تاریخ مسخ نہ کریں – Dr A Q Khan

90

پرانے زمانے میں مسلمان، خاص طور پر عرب، تاریخ نویس سچائی بیان کرنے میں ماہرتھے اور اگر آپ تواریخ کا مطالعہ کریں تو آپ کو جو حوالہ جات ملتے ہیں ان میں نہ صرف مصنف کا نام بلکہ اس کے باپ دادا کے نام بھی ملتے ہیں۔ لیکن تمام اخلاقی قدروں کی طرح بعض لوگ اب اس میدان میں بھی گمراہی کا شکار ہوگئے ہیں۔ جھوٹ بولنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ چند واقعات آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں:

(1)پچھلے دنوں روزنامہ دی نیوز میں شاہد حامد کی کتاب Treasured Memories پر جناب اطہر طاہر صاحب نے طویل تبصرہ لکھا۔ میں چونکہ شاہد حامد سے چند مرتبہ ملا تھا میں نے سوچا کہ شاید یہ خزینۂ سچائی ہو مگر اس میں بھی تاریخ کو مسخ کیا گیا۔ اس میں حوالہ دیا گیا کہ نواز شریف کی دھماکے کرنے کے حوالے سے ہچکچاہٹ کے بارے میں انہوں نے میرے بیان پر سوالیہ نشان لگایا ہے یعنی میں نے جھوٹ بولا ہے۔ حقیقت یہ ہےکہ وہ صاحب کبھی ان رازوں کے گواہ نہ تھے اور نہ ہی کبھی ان کو اس راز میں حصّہ دار بنایا گیا تھا۔ گوہر ایوب اس وقت وزیر خارجہ تھے، ان کا بیان یوٹیوب پر موجود ہے کہ میاں صاحب صدر کلنٹن کے سامنے ہاتھ پھیلا رہے تھے کہ بڑا انعام ملے تو دھماکہ نہ کریں۔ پھر ایس ایم ظفر صاحب کی کتاب میں تفصیلاً انھوں نے لکھا ہے کہ کس طرح میرے پرزور خط نے میاں صاحب کو راضی کیا تھا۔ اس کے علاوہ جناب مجید نظامی اور دوسرے صحافیوں سے ان کی ملاقات کا ذکر ہر جگہ موجود ہے کہ وہ ان سے اُمید لگا رہے تھے کہ یہ لوگ دھماکہ نا کرنے پر مان جائیں مگر مجید نظامی صاحب نے صاف کہہ دیا تھا کہ اگر دھماکہ نہ کیا تو میاں صاحب آپ کا دھماکہ عوام کردینگے۔ عوام نے تو نہیں مگر میری پیشگوئی کے مطابق مشرف نے یہ کام کردیا تھا۔ جب شاہد حامد کو علم نہیں تھا تو پھر اس موضوع پر گلفشاری کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔

(2)اسی طرح ایک جھوٹی، غلط حرکت یوٹیوب پر جاری ہے کہ ایک جاہل مطلق لوہار نے مجھے اور میرے اعلیٰ تعلیم یافتہ Ph.Dپاس سائنسدانوں کو ایٹم بم بنانا سکھایا۔ ان جاہلوں کو یہ احساس نہیں ہے کہ اگر یہ لوہار ایسے ہنرمند تھے تو پھر میرے آنے اور اس پروجیکٹ کے شروع ہونے کا انتظار کیوںکیا؟ اگر اتنے ہنرمند تھے تو دوچار مفید ہتھیار بنا دیتے تاکہ 1965 اور 1971 میں ہزیمت کاسامنا نہ کرنا پڑتا۔ جھوٹوں پر اللہ تعالیٰ نے بڑی سخت لعنت بھیجی ہے۔

(3)اس سے پہلے بھی عرض کرچکا ہوں کہ اسی قسم کی غلط بیانی سیٹھ عابد مرحوم نےکی تھی کہ انھوں نے بم بنانے میں کلیدی رول ادا کیا تھا۔ اگر بم میں سونا استعمال ہوتا تو میں شاید کہہ دیتا کہ ہم نے جو سونا خریدا، وہ شاید انہوں نے اسمگل کیا ہوگا مگر اس میں ایک تولہ سونا بھی نہیں لگتا۔ اس جھوٹے دعوے کی بنیاد پر انہوں نے محکمہ کسٹم اور انکم ٹیکس سے ناجائز فائدے اُٹھائے۔ حقیقت یہ ہے کہ میں اس شخص سے زندگی میں پہلی بار ریٹائرمنٹ کے 15برس بعد لاہور میں ایک فلاحی اسپتال کی تعمیر کے ڈنر میں ملا تھا۔ میرے دست راست جناب شوکت ورک نے ان کو بلالیا تھا کہ کچھ چندہ دیدینگے۔ انھوں نے وہاں 25 لاکھ کا وعدہ کیااور 25روپے بھی نہیں دیے۔

