تاریخ کسی کو معاف نہیں کرتی – Hamid Mir

78

اسلم کا سوال بہت سادہ تھا لیکن اس کا سادہ سا سوال سن کر میں خاموش ہو گیا۔ اسلم نے مسکراتے ہوئے پوچھا تھا کہ صاحب جی وزیر خزانہ بدل گیا ہے، اب تو مہنگائی کم ہو جائے گی نا؟ سوال کرنے کے بعد وہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے امید بھری نظروں سے میری طرف دیکھ رہا تھا اور جواب کا منتظر تھا۔ میں اسلم کو جواب دینے کی بجائے ٹی وی اسکرین پر نظریں جمائے ہوئے تھا اور سوچ رہا تھا کہ کیا جواب دوں؟ اسلم کو میں تب سے جانتا ہوں جب پچیس برس قبل میں لاہور سے اسلام آباد آیا۔

وہ ایک ریٹائرڈ فوجی تھا۔ فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد اسے ایک سرکاری ادارے میں چپراسی کی نوکری مل گئی۔ اس نے اپنے بچوں کو اسلام آباد کے سرکاری اسکولوں میں پڑھانا شروع کر دیا اور ان کا خرچہ پورا کرنے کیلئے شام کو مختلف گھروں میں کام کاج کیا کرتا تھا۔

میرے گھر میں بھی کام کرتا رہا اور محنت کی کمائی سے اپنی دو بچیوں کو ماسٹرز کرانے میں کامیاب رہا۔ دو بچے ابھی تک زیر تعلیم ہیں۔ پچھلے سال وہ سرکاری نوکری سے ریٹائر ہو گیا تو ایک بچی کی نوکری کیلئے میرے پاس آیا۔ کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والے حالات کے باعث اس کی بچی کو نوکری نہ مل سکی تو اس نے صبر شکر کر لیا۔ کچھ عرصہ سے اس نے مہنگائی کے خلاف شور مچا رکھا تھا۔

وہ اکثر اوقات مجھے بتاتا کہ چھ ماہ پہلے آلو، پیاز اور ٹماٹر کی قیمت کیا تھی اور اب کیا ہے۔ کل وہ مجھے ملا تو اس نے سلام دعا کئے بغیر ہی بچوں کی طرح شور مچا دیا اور پنجابی لہجے میں مہنگائی کو ’’منگیائی‘‘ قرار دیتے ہوئے پوچھنے لگا کہ صاحب جی اب اس مصیبت سے جان چھوٹ جائے گی نا، اب تو وزیر خزانہ بدل گیا ہے؟ جب اس نے تین دفعہ اپنا سوال دہرا لیا تو میں نے جھکی جھکی نظروں سے کہا کہ وزیر خزانہ تو بدل گیا لیکن ہمارے حالات نہیں بدلیں گے۔

اسلم اپنے ہاتھ ملتے ہوئے بولا تو پھر رمضان میں غریبوں کا کیا ہو گا؟ میں پھر خاموش ہو گیا۔ اس نے اپنے سوال کا خود ہی جواب دیا اور کہا کہ ابھی تو رمضان شروع نہیں ہوا اور ہر شے مہنگی ہو گئی ہے۔ رمضان آگیا تو کیا ہو گا؟ اب وہ بولتا جا رہا تھا لیکن مجھے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ اس کی آواز میں بہت سی آوازیں شامل ہو چکی ہیں اور میرے ارد گرد شور سا مچا ہوا ہے۔

اسلم نہیں جانتا کہ حفیظ شیخ کون تھا اور اس کی جگہ وزیر خزانہ بننے والا حماد اظہر کون ہے۔ وہ صرف یہ جانتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے وزیر خزانہ کو بدل دیا ہے تاکہ مہنگائی پر قابو پایا جا سکے۔ کچھ دنوں میں رمضان شروع ہونے والا ہے۔

اس مبارک مہینے میں پاکستان کے اکثر مسلمان زیادہ سے زیادہ ثواب کمانے کی بجائے زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کی دوڑ میں شامل ہو جاتے ہیں۔ پھر مسلمان کے ہاتھوں مسلمان کا وہ حشر ہوتا ہے جس سے غیر مسلم بھی پناہ مانگتے ہیں۔ اسلم جیسے غریب لوگ رمضان میں اپنے برے حشر سے خوفزدہ ہیں اور نئے وزیر خزانہ میں کسی مسیحا کو تلاش کر رہے ہیں اور جب نیا وزیر خزانہ ان کے لئے مسیحا ثابت نہ ہوا تو پھر لاکھوں کروڑوں اسلم اسے بددعائیں دیں گے۔

