بوسنیا۔ درداور شجاعت کی داستان – Dr A Q Khan

26

آج آپ کی خدمت میں بوسنیا کی دردناک مگر شجاعت کی اعلیٰ کہانی پیش کرنا چاہتا ہوں کیونکہ ابھی پچھلے دنوں اس کی تیسویں سالگرہ منائی گئی ہے۔ بوسنیا (یعنی سرویہ) کرترکوں نے سلطان محمد فاتح (فاتح استنبول) کے دور میں فتح کیا۔ انہوں نے البانیہ، کریمیا اور سقوطری پر بھی قبضہ کرلیا تھا اور مسیحیوں کو عبرتناک شکست دی تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ حالات بدلتے گئے ترکوں نے 1539میں آسٹریا کے دارالحکومت ویانا کا بھی محاصرہ کرلیا تھا۔ صنعتی ترقی کی وجہ سے یورپی ممالک طاقتور ہوتے گئے اور ترک کمزور ہوتے گئے۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد ترکی کے ہاتھ سےمشرقی یورپ، عرب ممالک نکل گئے۔ انگریزوں سے مل کر ترکوں کے خلاف غدّاری کی گئی، عرب ممالک ترکی سے تو آزاد ہو گئے مگر انگلستان اور فرانس کی غلامی میں آگئے اور اس کے نتیجے میں اسرائیل بنا اور یہ ناسور آج بھی عربوں کی غیرت کو للکار رہا ہے۔ ترکی کی فوج کے چند دستے جاں نثاری کے نام سے مشہور تھے۔ یہ اسلا م اور اپنی قوم و ملک پر جانیں نثار کرنے میں ماہر تھے، ان کی بہادری سے یورپ کے مسیحی کانپتے تھے۔ ترکوں کی اعلیٰ شانِ حکومت 1299سے 1923تک قائم رہی۔ مشرقی یورپ کی فتوحات سے البانیہ، سربیا، کوسوُو، بوسنیا اور دوسرے ممالک میں لاتعداد ترک رہائش پزیر ہوگئے تھے۔ بوسنیا میں ان کی اکثریت تھی۔ کمیونسٹ حکومت تھی، آزادی کا فقدان تھا۔ 1991میں روس کی سلطنت بکھرنے کے بعد تمام وسطی ایشیا کے اسلامی ممالک آزاد ہو گئے اور یوگو سلاویہ بھی ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔ بوسنیا کے مسلمانوں اور کروشیا کے مسیحیوں نے آزادی کا اعلان کردیا، سربوں نے ان کے خلاف جنگ چھیڑدی اور پورا نزلہ بوسنیا کے مسلمانوں پر گرا۔ سربوں نے سراجیوو کو محاصرہ میں لے لیا۔ یہ مسلمانوں کی اکثریت کا شہر تھا اور یہاں ونٹر اولمپکس ہوئے تھے، بہت خوبصورت شہر تھا۔ سربوں کو تماممسیحی اور کمیونسٹوں کی حمایت حاصل تھی صرف کروشیا ان کا مخالف تھا۔ سرب آہستہ آہستہ ٹینکوں کی مدد سے آگے بڑھ رہے تھے، ان کی توپوں سے عمارتیں تباہ ہوتی جارہی تھیں اور ان کے پاس جو RPG تھے جن کی مار صرف 200 گز تھی اور ٹینک ان کی پہنچ سے دور تھے۔ اخبارات میں، ٹی وی پر سربوں کی وحشیانہ بمباری اور قتل و غارتگری دکھائی جارہی تھی مگر مغربی ممالک خوش تھے کہ مسلمانوں کا صفایا ہورہا ہے۔ UNکا سیکریٹری جنرل مصری کٹّر مسیحی بطروس غالی تھا وہ سربوں کی حمایت کررہا تھا۔ UNفورسز تماشائی بنی ہوئی تھے۔ بیحاج اور سراجیوو میں مسلمان قتل ہورہے تھے۔ برٹش جنرل روز نے UNفورسز سے حملہ کرنے کو کہا تو انہوں نے انکار کردیا۔ انگلستان کے وزیر خارجہ لارڈ کیرنگٹن نے غرور سے کہا کہ ترک جو ممالک تلوار سے نہ لے سکے اب وہ پلیٹ پر ہم سے چاہتے ہیں۔ امریکی بھی تماشائی بنےہوئے تھے۔ ایک دن میرے نہایت پیارے دوست عبدالجلیل خان ( بعد میں کمشنر انکم ٹیکس بن گئے تھے) نے مجھے فون کیا کہ بوسنیا کے وزیر خارجہ ڈاکٹر حارث سلاجک آئے ہیں آپ سے ملنا چاہتے ہیں میں نے فوراً دعوت دی کہ وہ ان کو لے کر گیسٹ ہائوس آجائیں اور لنچ ساتھ کریں۔ جب میں وہاں پہنچا تو چھ فٹ کے دراز قد نہایت خوبصورت ترک نژاد وزیر خارجہ سے ملا۔ کھانے پر میں نے دیکھا کہ ان کے حلق سے نوالہ نہیں اتر رہا تھا انہوں نے ٹینکوں سے ان پر ہونے والے حملوں کی بات بتائی۔ ہم اس وقت نہایت اعلیٰ اینٹی ٹینک ،بکتر شکن میزائل بنارہے تھے اور فوج کو سپلائی کررہے تھے۔ میں نے نواز شریف صاحب کو تیار کرلیا کہ ہم 200بکتر شکن (اینٹی ٹینک )میزائل بوسنیا بھیج دیں۔ دو سو میزائل سراجیوو پہنچا دی گئیں۔ دو ہفتے بعد بوسنیا کے سفیر بے حد خوش خوش میرے پاس آئے اور ڈاکٹر حارث کے شکریے کا خط دیا کہ ان کی فوج نے تین دن میں سربوں کے 83ٹینک اڑا دیئے اور وہ بھاگ گئے۔ 50میزائل انہوں نے بیحاج بھیج دیے وہاں بھی انہوں نے تباہی پھیلادی اور اب جبکہ بوسنیا کا پلہ بھاری ہونے لگا تو سربوں نے دوسرے علاقوں میں مسلمانوں کا قتل عام شروع کردیا۔ اس کے بعد بھی سربوں نے ان علاقوں پر حملے کئے جہاں مسلمان محصور ہوگئے تھے اور گوراگا (Goraga)، سریبرینیسا (Srebrenica)، اور زیپا (Zepa) پر حملے شروع کردیئے اور ہزاروں مسلمانوں کو قیدیوں کے مراکز بنا کر فاقہ کشی پر مجبور کردیا اور ہزاروں مسلمان شہید ہوگئے۔ سرب کمانڈر ملادچ (Mladic)نے Zepaکے مسلمان لیڈر کو میٹنگ کے لئے دعوت دی۔ کافی اور سگریٹ دی اور فوراً حملہ کرکے قتل کردیا۔ سربرینیسا کو دو سال تک محاصرہ میں رکھا۔ UNنے اس کو حفاظتی شہر قرار دیدیا تھا اور یہاں ڈچ فوج تعینات کر دی تھی وہ سربوں سے مل گئے مسلمانوں کو دھوکہ دیاکہ وہ ہتھیار دے دیں تو انھیں سراجیوو بھیج دیا جائے گا۔ جونہی انہوں نے ہتھیار ڈال دیے ملادچ نے حملہ کرکے 12000مسلمانوں کو ٹرکوں میں ڈال کر لے جا کر قتل کردیا جن میں مرد اور لڑکے شامل تھے، کئی دن قتل عام جاری رہا اور یورپ کے ممالک تماشائی بن کر خوش ہوتے رہے۔ یہاں یعنی بوسنیا میں جو مسلمانوں کا قتل عام ہوا وہ مسیحیوں کے مسلمانوں کے قتل عام جو مسجدالاقصیٰ میں ہوا تھا، سے بدتر تھا۔ سربوں نے مساجد، لائبریریز، علماء وغیرہ کونشانہ بنایا۔ انہوں نے 800سے زیادہ مساجد مسمار کیںاور تقریباً ساڑھے تین لاکھ مسلمان شہید کئے۔ 60ہزار سے زیادہ خواتین کی عصمت دری کی اور ڈیڑھ لاکھ لوگ پناہ گزیں بن گئے۔ اور دنیائے اسلام تماشہ دیکھتی رہی سوائے ترکی، ملائیشیا، پاکستان اور سعودی عرب کے کسی نے مدد نہیں کی۔ سعودی عرب اورملائیشیا نے مالی مدد کی اور ترکی اور پاکستان نے ہتھیاروں سے مدد کی۔ مغربی ممالک نے ایک خالص اسلامی ملک نہ بننے دیا۔ بوسنیا اب ایسا ملک ہے جہاں باری باری سرب، کروٹ اور بوسنن صدر اور وزیراعظم بنتے ہیں۔

جب بھی بوسنیا کے آرمی چیف، وزیر دفاع اور وزیر خارجہ پاکستان آئے وہ میرے پاس آئے اور کہا کہ ڈاکٹر صاحب آپ ہماری آزادی کے معمار ہیں آپ نے ہمیں بچا لیا۔ ہمارےایک ہزار طاقتور راکٹوں نے سربوں کی کمر توڑ دی تھی۔ کاش مسلمان متحد ہوکر ایسے حالات کا مقابلہ کریں۔ ویت نام اور افغانستان روشن مثالیں ہیں انہوں نے سُپر پاور ز کی کمر توڑ دی اور بہادری کی مثال قائم کردی۔ مصطفیٰ کمال پاشا نے نہایت نازک اور غیرمناسب حالت میں یونان، انگریزوں، آسٹریلین اور نیوزی لینڈ کی فوجوں کی کمر توڑ دی تھی۔