(4)ایک اور جھوٹ جس کو ایک انگریزی روزنامہ نے بہت اچھالا تھا وہ یہ تھا کہ کہوٹہ کی پلاننگ اور کامیابی میں مرحوم وزیر خارجہ ڈاکٹر مبشر نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ جب میں پاکستان آیا اور بھٹو صاحب کے اصرار پر (اور بیگم کی رضامندی حاصل کرکے) یہاں ٹھہر گیا اور اس پروجیکٹ پر کام شروع کیا تو اس وقت وزیر خارجہ جناب عبدالحفیظ پیرزادہ تھے۔ ڈاکٹر مبشر مُلک کی معیشت کو قومیا کر اور تباہ کرکے رخصت ہوچکے تھے۔ بھٹو صاحب نے یہ راز عبدالحفیظ پیرزادہ کو بھی نہیں بتایا تھا۔ اس بارے میں صرف مرحوم اے جی این قاضی، آغا شاہی اور غلام اسحٰق خان کو معلوم تھا اور بعد میں جنرل ضیاء کو صرف یہ بتایا گیا تھا کہ نیوکلیر پر کچھ کام شروع کیا ہے اور ڈاکٹر صاحب کو آرمی کے چند سول انجینئر دیدیں کہ وہ ان کی عمارتیں وغیرہ بنوادیں۔ میں نے جب اس غلط بیانی پر ایڈیٹر کو نوٹ لکھا کہ ڈاکٹر مبشر کا کوئی تعلق نہیں تھا تو انھوں نے اس کو شائع نہیں کیا۔ یہ صحافت کا معیار ہے۔

دیکھئے قول و فعل میں فرق کو منافقت کہا جاتا ہے اور جھوٹ بولنے پر اللہ تعالیٰ نے کلام مجید میں لعنت بھیجی ہے جس پر اللہ تعالیٰ لعنت بھیج دے اس کا مقام جہنم ہے اور جہنم کا عذاب بہت سخت اور تکلیف دہ ہے۔ ان لوگوں کے منہ، آنکھیں، ہاتھ، ناک، کان ان کے گناہوں کی شہادت دینگے۔ دراصل اس کلچر (ثقافت) کی لعنت اس ملک میں بعض حکمرانوں نے شروع کی ہے۔ جب یہ سیاسی شعبدہ باز حکمران بنے تو انہوں نے جھوٹے وعدے کر کر کے عوام کو نا صرف دھوکہ دیا بلکہ ان کو بھی جھوٹ بولنے کا عادی بنا دیا۔ پچھلے حکمرانوں نے تو یہ سلسلہ شروع کیا ہی تھا مگر موجودہ نااہل حکمرانوں نے اس کو عروج پر پہنچا دیا ہے۔ میں ان باتوں کو کیا دہرائوں، کسی سے درخواست کروں گا کہ وہ میری مدد کرے اور حکمرنوں کو ان کے وعدے یاد دلائے۔

اگر دینی جماعتیں عوام کو سچ بولنے اور ایمانداری کی ترغیب دیتی رہتیں تو اس ملک میں یقیناً جھوٹے نہ ہوتے مگر سیاست دانوں کی طر ح وہ بھی اسی کھیل میں لگ گئے اور نتیجہ یہ ہے کہ پوری قوم میں اور ملک میں سچ بولنے والوں اور ایمانداروں کی تعداد آٹے میں نمک سے بھی کم رہ گئی ہے۔ اَب جو بے چارے باقی رہ گئے ہیں اللہ پاک ان کی دعا نہیں سنتا کہ اس نے پہلے ہی انتباہ کردیا ہے کہ جب عوام گناہ کرینگے اور بدکردار ہونگے تو ان پر جابر حکمران مسلط کئے جائینگے اور نیک لوگوں کی دعائیں قبول نہ ہونگی۔ اللہ رب العزت سب کو نیک ہدایت دے۔ آمین!