اسلم نہیں جانتا کہ اگر حفیظ شیخ تین مارچ کو ہونے والے سینیٹ کے الیکشن میں کامیاب ہو جاتا تو وہ آج بھی پاکستان کا وزیر خزانہ ہوتا۔ وہ الیکشن ہار گیا تو اسے وفاقی وزیر کے عہدے سے ہٹانا ایک آئینی مجبوری تھی۔ وزیراعظم نے سوچا ہو گا کہ اب حفیظ شیخ میرے کسی کام کا نہیں چلو مہنگائی کی ذمہ داری اس پر ڈال کر حماد اظہر کو وزیر خزانہ بنا دیتا ہوں۔ یہ نہیں سوچا کہ اگر حماد اظہر بھی ناکام ہوگیا تو پھر کیا ہو گا؟ جب سے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے آپس میں بچوں کی طرح لڑنا شروع کیا ہے عمران خان کو اپنی ناکامیوں کا خوف نہیں رہا۔ انہیں یقین ہے کہ بادشاہ گروں کے پاس ان کا کوئی متبادل نہیں اور اسی لئے انہوں نے بے خوف ہو کر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ خط وکتابت شروع کر دی ہے۔

جس مودی کو عمران خان پچھلے سال تک ہٹلر کہا کرتے تھے اس مودی کو خط لکھ کر کہا جا رہا ہے کہ پاکستانی عوام بھارت کے ساتھ دوستی چاہتے ہیں۔ بھارت کے ساتھ دوستی کوئی بری بات نہیں لیکن سوال یہ ہے کہ ماضی میں جب کوئی دوسرا بھارت کے ساتھ دوستی کی بات کرتا تھا تو عمران خان اور ان کے سرپرست اسے غدار کیوں قرار دیتے تھے؟ یاد کیجئے فروری 1999 میں بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی بس میں بیٹھ کر لاہور آئے۔

مینار پاکستان پر گئے اور پاکستان کے ساتھ دوستی کی خواہش ظاہر کی۔ جواب میں کارگل کی جنگ چھیڑ دی گئی اور اکتوبر 1999میں نواز شریف کو حکومت سے اٹھا کر باہر پھینک دیا گیا۔

دسمبر 2015 میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی لاہور آئے اور پاکستان سے دوستی بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا اور کچھ عرصے بعد نواز شریف کی پھر سے چھٹی کر دی گئی۔ جب مودی صاحب خود چل کر پاکستان آئے تو عمران خان نے نواز شریف کو ’’مودی کا یار‘‘ قرار دیا۔

پھر یہی مودی ہٹلر قرار دیا گیا اور اچانک یہی مودی ہمارے وزیراعظم عمران خان کا یار بن گیا ہے۔ جب واجپائی اور مودی دوستی کا پیغام لیکر لاہور آئے تھے تو مقبوضہ جموں و کشمیر میں 370 اور 35 اے ختم نہیں ہوا تھا۔ 5 اگست 2019 کو مودی حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر پر باقاعدہ آئینی قبضہ کر لیا، ساری کشمیری قیادت کو جیلوں میں پھینک دیا۔

عمران خان نے کچھ دن تک ہٹلر ہٹلر کا شور مچایا اور اب ہٹلر سے پیار محبت شروع کر دیا ہے۔ مودی کی پالیسی یہ ہے کہ پاکستان کے ساتھ دوستی کا ڈرامہ کرو اور کشمیریوں کو پاکستان سے محبت کی سزا دو۔

عمران خان نے مودی کے نام اپنے حالیہ خط میں کشمیر کا ذکر تو کیا ہے لیکن بھارتی جیلوں میں بند کشمیری قیادت کی رہائی کا مطالبہ نہیں کیا۔ یہ کوئی راز نہیں رہا کہ مودی حکومت نے 2007 کے مشرف فارمولے کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کر رکھا ہے اور پاکستان میں بھی اس فارمولے کو نیا نام دیکر میڈیا میں سیلز ایجنٹ تلاش کئے جا رہے ہیں تاکہ پروڈکٹ کو عوام کیلئے قابلِ قبول بنایا جائے۔ نظر یہ آ رہا ہے کہ عمران خان کا اصل مسئلہ اب مقبوضہ کشمیر نہیں بلکہ آزاد کشمیر ہے جہاں جلد نئے انتخابات ہونے والے ہیں۔

ان انتخابات میں عمران خان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے اختلافات کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے اور گلگت بلتستان کے بعد آزاد کشمیر میں بھی تحریک انصاف کی حکومت بنانے کی کوشش کریں گے۔

مولانا فضل الرحمٰن بھلے عمران خان کو کشمیر فروش قرار دیتے رہیں لیکن خان صاحب کو ہر خوف سے آزادی مل چکی ہے کیونکہ ان کے مخالفین آپس میں لڑ رہے ہیں۔ تاریخ کسی کو معاف نہیں کرتی۔ خدا نہ کرے وہ دن آئے جب 5 اگست کی بھارت میں وہ اہمیت ہو گی جو 16دسمبر کی بنگلہ دیش میں ہے 16دسمبر کسی جنرل نیازی کی یاد دلاتا ہے 5 اگست عمران نیازی کی یاد دلایا کرے گا۔