بدلتے حالات اور افغانستان By Javeria Siddique

15

ہمسایے میں کچھ بھی ہورہا ہو‘ اس کا اثر اپنے گھر تک آتا ہی ہے۔ یہ بات پاکستان پر بھی پوری اترتی ہے کہ افغانستان‘ ایران‘ بھارت میں جوکچھ ہوتاہے‘ اس کے اثرات ہم تک بھی پہنچتے ہیں۔ کاش کہ ہم ہمسایوں کے معاملے میں خوش نصیب ہوتے لیکن ایسا نہیں ہے، ایک طرف ازلی دشمن ہے تو دوسری طرف ایک ایسا ملک جس میں امن کا قیام خواب معلوم ہوتا ہے۔ ہم نے ہمیشہ افغانستان کا ساتھ دیا ہے‘ تیس لاکھ سے زائد مہاجرین کو اپنے ملک میں پناہ دی‘ ہمیشہ افغانوں کے ساتھ کھڑے ہوئے، کتنے ہی افراد چمن باڈر کراس کے ہر روز پاکستان آتے ہیں‘ یہاں اپنا علاج کراتے ہیں‘ ضرورت کی اشیا خریدتے ہیں‘ کتنے ہی افغان باشندے یہاں سکونت اختیار کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پُرسکون زندگی گزار سکیں مگر افغان قیادت ہے کہ وہ پاکستان پر الزام تراشی کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی ۔

جب ہم چھوٹے تھے‘ اس وقت بہت سے افغان مہاجرین اسلام آباد آئے‘ جو اب بھی پاکستان میں ہی مقیم ہیں۔ دہشت و ہولناکی کی داستانیں ان کے چہروں پر رقم تھیں۔ ہم افغان بچوں کے ساتھ مل کر کھیلا کرتے تھے کیونکہ میرے والدین نے ہمیں یہی سکھایا تھا کہ یہ ہمارے مسلمان بہن بھائی ہیں۔ ان افراد نے اپنے کسی نہ کسی پیارے کو جنگ میں کھو دیا تھا، پاکستان نے ان کے درد کو سمیٹا، انہیں چھت اور روزگار دیے۔ آج بیشمار افغان باشندے اپنے پیروں پر کھڑے ہیں اور پاکستان میں عزت کی زندگی بسر کررہے ہیں۔ افغان جب یہاں آباد ہوئے تو اپنے ساتھ نئی ثقافت اور پکوان بھی لائے۔ اکثر ہم پکوانوں کا تبادلہ کرتے، وہ ہمیں کابلی پلائو بھیجتے اور ہم بریانی۔ اس کے ساتھ بازاروں میں کباب، افغانی برگر، افغانی جیولری، افغانی ڈریسز اور افغان ہینڈی کرافٹ بھی بکنے لگے، افغانوں نے ہمارے بازاروں، مارکیٹوں میں اپنا کام شروع کر دیا اور ہمارے شہر اسلام آباد نے بنا تعصب کے افغان مہاجرین کو قبول کیا، کبھی ان کے ساتھ کوئی ناروا سلوک نہیں کیا۔

افغان وار‘ جس کا پاکستان بھی حصہ بنا‘ میں سوویت یونین کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے مگر افغانستان میں امن قائم نہ ہوسکا۔ عوام دہشت گردی، شدت پسندی اور قتل و غارت گری کی آگ میں جھلستے رہے۔ پھر نائن الیون کا واقعہ ہوا اور امریکا آگیا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے کا اعلان کیا گیا، پاکستان دوبارہ اس پرائی جنگ میں کود پڑا۔ پرویز مشرف صاحب کا یہ فیصلہ مجھے اس وقت بھی بہت برا لگا تھا حالانکہ میں اس وقت سکول کی طالبعلم تھی مگر اتنا شعور رکھتی تھی کہ یہ فیصلہ غلط ہے اور وقت نے یہ ثابت بھی کیا۔ ہم کیوں پرائی جنگ میں کودے؟ پھر اس جنگ کی آگ ہمارے ملک میں بھی بھڑک اٹھی۔ ہر روز دھماکے، ہر روز دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، منشیات، اسلحہ، کیا کیا اس جنگ میں ہم نے نہیں جھیلا؟ ستر ہزار سے زائد پاکستانی اس جنگ میں شہید ہوئے۔ اس کے بعد شاید ریاست کو بھی سمجھ آ گئی کہ دوسروں کی جنگوں میں نہیں کودنا چاہیے۔

پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف جنگ لڑی اور بھرپور طور پر لڑی، اپنے ملک سے چن چن کر دہشت گردوں کا صفایا کیا گیا۔ 2014ء میں آرمی پبلک سکول پر بزدلانہ حملے میں تحریک طالبان، را اور این ڈی ایس کے ملوث ہونے کے واضح ثبوت ملے۔ یہ حملہ افغانستان میں پلان ہوا، اس کے بعد جیسے ریاستِ پاکستان کے صبر کی انتہا ہوگئی۔ چن چن کردہشت گردوں، ان کے آلہ کاروں اور سلیپر سیلز کو ختم کیا گیا، ساتھ ہی ساتھ پاک افغان باڈر کو سیل کرنے کے لیے باڑلگانے کا کام شروع ہوا جس پر تقریباً 98فیصد کام مکمل ہو چکاہے۔ اس سرحد کی لمبائی 2611کلومیٹر ہے اور یہاں پر صرف باڑ نہیں لگائی گئی بلکہ 843 پوسٹس بھی قائم کی گئی ہیں تاکہ سرحد کی نگرانی کی جا سکے۔ یہاں پر فوجی دستے بھی تعینات رہیں گے تاکہ کوئی دہشت گرد اس باڑ کو نقصان نہ پہنچاسکے۔

