اڑھائی ہزار سال پہلے کی چند ملاقاتیں – Yasir Pirzada

22

آج سے 2700سال پہلے جب میں یونان میں تھا تو میرا فلسفیوں کے ساتھ کافی اٹھنا بیٹھنا تھا، یہ کوئی ایسی عجیب بات نہیں تھی، اُس دور میں یونان میں ہر دوسرا بندہ فلسفی تھا، حتّٰی کہ جو گوالا میرے گھر دودھ پہنچایا کرتا تھا وہ بھی اپنا ایک خاص فلسفیانہ نقطہ نظر رکھتا تھا، بھلا سا نام تھا اُس کا، ہاں یاد آیا ’دودھ کریٹس‘۔ ایک روز میں نے اُس سے پوچھا کہ کائنات کا راز کیا ہے؟ جواب میں اُس نے کیا کہ باؤ جی یہ میرے لیول سے ذرا اوپر کی بات ہے، بہتر ہے کہ آپ پارمینیدیس کے پاس جائیں، شاید اُس کے پاس کوئی تسلی بخش جواب ہو۔ پارمینیدیس یونان کا ایک عالی دماغ فلسفی تھا سو میں اپنا سوال لے کر اُس کے پاس پہنچ گیا، وہ اُس وقت اپنی محبوبہ کو رقعہ لکھنے میں مصروف تھا، پہلے تو اُس نے میری بات سنی اَن سنی کردی، میں نے پھر اپنا سوال دہرایا تو اُس نے ہاتھ سے یوں اشارہ کیا جیسے مکھی اڑا رہا ہو اور پھر رقعہ ختم کرکے میرے حوالے کیا اور کہا کہ میں اسے بحفاظت اُس کی محبوبہ کو دے آؤں۔ اِس فرمائش پر مجھے غصہ تو بہت آیا مگر میں پی گیا اور اصرار کیا کہ پہلے وہ مجھے میرے سوال کا جواب دے۔ پارمینیدیس نے اپنی منطق بیان کرتے ہوئے کہا کہ دیکھو برخوردار اگر کوئی چیز وجود رکھتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ ممکن نہیں کہ اس لمحے وہ وجود نہ رکھتی ہو، چنانچہ کسی شے کا وجود نہ رکھنا ناممکن ہے اور چونکہ اشیا عدم سے وجود میں نہیں آ سکتیں اِس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ کائنات ہمیشہ سے وجود رکھتی تھی گویا ازل سے موجود ہے۔ یہ جواب سُن کر میرا دل کیا کہ اُس کی محبوبہ کا رقعہ جا کر سیدھا اُس عفیفہ کے ابا جان کو دے آؤں جو اُس وقت یونان میں بڑے گوشت کی دکان کرتے تھے اور جن کے بارے میں مشہور تھا کہ روزانہ رات کو اپنی چھریوں کا تکیہ بنا کر سوتے ہیں۔

چند سال بعد میری ملاقات ڈیموکریٹس سے ہوئی، یہ نسبتاً معقول آدمی تھا، کم ازکم پارمینیدیس سے تو مجھے بہتر ہی لگا، بہت محبت سے پیش آیا، جب اسے پتا لگا کہ میں بھی یونانی کشمیری ہوں تو اٹھ کر مجھے گلے لگا لیا۔ موصوف بونگ کلچوں سے میری تواضع کر نا چاہتے تھے مگر میں نے منع کر دیا کہ آج کل ڈائٹنگ چل رہی ہے۔ اِس پر وہ قہقہہ لگا کر بولا کہ پھر تو تمہیں دیو جانس کلبی کے پاس جانا چاہئے تھا، وہ بھی کھانے پینے سمیت ہر قسم کی خرافات کے خلاف بولتا رہتا ہے۔ میں نے جواباً ہنس کر کہا کہ اُس سے ملنے کا اشتیاق تو مجھے بھی ہے مگر اُس کا کوئی مستقل ٹھکانہ ہی نہیں، کبھی کسی ڈرم میں گھس کر رات گزارتا ہے تو کبھی یونہی راہ میں پڑا رہتا ہے، کہیں خریداری کرنے بھی نہیں جاتا کہ بازار میں ہی ملاقات ہو جائے، اور اگر کہیں اتفاق سے مل جائے تو طعنے بہت دیتا ہے، نہ جانے کیوں مجھے لگتا ہے کہ اُس کا مقصد لوگوں کی تذلیل کرنا ہے نا کہ انہیں اچھی زندگی کی طرف راغب کرنا۔ خیر، ڈیمو کریٹس سے طویل گپ شپ رہی، اِس فلسفی کی کتابوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ محض ان کے عنوانات لکھنے کے لئے ہی چار صفحے چاہئیں۔ اس مردِ عاقل نے مجھے جو بتایا اُس کا لبِ لباب یہ تھا کہ کہ پارمینیدیس نے جھک ماری ہے، اس نے کہا کہ مادے کو لامحدود طریقے سے تقسیم نہیں کیا جا سکتا، تمام اشیا ایک چھوٹے سے ذرے سے مل کر وجود میں آئی ہیں جنہیں ایٹم کہا جاتا ہے، اس کا لفظی مطلب ہی ’ناقابلِ تقسیم‘ ہے، مادے کی جو مختلف اشکال ہمیں نظر آتی ہیں وہ دراصل ایٹم کی ترتیب ہے جو مختلف شکلوں میں بدل جاتی ہے۔ ڈیمو کریٹس کی بات میں وزن تھا، حیرت کی بات یہ ہے کہ 2300سال بعد جب میری آئن اسٹائن سے برلن کے نواح میں واقع اس کے گھر میں ملاقات ہوئی تو اُس وقت تک یہ سائنس دان ڈیموکریٹس کا نظریہ درست ثابت کر چکا تھا کہ ایٹم حقیقت میں وجود رکھتے ہیں۔

