بو علی سینا بمقابلہ امام غزالی – Yasir Pirzada

26

مسلمان فلسفی بوعلی سینا نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ ’’میں نے ارسطو کی کتاب ’مابعد الطبیعات‘ کوسمجھنے کے لئے اسے چالیس مرتبہ پڑھا اور آخر تب سمجھ آئی جب اُس پر ال فارابی کا مقالہ پڑھا‘‘۔ یہ جملہ میں نے حال ہی میں فلسفے کی ایک کتاب میں پڑھا، کتاب کا نام The History of Philosophy ہے اور مصنف ہے، اے سی گریلنگ۔ یہ کتاب جب میں نے دیکھی تو ایک خوشگوار حیرت ہوئی کہ اِس میں صرف مغربی فلسفیوں کے افکار ہی نہیں بلکہ چین، ہندوستان، افریقہ اور مسلم فلسفیوں کے نظریات کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔ کتاب میں مسلمان فلسفیوں والا حصہ، گوکہ مختصر ہے مگر خاصا دلچسپ ہے۔ اسی لئے اگلے روز دنبہ کڑاہی کھانے کی بجائے میں نے یہ کتاب خرید لی۔یہ سوال اکثر اٹھایا جاتا ہے کہ آخر مغربی دانشور مسلمان حکما کو فلسفے میں وہ مقام کیوں نہیں دیتے جس کے وہ مستحق ہیں؟ مسلمانوں میں ال فارابی، ال کندی، ابنِ سینا، امام غزالی اور ابنِ رشد سمیت درجنوں عظیم مفکرین گزرے ہیں، کیا اُنہوں نے فلسفے میں اتنا قابلِ ذکر کام بھی نہیں کیا کہ اُنہیں مغربی مصنفین کی کتابوں میں مناسب جگہ مل سکے؟ اِس سوال کا ایک ممکنہ جواب تو یہ ہو سکتا ہے کہ زیادہ تر مسلمان فلاسفہ نے یونانی فلسفیوں کے افکار کا ترجمہ کیا اور انہی کے نظریات کی تشریح میں کتب لکھیں۔ عباسی دور میں ’بیت الحکمہ‘ قائم کیا گیا جہاں یونانی فلسفے کے عربی میں تراجم ہوئے اور خلیفہ ہارون الرشید، مامون الرشید سمیت دیگر عباسی حکمرانوں نے اِس کام کی بھرپور سرپرستی کی۔ بےشک یہ اپنی جگہ بہت بڑا کارنامہ تھا اور اکثر یونانی فلسفیوں کی کتب بعد میں انہی عربی تراجم کی بدولت مغرب تک پہنچیں مگر اِس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ مسلمانوں نے بذاتِ خود فلسفے میں کوئی قابلِ ذکر اضافہ نہیں کیا۔ پروفیسر گریلنگ نے اِس کتاب میں جدید دور کے مسلم مفکر حسین نصر کا ایک بیان نقل کیا ہے کہ ’’اسلامی فلسفے کی روایت میں قرانی وحی کا تصور بہت گہرا ہے اور یہ تصور ایسی کائنات میں کام کرتا ہے جہاں الہام اور وحی کو حقیقت مطلق سمجھ کر قبول کیا جاتا ہے جو کہ نہ صرف اخلاقیات بلکہ علم کا بھی کا ماخذ ہے‘‘۔ اِس پر تبصرہ کرتے ہوئے پروفیسر گریلنگ لکھتے ہیں کہ ’’مسئلہ دراصل یہی ہے۔ اگر کسی فکر کا نقطۂ آغاز ہی مذہبی عقیدے کو تسلیم کرنے سے کیا جائے گا تو اُس کے نتیجے میں الھیات، علمِ تفسیر، علمِ تعبیر یا ایسا ہی کوئی علم تو جنم لے سکتا ہے مگر اسے فلسفہ نہیں کہا جا سکتا‘‘۔