امریکا اور نیٹو ممالک تو افغانستان سے جا رہے ہیں؛ تاہم حالات ابتری کی طرف مائل ہیں، کچھ علاقوں میں خانہ جنگی شروع ہو چکی ہے، عام عوام کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ پاکستان اس صورتحال میں اپنے افغان بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے اور افغانستان میں امن کا خواہش مند ہے؛ تاہم افغان حکومت کے تیور کچھ اور ہی بتاتے ہیں۔ بھارت کے ایما پر وہ شاید ہم سے اچھے سفارتی تعلقات کے خواہاں نہیں ہے۔ افغان سرکاری میڈیا پر پاکستان کے خلاف نغمے نشر ہو رہے ہیں،یہ نغمے RTA (ریڈیو ٹی وی افغانستان) کے ویریفائیڈ ٹویٹر اکائونٹ سے ٹویٹ بھی کیے گئے جس سے پاکستانیوں کے جذبات مجروح ہوئے۔ پاکستان نے افغان لیڈرزکی عالمی کانفرنس کے انعقاد کا اعلان اور میزبانی کی پیشکش کی لیکن افغان صدر اشرف غنی کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے یہ ملتوی ہو گئی۔ افغان نائب صدر امراللہ صالح بھی ٹویٹر پر پاکستان کے خلاف زہر اگلتے رہے کہ پاکستان ایئر فورس نے افغان آرمی اور افغان ایئرفورس کو سپن بولدک میں طالبان کو نکالنے کے لیے فضائی آپریشن کرنے پر سخت نتائج اور ردعمل کی دھمکی دی۔ یہ سراسر جھوٹی خبر ہے، افغان نائب صدر نے ثبوت دینے کا دعویٰ تو کیا مگر اب تک کوئی ثبوت نہیں دیا۔ پاکستان ایئرفورس نے ایسا کوئی بیان دیا اور نہ ہی پاک ایئرفورس کا افغان فورسز کے ساتھ کوئی رابطہ ہوا۔ اس کے بعد ایک عجیب واقعہ وقوع پذیر ہوا۔ خبر آئی کہ افغان سفیر کی بیٹی اغوا ہوگئی اور چند گھنٹوں بعد بازیاب بھی کرا لی گئی۔ اس خبر سے سب کو صدمہ لگا اور سب نے اس کی مذمت کی؛ تاہم جب تحقیقات شروع ہوئیں تو اصل تصویر سامنے آئی۔ بھارتی میڈیا نے ایک ٹک ٹاکر خاتون کی خون میں لت پت تصویر کو افغان سفیر کی بیٹی بناکر واویلا شروع کردیا حالانکہ یہ سراسر جھوٹ اورپاکستان کو بدنام کرنے کی سازش تھی۔اب تک کی تحقیقات کے مطابق‘ افغان سفارت خانے کو سکیورٹی الرٹ جاری کرنے کے باوجود‘ لڑکی پیدل گھر سے نکلی، مارکیٹ گئی، دو ٹیکسیاں تبدیل کیں،کھڈا مارکیٹ گئی، دامن کوہ گئی، ایف نائن گئی اور وہاں موبائل انٹرنیٹ بھی استعمال کیا۔ دوسری طرف افغان ایمبیسی کا دعویٰ ہے کہ سفیر کی بیٹی کو اغوا کیا گیا، اس پر تشدد ہوامگر تحقیقات کچھ اور ہی بتاتی ہیں۔ اب اغوا والے ڈرامے کے بعد افغان حکومت نے پاکستان سے اپنا سفارتی عملہ واپس بلانے کا اعلان کردیا ہے۔ ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ افغان حکومت اس وقت بھارت کی کٹھ پتلی ہے اور دوسری طرف طالبان ہیں‘ جب تک منظر نامہ صاف نہیں ہوتا‘ ہمیں ان سب کو ایک ہی فہرست میں رکھنا ہو گااور خود کو ہر ممکن حد تک پرائی جنگ سے بچانا ہو گا۔ پرائی جنگوں میں کودنے کی سزا ہم نے طویل عرصہ بھگتی ہے۔ اس لئے اب ہمیں صرف اپنے مفاد کو دیکھنا ہو گا۔ البتہ یہ طے ہے کہ افغانستان میں عدم استحکام کا براہِ راست اثر پاکستان پر بھی مرتب ہو گا ،اس لئے پاکستان کو بہت سوچ سمجھ کر اپنا لائحہ عمل طے کرنا ہوگا۔ پاکستان تمام سیاسی و سماجی حلقوں کو اکٹھا کیا جائے، آل پارٹیز کانفرنس بلائی جائے تاکہ مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دیا جا سکے۔ اس وقت طالبان تیزی سے افغانستان کا کنٹرول حاصل کررہے ہیں۔ اگر طالبان اورلسانی و قومیتی گروہوں اور مقامی جنگجو گروپوں کے درمیان جنگیں شروع ہوگئیں تو یہ پورے خطے کے امن پر اثرانداز ہوں گی۔ پاکستان مزید مہاجرین کی آمد کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ ہمیں یہ بات جان لینی چاہیے کہ ہمارے دونوں اطراف کے ہمسایے ہمارے خیرخواہ نہیں ہیں۔ آرمی پبلک سکول میں جو کچھ ہوا تھا‘ اس کی ذمہ داری افغانستان‘ تحریک طالبان اور بھارت پر عائد ہوتی ہے اور یہ ایسا جرم نہیں جو معاف کر دیا جائے مگر ہمیں اندرونی طور پر اپنے تحفظ کا خود التزام کرنا ہو گا اوراپنی صفوں پر گہری نظر رکھنا ہوگی۔اس سلسلے میں سرحدوں پر باڑ لگانے کا کام ایک اچھی کاوش ہے۔