ایک شکستہ جمہوری نظام – Saad Rasool

40

گزشتہ ہفتے قومی اسمبلی میں پارلیمنٹیرینز کے طرزِ عمل نے قانون ساز ادارے کی بوسیدگی واضح کر دی۔ اگرچہ طاقتور حلقوں کی جانب سے مداخلت کے بعد معاملات بہتر ہو گئے لیکن اس عمل نے یہ واضح کر دیا کہ سیاسی طاقت کی راہداریوں کیلئے منتخب ہونے والے لوگ ہمارے معاشرے کی بدترین نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کی زبان اور طرزِ عمل (عوام کی نظر میں) ایک ایسے اوچھے پن کو ظاہر کرتے ہیں جو شاید ہی ہماری ثقافت کے سب سے نچلے حصوں میں بھی پایا جاتا ہو۔یہ لوگ اس چیز کی نمائندگی نہیں کرتے جو ہم بحیثیت قوم ہیں۔ پھر بھی ہمارا جمہوری نظام ایک کے بعد ایک‘ ہر دور میں ایسے افراد کا انتخاب جاری رکھے ہوئے ہے اور انہیں عوامی طاقت کی راہداریوں میں پہنچا رہا ہے۔ بارِ دگر‘ ہم یعنی عوام ایسے افراد کا انتخاب کر کے انہیں عوامی طاقت کی راہداریوں تک پہنچاتے ہیں۔
ان حالات میں یہ پوچھنا مناسب لگتا ہے کہ ایسے لوگ سیاسی رہنما کے طور پر کیوں اور کیسے منتخب ہو جاتے ہیں؟ ہمارا نظام انہیں کیوں اکھاڑ کر باہر نہیں پھینک دیتا؟ قانون سازی کا ایک وسیع و عریض ڈھانچہ (جس میں آرٹیکل 62‘ 63 اور الیکشن ایکٹ 2017 ) ہونے کے باوجود ایسے افراد الیکشن لڑنے اور جیتنے کے اہل کیوں ہو جاتے ہیں؟ کیا یہ ہمارے مقدر کا قصور ہے؟ یا اس کا سبب ہمارا نظام ہے جو موروثی طور پر ٹوٹا ہوا اور شکستہ ہے؟ ان پیش رفتوں کی روشنی میں ہمارے (جمہوری) انتخابی نظام کی آئینی اور قانونی بُنت کے بارے میں بہت کچھ کہا گیا ہے۔ اپنے جمہوری وعدے کو پورا کرنے کے حوالے سے ہمارے آئینی تانے بانے کی صلاحیت پر سوالیہ نشان لگائے جاتے رہے ہیں۔ اس بحث کا کلیدی حصہ دراصل ایک بنیادی سوال ہے: کیا ہمارا جمہوری نظام کام کر رہا ہے یا ہمیں اپنی آئینی جمہوریت کے بنیادی معاملات پر غور کرنے کی ضرورت ہے؟ اس سوال کے جواب حاصل کرنے کیلئے آئیے ایک ”آئینی جمہوریت‘‘ کے مقصد کا جائزہ لینے کی ایک کوشش سے آغاز کرتے ہیں۔ اگرچہ پوری تاریخ میں قانون کے فلسفیوں اور سیاسی مفکرین نے ایک آئینی فریم ورک کے مکینکس کو طے کرتے ہوئے ایک دوسرے سے کئی معاملات پر اختلافات کیالیکن اس حوالے سے ایک وسیع اتفاق رائے بھی موجود ہے کہ آئینی جمہوری نظام کو کیا کرنا چاہئے: اس امر کو یقینی بنانا کہ رائے عامہ کی بہبود سے متعلق معاملات کے بارے میں لوگوں کی اجتماعی مرضی سیاسی‘ قانونی اور انتظامی طاقت کے راہداریوں میں پذیرائی پائے۔ اس کا قدرتی و منطقی نتیجہ یہ ہونا چاہئے کہ باضابطہ آئینی جمہوری مملکتوں کو یقینی طور پر ایسے سیف گارڈز وضع کرنے چاہئیں جو عوامی نمائندوں کو عوامی فلاح و بہبود پر توجہ دینے پر مجبور کریں اور جو ایگزیکٹو اتھارٹی کو یہ اختیار دیں کہ کسی خوف یا جانبداری کے بغیر بلا امتیاز خدمات فراہم کرے۔
