اپنے تخلیقی قصائی – Irshad Bhatti

20

کئی لوگ کمال کے تخلیقی ہوتے ہیں، جیسے ایک حجام نے اپنے حمام پر لکھوا رکھا تھا، ہم دل کا بوجھ تو نہیں لیکن سرکا بوجھ ضرور ہلکا کر سکتے ہیں، بلبوں کی دکان پر لکھادیکھا، آپ کے دماغ کی بتی جلے نہ جلے مگر ہمارا بلب ضرور جلے گا، چائے والے نے اپنے ڈھابے پرلکھوایا ہواتھا، میں عام انسان ہوں مگر چائے اسپیشل بناتا ہوں، ایک ریسٹورنٹ پر لکھادیکھا، یہاں گھر جیسا کھانا نہیں ملتا، آپ اطمینان سے تشریف لائیں، پنکھوں کے اسٹور پر لکھا پڑھا، اگر آپ کاکوئی فین نہیں تو یہاں سے لے جائیں، گول گپے کے ٹھیلے پر لکھا دیکھا، گول گپے کھانے کیلئے دل بڑا ہو نہ ہو منہ بڑاہونا چاہیے، پھلوں والی ریڑھی پر لکھا تھا، آپ بس صبر کریں، پھل ہم دیں گے، بالوں کی کمپنی کا سلوگن پڑھا، ہم بھی بال بال بچاتے ہیں، اپنے ایک دوست سے تبدیلی سرکار کی کارکردگی پوچھی،کیا تخلیقی جواب دیا، کہنے لگا، اڑھائی سالہ کارکردگی ایسے ہی جیسے کوئی بادشاہ کسی بات پرخوش ہو کر گلوکار کو دوتلواریں گفٹ کرے، گلوکار ویلڈنگ کروا کر ان کا چمٹا بنوالے، یہ لطیفہ میں نے شیخو کو سنایا تو جل بھن کر بولا، تمہارے جیسا ایک باپ اپنے بیٹے سے غصے میں بولا، تمہیں پالک لینے بھیجا تھا تم ساگ لے آئے، بے وقوف تمہیں ابھی تک پالک اور ساگ میں فرق نہیں پتا چلا، تم جیسے جاہل کو تو گھر سے نکال دینا چاہیے، یہ سن کر بیٹا بولا، پھر تو ابو ہم دونوں کو گھر چھوڑنا پڑے گا،باپ حیران ہو کر، وہ کیوں، بیٹا، امی کہہ رہی تھیں تمہارا ابا جسے ساگ سمجھ رہا ہے، وہ میتھی ہے۔

ڈھائی سالہ کاکردگی، پرفارمنس پر تو سوشل میڈیا کے تخلیق کار اتنا تخلیقی کام کرچکے کہ کئی کتابوں کا مواد، ابھی پچھلے دنوں سوشل میڈیا کا کیڑا ملا، آخری بار ملا یوتھیا تھا، اس بار پٹواری پٹواری سالگا،حکومتی پرفارمنس پر بولا، اپنا چرچل بستر پر اوندھے منہ لیٹا ہواتھا، خادم خاص نے آکر کہا، حضور ملک میں بہت مہنگائی ہوگئی، گیس لوڈشیڈنگ ہورہی، ڈالر کو پر لگ گئے، بے روزگاری، غربت انتہا پر، معیشت کی حالت خراب، اپنے چرچل نے پہلو بدل کر بڑے سکون سے اپنی پھٹی ہوئی موری زدہ قمیض کی شکنیںدرست کرنے کے بعد پوچھا، کیا سوشل میڈیا پر ہماری ہر بونگی کا دفاع ہورہاہے خادم بولا، جی حضور کامیابی سے ہورہا ہے، اپنے چرچل نے کہا، پھر ہمارا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور دوبارہ آنکھیں موند لیں، خادم نے اپنے موبائل کیمرے کو زوم کرکے چرچل کی پھٹی موری زدہ قمیض کی فوٹو لی اور وہاں سے نکل پڑا، اسے سوشل میڈیا پر ڈالنے کیلئے نیا دانہ (پھٹی قمیض) مل چکا تھا، میں نے اپنے ایک بلا کے تخلیق کا ر دوست سے پوچھا،یہ دنیا زیادہ ترقی کرگئی ہے یا ہم زیادہ ماٹھے نکلے، بولا،دونوں باتیں درست ہیں، مجھے سنجیدہ دیکھ کر ہنسنے لگا، خوب ہنس کر بولا،سنجیدہ منہ نہ بنایا کرو، ہونق لگتے ہو، تمہیں سنجیدہ دیکھ کر مجھے وہ سردار یا د آتا ہے جسے نرس نے آکر بتایا، مبارک ہو سردار جی آ پکے ہاں بیٹا ہوا ہے، سردا ر بولا، میری بیوی کو نہ بتانا میں خود اسے سرپرائز دوں گا، میرا دوست پھر ہنسنے لگااور تب تک ہنستا رہا جب تک میں وہاں سے اُٹھ نہ گیا۔