جس زمانے کی میں بات کر رہا ہوں اسی زمانے میں آگے پیچھے کہیں سقراط، افلاطون اور ارسطو بھی گزرے ہیں، مگر یہ بڑے لوگ تھے، ایک دو مرتبہ میری اِن سے ملاقات ہوئی مگر بحث کی ہمت نہیں ہوئی اور بحث کرکے کرتا بھی کیا، اِن کی محفل میں تو یوں لگتا تھا جیسے کسی بات کی کوئی حقیقت ہی نہیں، حقیقت تو کہیں دوسری دنیا میں ہے اور وہاں تک ہماری رسائی ہی نہیں۔ شاید سقراط اور افلاطون کی انہی باتوں سے عاجز آ کر ارسطو نے اپنا علیحدہ اسکول کھول لیا تھا، ویسے کچھ حاسدین یہ بھی کہتے ہیں کہ چونکہ افلاطون نے اپنے اسکول کی باگ ڈور ارسطو کے حوالے نہیں کی تھی اِس لئے دل برداشتہ ہو کر اُس نے لائسیم کے نا م سے اپنی اکادمی کھول لی۔ ویسے ارسطو نسبتاً عملی فلسفی تھا اور افلاطون کے برعکس حقیقی دنیا میں رہنا پسند کرتا تھا۔ اسّی سال پہلے مشہور مغربی فلسفی کارل پوپر سے میں نے پوچھا تھا کہ آپ افلاطون کے اس قدر خلاف کیوں ہیں۔ وہ مرد دانا اُس وقت لندن کے ایک کیفے میں بیٹھا اسٹرابیری آئس کریم کھا رہا تھا، مجھے دیکھ کر اُس نے برا سا منہ بنایا کہ میں اُس کی ’عیاشی‘ میں مخل ہوا تھا لیکن بہرحال اُ س نے میرے سوال کا جواب اچھا دیا۔ اُس نے کہا کہ افلاطون استبداد ی اصولوں پر قائم معاشرے کو مثالی کہتا ہے، اِس شخص نے تو اپنے استاد سقراط کی لُٹیا ہی ڈبو دی، سقراط سچا جمہوریت پسند تھا مگر افلاطون کی نظر میں عام آدمی کے لئے تحقیر اور اہانت تھی اور شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ افلاطون کے اُس وقت کے یونان کے ڈکٹیٹر سے قریبی تعلقات تھے اِس لئے وہ آمروں کا حامی تھاگو کہ وہ چاہتا تھا کہ یہ ڈکٹیٹر فلسفی ہو۔ کارل پاپر سے میری ملاقات بہت مختصر رہی ورنہ میں اُس سے مزید بھی کچھ باتیں پوچھتا۔ کوئی بھی شخص جب کسی بڑے آدمی کی برائیاں کرتاہے تو نہ جانے کیوں مجھے بہت مزا آتا ہے۔ میں سوچ رہا ہوں کہ کسی دن 2500سال پیچھے جا کر افلاطون سے ملاقات کروں اور اُس سے اِس تنقید کے بارے میں پوچھوں۔ آج کل میری ٹائم مشین خراب ہے، جونہی ٹھیک ہوگی پہلی فرصت میں دوبارہ یونان جاؤں گا۔