اپنی تو قسمت ہی خراب ہے – Yasir Pirzada

31

نپولین کے بارے میں ایک واقعہ مشہور ہے کہ ایک مرتبہ کسی نوجوان کو اُس کے پاس لایا گیا، تعارف کروانے والے نے نوجوان کی بہت تعریفیں کیں اور کہا کہ یہ شخص بہت ذہین اور محنتی ہے، اِس میں قابلیت کوٹ کوٹ کر بھری ہے، جسمانی اعتبار سے بھی چوکس اور تنومند ہے، اگر نپولین اسے اپنی فوج میں شامل کر لے تو یقیناً یہ نوجوان ایک اثاثہ ثابت ہوگا۔ نپولین نے تمام باتیں غور سے سنیں اور جواب میں کہا، ’’ہو سکتا ہے کہ اِس میں یہ تمام خوبیاں ہو ں مگر بتاؤ کیا یہ شخص خوش قسمت بھی ہے؟‘‘مجھے نہیں پتا کہ وہ شخص نپولین کی فوج میں بھرتی ہوا یانہیں مگر اِس مبینہ واقعے سے یہ اندازہ ضرور ہو گیا کہ نپولین بھی کسی حد تک قسمت پر یقین رکھتا تھا۔

لکھی لکھائی قسمت کے حق میں سب سے موثر دلیل یہ دی جاتی ہے کہ ہماری آنکھوں کے سامنے بہت سے نالائق اور غبی لوگ دنیاوی اعتبار سے آگے نکل جاتے ہیں، اعلیٰ عہدوں پر فائز نظر آتے ہیں، کاروبار میں پیسہ بناتے ہیںاورپر آسائش زندگی گزارتے ہیں۔ یہ سب کچھ محض اُن کے مقدر کی بدولت ہوتا ہے۔ اگرمقدر اُ ن کاساتھ نہ دے تو وہ کامیابی کے مروجہ اصولوں کے تحت اپنی نالائقی، سستی، کاہلی اور محنت سے جی چرانے کی عادت کی وجہ سے زندگی کی دوڑ میں کبھی آگے نہ نکل پائیں۔ دوسری طرف ہم اپنے ارد گرد ایسے لوگ بھی دیکھتے ہیں جو ہم سے کہیں زیادہ ذہین، عقل مند، محنتی اور قابل ہوتے ہیں مگر وہ کسی محکمے میں بطور سینئر کلرک ریٹائر ہو کر فوت ہو جاتے ہیں، دنیا میں کوئی اُن کا نام جانتا ہے او ر نہ زندگی میں کوئی انہیں پوچھتا ہے۔ اِس پراسرا ر دنیا میں یہ دونوں قسم کی نا انصافیاں عام انسانی ذہن کے لئے چونکہ ناقابلِ فہم ہیں اِس لئے ایسی نہ سمجھ میں آنے والی باتوں کو قسمت کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ قسمت کے حق میں یہ استدلال وزن ضرور رکھتاہے مگر اِس میںکچھ سقم بھی ہے۔ منطق میں اسے ’شتابی چھلانگ‘ کہتے ہیں۔ اِس دلیل میں کچھ باتوں کو جلد بازی میں فرض کرتے ہوئے یکایک نتیجہ اخذ کر لیا گیا ہے۔ مثلاً یہاں یہ مفروضہ قائم کیا گیا ہے کہ جن لوگوں کو ہم نالائق، غبی اور نا اہل سمجھتے ہیں اُن میں کسی بھی قسم کی کوئی اور صلاحیت موجود نہیں ہوتی اور یوں اُن کا کامیابی کی کسی منزل پر پہنچنا محض قسمت کے مرہونِ منت ہے۔ اسی طرح ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ اُن ذہین اور محنتی لوگوں نے، جنہیں ہم بظاہر زندگی میں ناکام دیکھتے ہیں، اپنی ذہانت اور محنت کا درست استعمال کیا یا نہیں، ہمارے پاس اسے ماپنے کا کوئی پیمانہ نہیں ہوتا، ہم فقط سرسری اندازے سے نتیجہ اخذ کر لیتے ہیں۔اِس دلیل میں ایک اور سقم یہ ہے کہ لوگ زندگیوں کا باہم موازنہ کرتے وقت لا شعوری طور پر اپنے بدترین لمحے کا تقابل دوسرے شخص کی ظاہری چکا چوند سے کربیٹھتے ہیں، ایسا کرتے وقت وہ یہ فراموش کر دیتے ہیں کہ اُن کی اپنی زندگی کا تقابل کسی دوسرے سے اُس وقت تک نہیں ہو سکتاجب تک انہیں دوسرے شخص کی زندگی کے بارے میں مکمل معلومات نہ ہوں۔ ادھوری معلومات کی بنیادپر کیے جانے والے موازنے کا نتیجہ بھی ادھورا اور ناقابلِ فہم نکلتا ہے، اِس لئے اسے قسمت سے جوڑ کر قابل فہم بنانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔

یہ کہانی بھی سننے کو ملتی ہے کہ کامیابی کے تمام مرجہ اصول اپنانے کے باوجود بھی فلاں شخص کامیاب نہیں ہو پایا پس ثابت ہوا کہ وہ بد قسمت ہے ۔مگر اِس نتیجے پر پہنچنے سے پہلے یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اکثر و بیشتر لوگ مکمل اور درست بات نہیں بتاتے اور اپنی زندگی کی صرف وہ تصویر دکھاتے ہیں جو بے داغ ہوتی ہے ۔اپنی ذات کے بارے میں دیانتدارانہ رائے دینا کوئی آسان کام نہیں لہٰذا اِس بات کا امکان بہت کم ہے کہ کوئی شخص ذہین ،محنتی ،قابل اور عقل مند ہو، مکمل منصوبہ بندی کے تحت زندگی کا مقصد حاصل کرنے کی کوشش بھی کرے مگر اس کے باوجود مسلسل ناکامی کا منہ دیکھے۔ دنیا میں ہر شخص کا زندگی کے بارے میں مختلف تجر بہ ہوتاہے، سو، یقیناً ایسے لوگ بھی ہوں گے جنہوں نے کامیابی کا ہر کلیہ آزما کر دیکھا ہوگا مگر نصیب نہیں جاگے ہوں گے مگر یہ استثنیٰ کہلاتا ہے جسے اصول نہیں بنایا جا سکتا۔ بعض اوقات عقل مند لوگوں سے بھی زندگی کے کچھ بنیادی فیصلے غلط ہو جاتے ہیں جن کی قیمت چکانی پڑتی ہے مگر کوئی بھی شخص جان بوجھ کر غلط فیصلہ نہیں کرتا، حالات کا جبر، وسائل، ماحول اور دیگر بےشمار عوامل مل کر کسی مخصوص وقت میں اثر انداز ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں انسان فیصلہ کرتا ہے، یہ فیصلہ درست بھی ہو سکتا ہے اور غلط بھی۔ درست فیصلوں کے نتیجے میں حاصل ہونے والے ثمرا ت خوش قسمتی کی ٹوکری میں رکھ دیے جاتے ہیں جبکہ غلط فیصلوں کے نتیجے میں ملنے والا گلا سڑا پھل بد قسمتی کے کوڑے دان میں پھینک دیا جاتا ہے۔

قسمت کا معمہ دو جمع دو چار کے طریقے سے حل نہیں کیا جا سکتا، یہ بات بہرحال ماننی پڑ ے گی کہ مقدر ہماری زندگیوں میں کچھ نہ کچھ کردار ضرور ادا کرتا ہے، اسے محض دنیاوی کامیابی کے اصولو ں کی بنیاد پر رد نہیں جا سکتا۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ کائنات کے بہت سے اسرار ہم سے پوشیدہ ہیں، یہ کائنات ہماری خواہشات اور ہماری کامیابی کے بنائے ہوئے معیارات اور اصولوں پر نہیں چلتی، اِس کے آفاقی مکینزم کو کلیتاً سمجھنا تا حال انسان کے لئے نا ممکن ہے۔ ’لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام ،آفاق کی اِس کارگہ شیشہ گری کا‘۔ اِن حالات میں جو لوگ خود کو بدقسمت سمجھتے ہیں وہ صرف ایک کام کریں اور و ہ یہ کہ اپنی ذات کا بےرحم احتساب کریں اوراِس بات کا تعین کریں کہ زندگی میں اُن سے کہاں غلطی ہوئی۔ اگر اِس غلطی کو درست کرنا ممکن ہو تو اسے درست کرنے کی سبیل کریں اور اگر ایسا کرنا اب ممکن نہیں رہا تو اس کے نتائج قبول کریں اور آئندہ اسے دہرانے سے باز رہیں۔ بے شک بد قسمتی کا کوئی علاج نہیں مگر یہ نزلہ، زکام بھی نہیں کہ ہر کوئی اِس کی شکایت کرکے کہتا پھرے کہ اپنی تو قسمت ہی خراب ہے!