آئیے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے جمہوری نظام کو ان اصولوں کی کسوٹی پر پرکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آغاز مقننہ سے۔ ایمانداری کے ساتھ خود سے یہ پوچھیں کہ کیا ہمارا نظام ایسے لوگوں کا انتخاب کرتا ہے جو عوام کی حقیقی نمائندگی کرتے ہوں اور کیا یہ ان افراد کو عوامی مفاد میں کام کرنے (قانون سازی) پر مجبور کرتا ہے؟ اس مقصد کیلئے کیا ہمارا انتخابی نظام سب کو برابر کے مواقع فراہم کرتا ہے اور کیا یہ ایسا نظام ہے جو ہر حلقے سے انتہائی مستحق اور تعلیم یافتہ امیدوار کے انتخاب کو یقینی بناتا ہے؟ یا اس کے بجائے یہ ایک ایسا عمل بن چکا ہے جس کے ذریعے دولت مند اور طاقتور اپنی دنیاوی عظمت کو برقرار رکھتے ہیں؟ ایسا کیوں ہے کہ بدعنوانی کے الزامات‘ دہائیوں کی بد انتظامی اور بار بار عوامی تضحیک کے واقعات کے باوجودوہی افراد اپنے حلقوں سے مسلسل منتخب ہوتے چلے آ رہے ہیں؟ ایسا کیوں ہے کہ دیگر مادی چیزوں کی طرح سیاسی حلقہ بندیاں بھی افرادِ خانہ ہی کو منتقل ہوتی رہتی ہیں؟ ہمارا نظام ادارہ جاتی چیک اینڈ بیلنسز کے ذریعے ایسی زیادتیوں کے خلاف تحفظ فراہم نہیں کرتا؟
ان سب سوالوں کا جواب بڑا آسان ہے: ہمارے انتخابی نظام میں کامیابی کا انحصار انتخابی حلقے میں امیدوار کی مالی اور ظاہری طاقت کے اظہار پر ہوتا ہے۔ ”اللہ دتہ‘‘ اور اس کے اہل خانہ کے پاس کوئی ایسا عملی طریقہ نہیں جسے اختیار کر کے وہ سندھ کے وڈیروں‘ بلوچستان کے سرداروں‘ پنجاب کے چودھریوں اور خیبر پختونخوا کے ملکوں کی مالی طاقت (اور مسلح گروہوں) کا مقابلہ کرتے ہوئے الیکشن لڑ سکیں اور اقتدار کے ایوانوں تک پہنچ سکیں۔ ایسے (طاقتور) افراد اپنے اپنے انتخابی حلقوں میں کسی بھی ممکنہ حریف کو نہ صرف ڈرا دھمکا سکتے ہیں بلکہ انتخابی عمل کے دوران اس سے زیادہ دولت خرچ کر کے اسے ناکام بھی بنا سکتے ہیں۔
انتظامیہ کی بات کی جائے تو کوئی بھی سنجیدہ چہرے کے ساتھ یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہماری ریاستی مشینری کی خدمات کی فراہمی کا طریقہ کار کسی خوف یا جانب داری کے بغیر کام کرتا ہے۔ کیا تھانہ‘ متعلقہ پولیس قوانین کی تمام شقوں کے باوجود” اللہ دتہ‘‘ کے ساتھ وہی سلوک کرتا ہے جیسا کسی مقامی سیاسی رہنما کے ساتھ کرتا ہے؟ کیا پٹوار‘ ڈی ایچ کیو ہسپتال یا ڈسٹرکٹ کمشنر؟ کیا پبلک ایجوکیشن سسٹم اس متحرک جدید دنیا میں ”اللہ دتہ‘‘ کے بچوں کا ایلیٹ پرائیویٹ سکولوں کے بچوں کے ساتھ مقابلہ کرنے میں مدد فراہم کرنے کیلئے وضع کیا گیا ہے؟ کیا یہ نظام لاوارث یا بے گھر بچوں کیلئے وہ سب کچھ کرتا ہے جو یہ کر سکتا ہے یا جو کچھ اسے کرنا چاہئے؟ یا ان ہزاروں خواتین اور بچوں کیلئے جو ہر سال جنسی استحصال کا شکار ہوتے ہیں؟ کیا یہ نظام اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے میں کامیاب ہے؟
اس نظام کا سب سے افسوسناک مظہر شاید نظامِ عدل کے حوالے سے ہے۔ پورے احترام کے ساتھ‘ ایسا ہی ہے۔ یقینا یہاں اچھے ججز ہیں‘ اور قابل قدر علم قانون بھی‘ لیکن مجموعی طور پر کیا نظام واقعتاً ”اللہ دتہ‘‘ کو انصاف فراہم کرنے کیلئے کام کر رہا ہے؟ کیا اس وقت ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ نظامِ عدل اسی طرح کام کر رہا ہے جیسا کہ اسے کرنا چاہئے؟ کیا ہم اس وقت یہ کہہ سکتے ہیں کہ نظام انصاف فراہم کر رہا ہے جب مجید اچکزئی کوئٹہ میں دن دہاڑے ایک ٹریفک وارڈن کو اپنی گاڑی کے نیچے کچلنے کے باوجود بَری کر دیا جائے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج سے صاف پتا چلتا ہے کہ کس طرح مجید اچکزئی نے ٹریفک وارڈن کو ہلاک کیا لیکن وہ ثبوت کی عدم دستیابی کے سبب بری ہو گیا۔ کیا اس وقت عدالتی نظام کام کر رہا ہوتا ہے جب ہماری عدالتیں سات سال گزر جانے کے باوجود ماڈل ٹاؤن قتل عام کے کسی ایک فرد کو مجرم قرار دینے میں ناکام رہی ہوں؟ کیا یہ نظام بلدیہ ٹاؤن فیکٹری میں آگ لگانے والے لوگوں کیلئے کام کر رہا ہے؟ یہ تسلیم کرنے میں جتنی بھی مشکل ہو‘ لیکن حقیقت یہی ہے کہ یہ نظام کام نہیں کر رہا۔ ہم اس کیلئے بہانے تراش سکتے ہیں لیکن حقیقت یہی ہے۔ شاید ہمارا آئین مسئلہ نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ قصور کسی خاص سیاسی جماعت یا ثقافت یا وقت یا لوگوں کا ہو۔ شاید سب کو ہی قصوروار ٹھہرایا جا سکتا ہے‘ لیکن ناقابلِ تردید طور پر ہمارا جمہوری نظام ٹوٹ چکا ہے۔ یہ مستحق اور تازہ سیاسی قیادت کی پرورش نہیں کرتا۔ یہ ان لوگوں کو بنیادی ریاستی خدمات بھی فراہم نہیں کر سکتا جو اس کے سب سے زیادہ مستحق ہیں۔ اور یہ دغا بازوں کو سزا نہیں دیتا نہ ہی بے گناہوں کی اشک شوئی کرتا ہے۔
ہمیں پاکستان میں ایک نئے جمہوری نظام کی ضرورت ہے یا کم از کم ہمیں اس موجودہ نظام میں اس انداز میں ترمیم کی ضرورت ہے جو آئینی نمونے میں بنیادی تبدیلیاں لائے۔ یا ہم انتظار کر رہے ہیں کہ ” اللہ دتہ‘‘ ہمیں ایسا کرنے پر مجبور کر دے اور انسانی تاریخ اس حقیقت کی گواہی دیتی ہے کہ جب لوگ کسی نظام کو تبدیل کرنے کیلئے از خود اٹھتے ہیں تو اس طرح کی تبدیلی ہمیشہ تباہی لانے کا سبب بنتی ہے