آدم خور نظام – Hassan Nisar

13

مجھے کبھی اس بھیانک حقیقت پر شک نہیں رہا اسی لئے 25سال پہلے اشرافیہ کو بدمعاشیہ لکھنا شروع کیا،اس نظام کو آدم خور کہتا رہا، اس نام نہاد جمہوریت کو جگاڑ قرار دیتا رہا جو جمہور کا خون پی گئی، گوشت کھاگئی، ہڈیاں چبا گئی، مدتوں پہلے بار بار یہ رونا بھی رویا کہ اس ملک کی اشرافیہ تو اپنے ہم وطنوں کے ساتھ ویسا سلوک کرنے کی روادار بھی نہیں جیسا سلوک بھلے لوگ اپنے پالتو جانوروں اور پرندوں کے ساتھ کرتے ہیں کیونکہ ان کا ’’روٹی، کپڑا، مکان‘‘ یقینی بناتے ہیں۔ کتے رکھے ہوں تو گوشت کھلاتے ہیں، گھوڑے رکھے ہوں تو ان کو اچھی خوراک پیش کرتے اور پرندے رکھے ہوں تو انہیں دانہ دنکا پیش کرتے ہیں، دن میں تین بار پانی تبدیل کرتے ہیں، ان کے کھڈوں کو صاف رکھتے ہیں تاکہ بیماریوں سے محفوظ رہیں۔جانور پرندہ تھوڑا سا بھی مضمحل دکھائی دے تو فوراً ڈنگر ڈاکٹر سے رجوع کرتے ہیں لیکن یہ اشرافیہ؟

یہ محاورہ بھی متعدد بار لکھا کہ قدرت نے ہر انسان کی ضرورتوں کیلئے کافی کچھ مہیا کر رکھا ہے لیکن لالچی انسانوں کیلئے یہ پوری دنیا بھی کافی نہیں اور ان کے پیٹ صرف قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے ۔کئی بار اس لفظ ’’معاشرہ‘‘ کی طرف بھی متوجہ کیا کہ یہ ’’معاشی‘‘ سے نکلا ہے اور صرف منصفانہ معاشی تقسیم ہی صحت مند معاشرہ کو جنم دے سکتی ہے لیکن ؟

ابھی دو روز قبل اک عالمی ادارہ (UNDP) نے عالمی چوراہا پر پاکستان کے اقتصادی نظام کی ’’سترپوشی‘‘ کرتے ہوئے، اسے ’’خلعت فاخرہ‘‘ پہناتے ہوئے یہ اعلان کیا ہے کہ ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس کے حوالہ سے جنوبی ایشیا میں صرف افغانستان ہی پاکستان سے بدتر حالت میں ہے۔

مجھے اس واردات پر کبھی کوئی شک شبہ نہ تھا لیکن اب تو ایک غیر ملکی نیوٹرل گواہی بھی آ گئی ہے جن کے اعدادو شمار بہت سوچے سمجھے ہوتے ہیں حالانکہ اتنی دور جانے کی ضرورت نہیں ۔پاکستان کی بھاری ترین اکثریت کے بجھے ہوئے چہروں، ویران آنکھوں کو دیکھنا ہی کافی ہو گا۔محدود، مفرور اور مردود اقلیت نے کروڑوں اچھے بھلے انسانوں کو SUB MEN اور MANIMALS میں تبدیل کر دیا اور یہی ہماری 73سالہ کل کمائی ہے اور یہ جو پھٹکار پڑی ہے اور ہر طرف نحوست چھائی ہے تو ہمیں اس کی وجہ بھی جان لینی چاہئے اور اکلوتی وجہ یہ ہے کہ ہم دن رات جن پر صدقے واری جاتے ہیں، جن کی حرمت پہ جان دینے کو بھی تیار رہتے ہیں، ان کی تعلیمات، ہدایات، فرمودات بہت آسانی سے بھول جاتے ہیں ۔

فرمایا ’’جب کچھ لوگوں کے پاس ضرورتوں سے بہت زیادہ مال جمع ہو جائے تو سمجھ لو بیشمار لوگ بنیادی ضرورتوں سے بھی محروم ہو چکے ‘‘(مفہوم)

یہ ہے عالمی اقتصادی نظام کا نچوڑ کہ باقی سب نیکٹن کیلیٹز ہیں جنہیں دیکھنا پالیسی سازوں اور گلوری فائیڈ کلرکوں کا کام ہے لیکن یہ سب منافق تو خود اس استحصالی نظام کے دلال یا بھائی وال ہیں تو اس لق ودق صحرا میں بھٹکتی بھیڑبکریوں کی کون سنے گا؟

پاکستان کا اقتصادی نظام ملکی وسائل کو ایک جیب سے دوسری جیب میں شفٹ کرنے کا نام ہے …..اس کے سوا کچھ بھی نہیں ورنہ اک عالمی ادارہ اس اقتصادی نظام کو سرعام بھگو بھگو کر چھترنہ مارتا۔

قارئین!

میں آپ کو اعدادوشمار پڑھا کر بور نہیں کرنا چاہتا اور یوں بھی گزرے کل 15 اپریل کے ’’جنگ‘‘ میں برادر محترم انصار عباسی تفصیل کے ساتھ اس موضوع سے انصاف کر چکے ہیں۔ انصار کا عنوان ہی کافی ہے ’’اشرافیہ پاکستان کو کھاگئی‘‘ جس کا سلیس ترجمہ کچھ یوں ہوگا ’’اشرافیہ پاکستانیوں کو کھاگئی‘‘

سونے پہ سہاگہ عطر میں بھیگے کالم لکھنے والا محبی عطاالحق قاسمی ……وہ کیسی قیامت ہو گی جو عطا کے دل دماغ پر گزری ہو گی جس کے نتیجہ میں ’’دوپاکستان‘‘ کے عنوان سے جھنجھوڑ دینے والا کالم معرض وجود میں آیا لیکن جھنجھوڑا تو زندوں کو جاتا ہے لیکن یہاں تو سکوت مرگ طاری ہے۔عطا!وہ کتاب کہاں سے ملے گی؟

میرا بس چلے تو عطا اور عباسی کے کالم تعویذ بنا کر ہر پاکستانی کے گلے میں ڈال دوں اور عرض کروں کہ لوگو! اگر تمہیں کبھی جاگنا نصیب ہو تو ان تحریروں کو پڑھنا مت بھولنا، شاید تمہاری تقدیریں بدل جائیں