اور کیا کہوں – Irshad Bhatti

25

آخر وہی ہوا جس کا مجھے ڈر تھا، نیب زدہ بزرگ نے چلتے چلتے اچانک اپنی رفتار تیز کی، وہ تیز تیز چلتے ہوئے میرے قریب آئے، مجھ پر ایک طنز بھری مسکراہٹ پھینکی، بولے ’’ صاف چلی شفاف چلی تبدیلی سرکار کا رنگ روڈ اسکینڈل مبارک ہو‘‘ایک میں ٹاک نہیں واک کے موڈ میں تھا، دوسرا میری بزرگوار سے گپ شپ نہ فرینکنس، ان کا یوں مخاطب ہونا، طنزیہ مسکراہٹ عجیب سا لگا لیکن میں نے سب کچھ نظرانداز کرتے ہوئے یہ کہہ کر کہ ’’آپ کو بھی مبارک ہو‘‘ ان کی ایک طرف سے گزرنے کی کوشش کی مگر بزرگوار مجھے ہاتھ سے رکنے کا اشارہ کرتے ہوئے بولے ’’ کمال نہیں ہوگیا، اِٹ پٹو تھلوں کپتان دا ڈونر، اِٹ پٹو تھلوں کپتان دا چہیتا، اِٹ پٹو تھلوں کپتان دی اے ٹی ایم‘‘ میں نے بزرگوار کی باٹ کاٹتے ہوئے نرم لجے میں کہا ’’سرواک کرلیں، یہ باتیں پھر سہی‘‘، بزرگوار نے ہنس کر کہا ’’میں نے واک کرلی،آپ کے صرف 5منٹ لوں گا، بعد میں واک کر لینا‘‘ یہ کہہ کر بزرگوارنے اپنی عینک اتاری، جیب سے ٹشو نکال کر عینک کے شیشے صاف کئے، عینک پہنی پھر بولے ’’کیسا لگتا ہے حکومت کا بیک وقت نااہل، نالائق اور کرپٹ ہونا‘‘میں نے کہا’’سر دوچار حکومتوں کو چھوڑ کر ہمیں تو نااہل، نالائق اور کرپٹ ہی ملے، یہاں کون جو اہل اور ایماندار، اقلیت کو نکال کر یہاں وہی ایماندار جسے کرپشن کا موقع نہ ملا یا جس کا داؤ نہ لگا‘‘۔بزرگوار نے میری بات کاٹی ’’مگر کپتان کی ٹیم سے اس نااہلی اور کرپشن کی توقع نہیں تھی‘‘میں نے کہا ’’مگر کپتان کو یہ کریڈٹ تو دیں کہ ادویات، آٹا گندم، چینی، پٹرول، نجی بجلی گھر ڈاکے اور رنگ روڈ سب انکوائریاں کروائیں، ساری رپورٹیں پبلک کیں ‘‘، بزرگوار نے قہقہہ مارا،میںنے کہا’’ سر اس میں ہنسنے کی کیا بات ہے ؟‘‘ بولے ’’ انکوائریاں کروائیں، رپورٹیں پبلک کیں مگر کسی ایک گناہ گار کو بھی سزا نہ ملی‘‘، میں نے کہا ’’بلاشبہ ان اسکینڈلز میں کسی کو ابھی تک سزا نہیں ہوئی مگرجن اسکینڈلز میں کچھ کو سزائیں ہوئیں، ان کا کیا ہوا،سب باہر، موجیں کر رہے، سر یہ طاقتور وں کا ملک‘‘، میری بات مکمل ہوئی تو زیر لب مسکراتے بزرگوار بولے، آخری سوال، ’’آپ کے خیال میں رنگ روڈ اسکینڈل کا کیا بنے گا؟ ‘‘میں نے کہا ’’ کچھ نہیں بنے گا، جیسے پچھلے کسی اسکینڈل کا کچھ نہیں بنا، اس کا بھی کچھ نہیں بنے گا، یہ چند ہفتوں کا شور پھر کوئی اگلا اسکینڈل آجائے گا اور ہم سب اس کے پیچھے لگ جائیں گے ‘‘، میری بات مکمل ہوئی، بزرگوار نے اجازت لی اور میں نے دوبارہ واک شروع کردی، ارے ہاں میں یہ تو بتانا بھول گیا، یہ پچھلی جمعرات کی شام اور اسلام آباد کے ایک گراؤنڈ کا قصہ، میں واک کرنے آیا، یہ بیوروکریٹ بزرگ جو ان دنوں خود بھی نیب بھگت رہے پہلے سے وہاں موجود، یہ کچھ دیر میر ے ساتھ چلتے کن اکھیوں سے مجھے دیکھتے رہے پھر انہوں نے آگے بڑھ کریہ ’کارروائی ‘ڈال دی، اب وہ تو اپنی واک مکمل کر کے چلے گئے مگر میری واک کا کچومر نکال گئے کیونکہ اب میں چل رہا تھا اور ساتھ ساتھ میرے ذہن کے پردہ اسکرین پر رنگ روڈ کی فلم بھی چل رہی تھی ۔