بھٹو بننا اتنا آسان نہیں – Mazhar Abbas

47

چین کے عظیم لیڈر چو این لائی نے ایک بار کہا تھا، ذوالفقار علی بھٹو بہت جلدی میں ہے he is in hury ، کچھ ایسا ہی ہوا، 1958میں سیاست میں قدم رکھا اور 1979میں پھانسی چڑھ گیا، اس کے بیچ میں جو ہوا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔پیشہ کے لحاظ سے بھٹو وکیل تھے۔

نئی نئی پریکٹس شروع کی تو ان کے سینئر نے کہا، ایک ضمانت کا مقدمہ ہے، کیس مشکل ہے بس جا کر تاریخ لے آئو۔ واپس لوٹے تو استاد نے پوچھا کیا ہوا، جواب دیا ضمانت ہو گئی، وہ بھی حیران رہ گئے اور کہا، تم بہت آگے جائو گے۔ ایوب خان کو اس نے اپنی پہلی ملاقات میں بے انتہا متاثر کیا ۔

جونیئر وزیر کے طور پر کام شروع کیا تو اس کی پہلی نظر امریکہ سے کئے گئے ایک معاہدہ پر پڑی جس کا نام تھا Atom For Peace، اس کے تحت اس نے بے شمار سائنسدانوں کو امریکہ بھیجا تاکہ وہ ایٹمی سائنس پڑھیں، اس وقت کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو گا کہ اس کا مقصد کیا تھا۔ بعد میں ان میں سے بہت سے لوگوں نے کہوٹہ میں کام کیا۔

اس نے انتہائی مختصر دور میں دنیا میں خود کو عالمی مدبر کے طور پر منوا لیا۔ اس کی چند تقاریر آج بھی اقوام متحدہ کے ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ مگر 1979میں اس نے جو تقریر لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس میں کی تھی، اس نے امریکہ کو چوکنا کر دیا تھا۔

بھٹو کا چار سالہ دور اقتدار تنازعات سے بھرپور تھا مگر یہ اس کی سیاسی بصیرت کا کمال تھا کہ اپنے بدترین مخالف سے بھی اس نے 1973ء کے آئین پر دستخط کروا لئے۔ شملہ جانے سے پہلے بھی ساری اپوزیشن کو اعتماد میں لیا۔اس طرح جب بھی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا ذکر آئے گا، وہ بھٹو کے نام کے بغیر نامکمل ہو گا۔ شاید یہی وہ بات تھی جو اسے تختہ دار تک لے گئی۔

اس کی دوسری زندگی کا آغاز 4 اپریل 1979 کے بعد شروع ہوتا ہے جب وہ جسمانی طور پر نہیں بلکہ سیاسی طور پر جنرل ضیا الحق کے اعصاب پر سوار رہتا۔ اس کو ختم کر کے بھی وہ ختم نہ کر سکا۔ پہلے پارٹی توڑنے کی کوشش کی۔ پارٹی کے کچھ مرکزی رہنمائوں کے ذریعے جن کا کردار ٹرائل کے دوران خاصا مشکوک رہا ، ان کو استعمال کیا گیا، پھر سیاسی تاریخ کے بدترین تشدد کے ذریعے ہزاروں سیاسی کا رکنوںکو فوجی عدالتوں سے قید، کوڑوں کی سزائیں اور کئی کو تختہ دار۔

ایک بار بھٹو صاحب کو جیل سے فرار کروانے کی بھی سازش ہوئی جس کا علم جب ان کو ہوا تو انہوں نے انکار کر دیا۔ بعد میں یہ واقعہ لیبیا سازش کیس کے نام سے مشہور ہوا کیونکہ اس میں لیبیا کے کرنل قذافی اور فلسطین کے رہنما یاسر عرفات کا نام بھی آیا تھا۔ سابق ٹیسٹ کرکٹر آفتاب گل کے بقول جو ایک زمانے میں خود ایک جیالے تھے ’’ سارا پلان تیار تھا جب بھٹو صاحب سے کہا کہ آپ کو تیار رہنا ہے تو انہوں نے ہر قسم کے ایڈونچر سے منع کیا اور کہا، میں تاریخ کے ہاتھوں مرنا نہیں چاہتا ‘‘۔بھٹو کے لئے بھی ایک NRO لینے کی کوشش ہوئی جس کا ذکر ایک بار سابق نگران وزیر اعظم غلام مصطفیٰ جتوئی مرحوم نے مجھ سے ایک انٹرویو میں کیا، ’’ میں جنرل عارف حسن کی موجودگی میں ایک بار جنرل ضیاء سے ملا اور درخواست کی کہ اس پورے خاندان کو چند شرائط کے ساتھ باہر جانے کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے یقین دہانی بھی کرائی مگر جب بھٹو کو پتا چلا تو ناراضی کا اظہار کیا ۔4اپریل 1979ءکو انہیں پھانسی دے دی گئی۔ ‘‘

