگریزی ترجمہ کیا، اسے مغرب میں پسند بھی کیا گیا مگر ’’واؤ‘‘ نہیں کہا گیا۔ اِن تمام باتوں کے باوجود منٹو کے شاہکار افسانوں کی تعداد اردو کے کسی بھی دوسرے ادیب کے مقابلے میں زیادہ ہے اور یہ اعزاز سعادت حسن منٹو سے کوئی نہیں چھین سکتا۔