پروفیسر گریلنگ نے مسلمان فلسفیوں کے متعلق اپنا نقطۂ نظر بیان کرنے کے بعد اِن فلسفیوں کے افکار پر بہت عمدہ بحث کی ہے۔ ابنِ سینا کے بارے میں لکھتے ہیں کہ اُن کے نزدیک فلسفے کا کام جس قدر بھی انسانی ذہن کے لئے ممکن ہو، اشیا کی حقیقت کو جاننا ہے۔ فلسفی کے ذمے دو کام ہیں، ایک، نظریاتی جس کے تحت سچائی کی تلاش کی جاتی ہے اور دوسرا عملی، جس کا مقصد اچھائی کو پانا ہے۔ ابنِ سینا کے نزدیک منطق، فلسفے کی بنیاد ہے اور یہی مسرت کی راہ بھی ہے اور اِس کی وجہ یہ ہے کہ منطق ہمیں اِس قابل بناتی ہے کہ ہم نامعلوم سے معلوم کی جانب پہنچ سکیں، استنباط اور استخراج کی مدد سے ۔ منطق ہمیں درست استدلال کے اصول دیتی ہے تاکہ ہم صحیح دلیل کا استعمال کر سکیں، یہی دلیل و برہان ہمیں علم کی طرف لے جاتی ہے جبکہ ناقص طریقۂ استدلال حقیقت سے دور کر دیتا ہے۔ تاہم آگے چل کر گریلنگ نے امام غزالی کے متعلق جو حصہ لکھا ہے اُس سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ کیسے امام غزالی نے ابنِ سینا کے نظریات پر بےرحم تنقید کی، حتیٰ کہ اپنی مشہورِ زمانہ کتاب ’تہافتہ الفلاسفہ‘ میں کفر کا فتویٰ بھی لگا دیا۔ پروفیسر گریلنگ لکھتے ہیں: ’’غزالی کا اصل ہدف فلسفیوں کا یہ دعویٰ تھا کہ الھیات، جس کی بنیاد ایمان اور وحی پر ہے، کے مقابلے میں منطق اور استدلال علم کے برتر ذرائع ہیں‘‘۔ غزالی کا طریقہ کار یہ تھا کہ وہ فلسفیانہ نظریات کو اسی کسوٹی پر پرکھتے جو اُن فلسفیوں کی اپنی مقرر کردہ تھیں اور پھر اِس بنیاد پر اُن کے فلسفیانہ افکار کو غلط ثابت کر دیتے۔ ایسا کرتے ہوئے غزالی نے جو جوابی دلائل استعمال کیے وہ تمام اُن کے اپنے تخلیق کردہ نہیں تھے بلکہ اِس ضمن میں انہوں نے ارسطو مخالف مسیحی نقادوں کے کام کا سہارا لیا جو نویں صدی سے علم الکلام کا حصہ تھا۔ غزالی نے جن عقائد پر تنقید کی، اُن سب کو ناقابلِ قبول قرار نہیں دیا، البتہ تین باتیں ایسی تھیں جن کے بارے میں اُن کا ماننا تھا کہ وہ اسلامی اعتقاد کے لئے خطرہ ہیں اور وہ تمام ابنِ سینا کے فلسفے میں شامل تھیں، جیسا کہ ازلی کائنات کا تصور، عالم کے بارے میں خدا کے علم کی محدودیت اور زندگی بعد از موت کا انکار۔ (بقول غزالی) ابنِ سینا کی تعلیمات ایمان کے لئے خطرہ ہیں اور جو انہیں مان لے وہ گمراہ ہو سکتا ہے لہٰذا تہافتہ الفلاسفہ کے آخر میں غزالی فتویٰ جاری کرتے ہیں‘‘۔ یاد رہے کہ ابنِ سینا کا انتقال امام غزالی کی پیدایش سے پہلے ہو چکا تھا۔

امام غزالی کی وفات 1111میں ہوئی۔ آپ کی وفات کے پندرہ سال بعد 1126میں ابن رشد پیدا ہوا جس نے تہافتہ الفلاسفہ کے جواب میں ’تہافتہ التہافتہ الفلاسفہ‘ لکھی جس میں امام غزالی کے اعتراضات پر تفصیل سے بحث کی۔ اِن دونوں کتابوں پر آج بھی مسلمان اکابرین کے درمیان علمی مکالمہ ہوتا ہے۔ امام غزالی کی بنیادی تنقید فلسفیانہ طرز استدلال پر تھی جبکہ ابنِ رشد فلسفے کے دفاع میں قران کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے دلائل کی عمارت مختلف قرانی آیات پر کھڑی کرتا ہے۔ ابنِ رشد نے امام غزالی کی تنقید کا جواب کس انداز میں دیا، اِس ضمن میں قران سے کیسے مدد لی اور اِس کے نتیجے میں مسلمانوں کی فکر میں کیا تبدیلی آئی۔ یہ ذکر پھر کبھی!