تحریک انصاف اور تبدیلی – Hassan Nisar

29

’’تیری لاش نوں مچھیاں ہی کھان گیئاں‘‘

’’اڈّی مار کے دھرتی ہلا دیاں گا‘‘

’’میں کشٹ کٹ کے آیاں تے نشٹ مار دیاں گا‘‘

’’گڈ چھڈاں گا‘‘

’’تیری بوٹی بوٹی نوں غسل کون دے گا‘‘

’’اینیں ٹوٹے کراں گا کہ گنے وی نئیں جان گے‘‘

’’جنیں میرا نال متھا لایا اوہدی ماں نے وین ای پائے نیں‘‘

’’اور اب غیر پنجابی قارئین کے لئے اس ’’خوش کلامی‘‘ کے نمونوں کا اردو ترجمہ:

’’تیری لاش کو مچھلیاں ہی کھائیں گی‘‘

’’ایڑی مار کے زمین ہلا دوں گا‘‘

’’میں مصیبتیں کاٹ کے آیا ہوں تمہیں بھی کاٹ کے رکھ دوں گا‘‘

’’زمین میں گاڑ دوں گا‘‘

’’تیری ایک ایک بوٹی کو موت کا غسل کون دے گا‘‘

’’تمہارے اتنے ٹکڑے کروں گا کہ گننا مشکل ہو جائے گا‘‘

’’جس نے میرے ساتھ پنگا لیا اس کی ماں نے بین ہی ڈالے ہیں‘‘

یہ ہے وہ اکلوتی ’’تبدیلی‘‘ جو فلمی دنیا سے سیاسی دنیا میں آئی اور ….’’وہ آئی اس نے دیکھا اور وہ چھا گئی‘‘ ’’چھوڑوں گا نہیں‘‘ کی تکرار سے لے کر اس ’’میڈ ان کراچی‘‘ بڑھک تک کہ ’’جہانگیر ترین گروپ اک ایس ایچ او کی مار ہے‘‘تبدیلی کا سونامی دن دوگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے اور میں مسلسل سوچ رہا ہوںکہ چلو اقتصادی طور پر پہلے ہی کنگال تھے، لوگوں کو ریلیف دینے کی بجائے تکلیف میں اضافہ ہوگیا تو یہ عذاب قابلِ فہم ہے۔ انتظامی طور پر نااہل، ناتجربہ کار تھے، خوار ہوگئے، خوار کرگئے تو یہ بات بھی کچھ کچھ سمجھ میں آتی ہے، عدالتی نظام ایسا ہے کہ معاملات منطقی انجام تک پہنچانا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے لیکن ذاتی رویے، بیانیے، لہجے بدلنے پر تو کوئی لاگت نہیں آتی اور نہ ہی یہ ’’ٹیکنالوجی‘‘ اتنی بیش قیمت ہے کہ خریدی نہ جا سکےلیکن افسوس اس بدبو دار سیاسی اور نام نہاد جمہوری کلچر میں وہ ’’تبدیلی‘‘ بھی دکھائی نہیں دیتی جس کے لئے کسی قسم کے قرضے، گرانٹ، ذہانت، منصوبہ بندی کی ضرورت ہو۔ اور کچھ کنٹرول نہیں ہورہا تو زبانیں ہی کنٹرول کرلو۔ یہ کس قسم کا مظہر شاہانہ، سلطان راہیانہ اور مصطفیٰ قریشیانہ مائنڈ سیٹ ہے جو اختلاف اور احتجاج کرنے والوں کو ایک ایس ایچ او کی مار قرار دے رہا ہے حالانکہ کون جانے کل آپ خود کسی اے ایس آئی کی مار بھی نہ نکلیں۔

اقتصادی، انتظامی، احتسابی طور پر تو دور دور تک کوئی تبدیلی نظر نہیں آ رہی لیکن بد سے بدتر کی یہ تبدیلی تو سنبھالے نہیں سنبھل رہی۔ نہ ماضی میں کوئی اپنے وعدہ معاف گواہوں اور مسعود محمودوں کو پہچان سکا نہ آج یہ پہچان دکھائی دیتی ہے تو نہ گھوڑا دور نہ میدان۔ کمال یہ ہے کہ قائداعظم ثانی کی کہانی کا ایکشن ری پلے دیکھ کر بھی کوئی سبق سیکھنے کو تیار نہیں کہ سر سے لے کر پائوں تک بے شمار اعضا میں سے صرف ایک یعنی ’’زبان‘‘ ہی سنبھال لیتے، اس کے استعمال میں ہی اختیاط کرنے لگتے تو دو سال میں لوگ اسی تبدیلی سے ہی لطف اندوز ہونے لگتے کہ پی ٹی آئی نے سیاست میں اک نیا اسلوب تو ضرور متعارف کرا دیا ہے۔ انتہا یہ کہ ماضی میں کی گئی باتوں کو بھگتنے کا تجربہ بھی ہے لیکن پھر باز نہیں آ رہے اور اسی سوراخ سے بار بار ڈسے جا رہے ہیں۔

چھوٹے ذہن اور ظرف ….. موٹروے سے لمبی زبانیں۔

ٹوتھ پک کے تیر…… بید کی کمانیں۔

“THE THINGS I SAY AND DO TODAY.

IN MEMORY’S BOOK, I WILL KEEP,

AND WHEN I AM OLD & READ THEM….

WILL I LAUGH OR WILL I WEEP?

لمبی زبانیں زندگی کو چھوٹا کر دیتی ہیں۔

انسان اپنی زبان کے نیچے چھپا ہوتا ہے۔

جسے زبان پر اختیار نہیں وہ سو فیصد بے اختیار ہے۔

زبان کے آگے دانتوں کا زندان ہوتا ہے۔

بند منہ میں مکھی نہیں گھس سکتی ۔

بدزبان کا ہنر بے ہنری، شجاعت دیوانگی، فصاحت حشو، سخاوت نمود و نمائش اور فضل فضول کہلاتا ہے۔

اگر مقراضِ زبان چلتی رہے تو وقار تار تار ہو جاتا ہے ۔

بدزبان سوتا ہوا سوار ہے۔

زبان پورا جسم کھا سکتی ہے۔

زبان کا اختیار اذان سے ہذیان تک ہے۔

پاکستان تحریک انصاف اپنے سیاسی بدن کے کسی اور عضو میں تبدیلی لا سکے یا نہ لا سکے، زبان و بیان میں ہی کوئی خوشگوار تبدیلی لے آئے تو بڑی اچیومنٹ ہوگی لیکن شاید زبان کی خارش کا علاج ابھی تک ایجاد نہیں ہوا اور یاد رہے اقتدار میں آنے سے پہلے اور بعد والی اپوزیشن میں بہت فرق ہوتا ہے جو جلد ہی معلوم ہو جائے گا۔