’آدھے گنجم ،آدھے بالم‘ – Yasir Pirzada

22

امریکی ٹی و ی پر بچوں کے لیے ایک پتلی تماشا چلا کرتا تھا ’’سیسمی اسٹریٹ‘‘۔ یہ پروگرام ساٹھ/ ستّر کی دہائی میں بے حد مقبول ہوا اور اِس کی وجہ وہ پتلی کردار تھے جو بچوںکو بہت پسند آئے تھے۔ خاص طور سے ایک بطخ، بگ برڈ، کا کردار جو اپنے جثے کی وجہ سے بہت مخولیہ لگتی تھی ۔ سیسمی اسٹریٹ کے مرکزی خیال اور کرداروں کو پاکستان میں شعیب ہاشمی نے اچک لیا اور اُس سے ملتی جلتی بطخ بنا کر یہاں پروگرام شروع کر دیا ۔ پی ٹی وی کے ایم ڈی اسلم اظہر کی خواہش تھی کہ کسی طرح سیسمی اسٹریٹ کے نشریاتی حقوق حاصل کرکے اسے پاکستان میں چلایا جائے (شایدبہت بعد میں یہ پروگرا م پاکستان میں چلا ) مگر اُس وقت شعیب ہاشمی وغیرہ کی وجہ سے یہ اُن کی یہ خواہش پور ی نہ ہو سکی، وجہ صاف تھی کہ اگر اصلی بطخ آجاتی تو اُن کی بطخ کہاں جا تی ! ’’کلیاں ‘‘ کے خالق فاروق قیصر کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے جو پتلی تماشا شروع کیا اُس کے تمام کردار اصلی، دیسی اور مقامی تھے ، اُن میں کوئی ملاوٹ نہیں تھی اور اُن کے مکالمے عام آدمی کے دل کی آواز تھے ۔اِس لحاظ سے دیکھا جائے تو فاروق قیصر ایک رجحان ساز تخلیق کار تھے جنہوں نے پاکستان میں پتلی تماشے کا آغاز کیا ۔کہنے کو تو یہ بچوں کا پروگرام تھا مگر بڑے بھی اسے شوق سے دیکھتے تھے ، فاروق قیصر نہ صرف اِس کے مصنف تھے بلکہ وہ انکل سرگم کے کردار میں خود پرفارم بھی کرتے تھے ۔

عام طور سے دیکھاگیا ہے کہ کسی شاعر کی کوئی غزل مشہور ہو جائے تو وہ ہمیشہ کے لیے ہِٹ ہو جاتا ہے ، اسی طرح اگر کسی اداکار کوکوئی اچھا کردار نصیب ہو جائے تو اُ س کے وارے نیارے ہو جاتے ہیں ۔ فاروق قیصر شاید وہ منفرد مصنف تھے جن کے تخلیق کردہ ایک سے زائد کردار آ ج بھی لوگوں کے ذہنوں میں محفوظ ہیں ۔ انکل سرگم ، ماسی مصیبتے، بونگا بخیل (چلو فیر سانوں کی)،مسٹر ہے گا،نونی (کر لو جو کرنا ہے )،ماما زیر غور اوررولا جیسے کردار فاروق قیصر کے قلم سے نکلےاور زبان زدِ عام ہو گئے۔ انکل سرگم کے علاوہ جو پُتلا مجھے بے حد پسند تھا وہ بونگے بخیل کا تھا ، اِس کردار میں ایک غریب ، مسکین اور عام آدمی کی بیچارگی جھلکتی تھی ۔ ایک پروگرام میں انکل سرگم عام آدمی کی تعریف بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’ عام آدمی وہ ہوتا ہے جو نہ کچھ کھاتا ہے نہ پہنتا ہے،نہ وہ سفر کرتا ہے نہ ہی کہیں آتا جاتا ہے ، اِس کے علاوہ اُس کے کرائے کے گھر میں بجلی نہیں ہوتی، گیس کا چولہا نہیں ہوتا ، اُس کی بیوی نہیں ہوتی اُس کے بچے نہیں ہوتے، چونکہ اُس کے پاس کچھ بھی نہیں ہوتا لہٰذا وہ ایک عام آدمی ہو گیا،اِس لیے بجٹ کا اُس پہ کوئی اثر نہیں پڑتا۔‘بونگے بخیل کا کردار ایسا ہی تھا۔ بونگے کے دو شعر ملاحظہ ہوں ’میرے پیارے ﷲ میاں یہ کیسا انصاف ہے ، میرے گھر میں لوڈ شیڈنگ اور اُس کو بِل بھی معاف ہے۔ میرے ننھے بچے تو پسینے میں نہاتے ہیں ، اُس کے بچے گرمی میں انگلینڈ چلے جاتے ہیں ۔‘‘ کلیاں کے مشاعرے میں جب انکل سرگم کو دعوت کلام دی جاتی تو القابات کی ایک فہرست یوں گنوائی جاتی کہ ’اب تشریف لاتے ہیں ، آدھے گنجم آدھے بالم، آدھے برہم آدھے سالم ، جناب سرگم۔‘اسی طرح انکل سرگم جب اپنے اسسٹنٹ رولے کو ڈانٹ پلاتے تو اسے ’بد تمیز ، سمال کرکری چھوٹا بھانڈا ، کوارٹر پلیٹ ‘ کہتے اورکسی کی کم علمی پر طنز کرنا ہوتا تو اسے ’اردو میڈیم ‘ کہہ کر مخاطب کرتے۔ یہ طنز دراصل اُس ذہنیت پر تھا جس کے تحت ہمارے ملک میں انگریزی بولنے والی کلاس سرکاری اسکولوں میں پڑھنے والے غریب بچوں کو اپنے سے کمتر سمجھتی تھی (ہے )۔