پی پی پی کو ختم کرنے کیلئے کئی بار توڑا گیا ،پہلے ضیاء نے1984ءمیں ایک ریفرنڈم کے ذریعہ اپنا دور اقتدار بڑھایا، پھر غیر جماعتی انتخابات کے ذریعہ قوم کو لسانی،برادری اور فرقہ واریت میں تقسیم کر دیا اور اس سب کے منفی اثرات سیاست کا حصہ بن گئے ،پنجاب کے کاروباری خاندانوں کو دباؤ اور لالچ کے ذریعہ سیاست میں لایا گیا مگر پارٹی ختم نہ ہوئی۔

آخر کار پارٹی نے خود اس کا بیڑہ اٹھا لیا۔ مزاحمت سے مفاہمت اور آخر میں مصلحت کی بدولت آج یہ جماعت سندھ تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ وہ لاہور جہاں سے پی پی پی کا آغاز 30نومبر 1967کو ہوا تھا ،وہاں اب پارٹی کی پہچان صرف عالی شان بلاول ہاؤس رہ گیا ہے، ورنہ تو امیدوار نہیں ملتے۔

حیرت ہے حال ہی میں سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کے مسئلے پر اعظم تارڑ پر اعتراض یہ تھا کہ وہ بے نظیر کے قتل میں مبینہ ملزمان کے وکیل ہیں۔ مگر وزیر اعلیٰ کے نام کے لئے چوہدری پرویز الٰہی کو لانے کی کوششیں۔ ویسے تو وہ ماشاء ﷲ ڈپٹی پرائم منسٹر بھی بنائے گئے کہ 2008 کے بعد اگر یہ سب کرنا ہی تھا تو کم از کم ان سے وہ قلم ہی واپس لے لیا جاتا جو چوہدریوں کو غالباً جسٹس مولوی مشتاق نے دیا تھا، جس سے بھٹو کی پھانسی کے پروانے پر دستخط کئے گئے تھے۔

ایک بار چوہدری پرویز الٰہی سے میں نے پوچھا تھا کہ زرداری صاحب نے اپنی پہلی ملاقات میں کیا پیغام دیا تھا’’ انہوں نے صرف اتنا کہا کہ وہ نہیں چاہتے ہمارے بچے یہدشمنیاں لے کر آگے جائیں، میں نے بھی اس بات کا خیر مقدم کیا ‘‘۔

بریگیڈیر ایس ایم ترمذی نے اپنی کتاب ’’پروفائل آف انٹیلی جنس‘‘ میں ایک جگہ لکھا کہ بھٹو ٹرائل کے دوران ایک پرچہ ان کے ہاتھ لگا جو امریکی سفارت خانے کو امریکہ سے بھیجا گیا تھا جس میں پھانسی کو یقینی بنانے پر زور تھا۔ میرا ذاتی ردعمل تھا کہ اب ہم اس مقام پر ہیں جہاں ڈیتھ وارنٹ بھی امریکہ سے آتا ہے۔

یہ بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ بھٹو کی جان بچانے کی آخری کوشش ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کی جنہوں نے مارچ 1979ء کو 10صفحات پر مشتمل ایک خط جنرل ضیاالحق کو لکھا کہ ان کو بچانا کیوں ضروری ہے؟ اس سلسلے میں انہوں نے ترکی کا خفیہ دورہ بھی کیا اور صدر سے بھی ملے۔ چلیں اچھا ہوا ’کورونا‘ کی وجہ سے اس بار برسی کا جلسہ گڑھی خدا بخش سے پنڈی منتقل ہونے سے بچ گیا۔ یہ جگہ ایسے ہی آباد نہیں ہوئی، سیاست پنڈی سے قریب ہونے کی خبر ہے، اس قبرستان کو یہیں رہنے دیں۔

کہاں تک دوستوں کی بے رخی کا ہم کریں ماتم

چلو اس بار بھی ہم ہی سر مقتل نکلتے ہیں