پچھلے دنوں ایک نیا شادی شدہ دوست ملا، پوچھا زندگی کیسی گزر رہی، بولا، ایسی گزر رہی ہے کہ بیگم سے کہا مجھے مچھلی سے کانٹے نکال کے دیدو، اس نے کانٹے نکال کر مجھے دیدیئے اور مچھلی خود کھاگئی، میں نے کہا، سمجھ نہیں آئی، بولا، اوپر والا پورشن خالی ہو تو سمجھ کیسے آئے،میں نے حیران ہو کر کہا، بھائی ہمارے گھر کا تو اوپر والا پورشن ہی نہیں، سنگل اسٹوری گھر ہے، بولا، کہہ چکا ہوں، تمہاراقصور نہیں، یقین جانیے سمجھ نہ آئی کہ اوپر والے پورشن سے کیا مراد تھی، وہ تو بھلا ہو شیخو کا جس نے سمجھایا کہ تمہارا دوست تمہاری بے عزتی فرماگیا ہے، اسے چھوڑیں، اپنا شیخو جسکا کہنا، عشق، الیکشن اور شادی سے پہلے جو وعدے کئے جاتے ہیں انہیں ہوائی فائرنگ کہتے ہیں، جسکا ماننا بیوی اور ہیلمٹ میں ایک قدر مشترک ہے کہ دونوں کو سر پر رکھو تو جان بچی رہنے کے چانسسز زیادہ، جس کا تجربہ، گاجر کا جوس پینے سے جو طاقت ملتی ہے اس سے دگنی طاقت مشین صاف کرنے میں ضائع ہوجاتی ہے، یہ شیخو بھی ایک دن ہمیں سنجیدگی سے سوچتے دیکھ کر بولا، قبلہ تمہیں سنجیدہ اور سوچتے دیکھ کر وہ سردار یا د آجائے جس کے ہمسائے کی بھینس کے سینگ بڑے بڑے تھے، سردار جب بھی بھینس کے پاس سے گزرتا تو کھڑا ہوکر سوچتا اگر میری ٹانگیں ان سینگوں میں پھنس گئیں تو کیا ہوگا، آخر ایک دن بھینس کو بیٹھا دیکھ کر سردار نے آگے بڑھ کر اپنی دونوں ٹانگیں سینگوں میں پھنسا دیں، بھینس نے اگلے ہی لمحے اسے گھما کر دور پھینکا تو سردار کی دونوں ٹانگیں ٹوٹ گئیں، بھینس کے مالک نے جب اسپتال آکرسردار سے معذرت کی کہ میری بھینس کی وجہ سے آپ کی ٹانگیں ٹوٹ گئیں تو سردار بولا، چھوڑیں جی ٹانگوں کی خیرا ے، میری یہ ٹینشن تو ختم ہوئی اگر میری ٹانگیں سینگوں میں پھنس جائیں تو کیا ہوگا۔

میں نے شیخو سے کہا، دو باتیں، پہلی بات مجھے بالکل سمجھ نہیں آئی کہ اس سرداری لطیفے کو مجھ سے کیوں ملایا، دوسری بات جب آپ سنجیدہ ہوتے ہیں تو مجھے بھی وہ شخص یاد آئے جو زندگی میں پہلی بار دنبہ ذبح کروارہا تھا، قصائی چھریاں تیز کر رہا تھا جبکہ پاس دنبے کو لئے بیٹھا وہ شخص خود کلامی کے انداز میں بول رہا تھا، دنبے کا جگر،گردوں کی کڑاہی بناؤں گا، نرم گوشت کے کباب بناؤں گا، چربی، سری پائے اور یخنی الگ بناؤں گا، دنبے کے چمڑے کی جیکٹ بنواؤں گا اور اسکی اون شال بنانے کے کام آئے گی، قصائی چھری پکڑے اس کی طرف مڑکر بولا،بھائی جی اس دنبے کی آواز بھی ریکارڈ کر لیں، موبائل رنگ ٹون کے کام آئے گی، شیخو پہلے ہنسا پھر اچانک سنجیدہ ہوکر بولا، اس چھچھورے پن کی وجہ پوچھ سکتا ہوں، میں نے کہا، محترم یہ آپکے چھچھورے پن کا جواب ہے، ہنس کر بولا، مزا آیا، ہم خوش ہوئے، ویسے دنبے والے شیخ سے قصائی زیادہ تخلیقی نکلا، میں نے کہا اپنی 73سالہ تاریخ دیکھ لیں، دوچار کو چھوڑ کر اپنے سارے قصائی تخلیقی ہی نکلے، بلکہ اتنے تخلیقی کہ دنبے کی ہر شے استعمال کی، حتیٰ کہ آواز کی موبائل رنگ ٹون تک بنالی۔