فاروق قیصر اپنی دھرتی سے جڑے ہوئے آدمی تھے ، ایک عام پاکستانی کا مقدمہ جس طرح انہوں نے اپنے پروگراموں میں لڑا وہ قابل تحسین ہے ۔یہ بات بھی عجیب ہے کہ اردو میں مزاح لکھنے کے باوجود اردو بولنے والے ایک مخصوص طبقے نے اُس وقت اُن کی مخالفت کی جب کلیاں کا کردار مسٹر ہے گا مقبول ہوا۔ اُن کا خیال تھا کہ یہ کردا ر اردو بولنے والوں کا مذاق اڑانے کے لیے بنایا گیا ہے سو فاروق قیصر کے خلاف پی ٹی وی کو شکایات بھی کی گئیں مگر فاروق قیصر نے متانت سے اِس مخالفت کا سامنا کیا اور اِس تنقید کو بے بنیاد قرار دیا ۔ وقت نے ثابت کیا کہ یہ تنقید درست نہیں تھی۔ہمارے ہاں فنکار، اداکار اور بعض کھلاڑی اکثر یہ شکایت کرتے بھی نظر آتے ہیں کہ پاکستان میں اُن کی قدر نہیں کی گئی ، کبھی کبھار فنکاروں کی کسمپرسی کی خبریں بھی ٹی وی پر چلائی جاتی ہیں جن میں دکھایا جاتا ہے کہ فلاں فنکار یا لکھاری بیماری کا شکار ہو کر بستر مرگ پر پڑا ہے اور اُس کا کوئی پرسان حال نہیں ، حکومت داد رسی نہیں کرتی ، امریکہ میں ہوتا تو کروڑوں میں کھیلتا ، یہاں کوڑی کوڑی کا محتاج ہے ۔دو اڑھائی سال پہلے مشہور ڈرامہ نگار اور افسانہ نگار ڈاکٹر انور سجاد کی ویڈیو دیکھی جس میں وہ حکومت سے امداد کی اپیل کرتے نظر آئے ۔ اسی طر ح مہد ی حسن خان کے بیٹو ں نے انہیں کراچی سٹیڈیم میں وہیل چیئر پر بٹھا کر لوگوں سے امداد مانگی۔ما جد جہانگیر نے اپنی گاڑی پر پوسڑ لگایا کہ میں ففٹی ففٹی کا مشہور اداکار ہوں میری مدد کیجیے۔ ﷲ سے ہمیشہ رحم کی دعا کرنی چاہیے ، اِن میں سے کوئی بھی شخص غریب نہیں تھا، اپنے کیرئیر کے عروج پر یہ لوگ لاکھوں میں کھیلتے تھے،اُس وقت انہو ں نے اگر سمجھداری دکھائی ہوتی اور جمع پونجی سے کہیں سرمایہ کاری کی ہوتی تو کبھی امداد مانگنے کی نوبت نہ آتی ۔مانگنے کا پیسے کی تنگی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، کوئی خود دار آدمی یہ کام نہیں کرتا۔ فاروق قیصر بھی فنکار تھے ، لکھنا اُن کا اوڑھنا بچھونا تھا ، وہ بھی اسی ملک میں فوت ہوئے مگر انہوں نے تو یہ گلہ نہیں کیا کہ اُن کی پذیرا ئی نہیں کی گئی یا اُن کے مرتبے کے مطابق پیسے نہیں ملے۔انسان کوہر حال میں اپنے وقار کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے ۔ فارق قیصر وقار کے ساتھ جیے ۔ Farooq Qaiser is dead, long live Uncle Sargam.