کیا ملک، کیا نظام، کیسے ہم لوگ، یہ رنگ روڈ 1997کامنصوبہ، تب اس کی لاگت تھی 10ارب، اب 70ارب کا ہو چکا، گزرے 25سالوں میں مختلف حکومتوں نے 8مرتبہ اسے بنانے کی کوشش کی مگر بیل منڈے نہ چڑھ سکی، 2017میں وزیراعلیٰ شہباز شریف کی اس پر نظر پڑی، انہوںنے بینک آف چائنا کے سامنے یہ منصوبہ رکھا، بینک آف چائنانے اس کیلئے دوفیصد سود پر 400ملین ڈالرقرضہ اوکے کردیا، اس دوران 2018الیکشن آگئے، یہ منصوبہ ایک بار پھر دھرے کا دھرا رہ گیا، تحریک انصاف حکومت بنی، حکومت کی اس پر نظر پڑی، وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں میٹنگ ہوئی، بیوروکریسی نے تجویز دی، قرضہ لے کر رنگ روڈ بنانے کی بجائے اسے پرائیویٹ یا پبلک پارٹنر شپ میں بنایا جائے، تجویز اچھی تھی، وزیراعظم نے منظوری دی، راولپنڈی ضلعی انتظامیہ کو فنڈز ملے اس پر کام شروع ہوا اور یہیں سے دونمبریوں بھری کہانی شروع ہوئی، یہ رنگ روڈجو 36کلومیٹر کی تھی، 40کی ہوئی اور پھر 65کلومیٹر تک جاپہنچی، نقشہ تبدیل ہوا، رنگ روڈ کا روٹ بدلا، اٹک لوپ، پسوال لوپ شامل ہوئے، رنگ روڈ زگ زیگ ہوئی، سیاستدان، بیوروکریٹ، ریٹائرڈ افسر،بلڈرز، ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا گٹھ جوڑ ہوا، ہر طاقتور نے اپنی مرضی سے رنگ روڈ کو اپنی زمینوں سے گزارا، دھڑا دھڑ زمینیں خریدی گئیں، دھڑا دھڑ زمینیں فروخت ہوئیں، پھرایک شام وزیراعظم کے دو دوستوں نے رنگ روڈ گھپلوں کے بارے میں وزیراعظم کوآگاہ گیا، 5روز بعد ان دوستوں نے وزیراعظم کے کہنے پر چند اکاؤنٹس نمبرز، چند فون نمبر، چار سرکاری افسروں اور دس ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے نام وزیراعظم کو دیئے، وزیراعظم نے تحقیقات کروائیں، نہ صرف سب الزامات سچ نکلے بلکہ ہوش ربا تفصیلات سامنے آئیں، وزیراعظم نے کمشنر راولپنڈی کیپٹن (ر) محمد محمود کو بلایا، ان سے پوچھا، کیا رنگ روڈ کا روٹ بدلنے، اٹک لوپ شامل کرنے کیلئے میرا کوئی وزیر،مشیر، کوئی طاقتوراثر انداز ہوا، یہ مکر گئے اور عمران خان جنہیں سب پتا چل چکا تھا،یہ جھوٹ سنتے ہی بگڑ گئے اور پھر اس کے بعد کیا ہوا، یہ سب کے سامنے ۔

رنگ روڈ نوا ہاؤسنگ سوسائٹی، وفاقی وزیر غلام سرور کے بیٹے کا نام آچکا، غلام سرور انکار کر چکے، نواسٹی کو سول ایوی ایشن نے این او سی کیوں، کیسے دیا؟،یہ معمہ بھی حل طلب، سول ایوی ایشن غلام سرور کے ماتحت، سنا جارہا نوا ہاؤسنگ سوسائٹی نے مبینہ طور پرجعلی پلاٹو ں کی 20سے 30ہزار جعلی فائلیں بیچیں، زلفی بخاری سے استعفیٰ لیا جاچکا، ان کا نہ صرف رنگ روڈ کے حوالے سے بلکہ اور معاملات میں بھی بہت کچھ سامنے آرہا، راولپنڈی ضلعی انتظامیہ کو عہدوں سے ہٹایا جاچکا، اب رنگ روڈ معاملہ نیب اور اینٹی کرپشن کے پاس، ابھی تحقیقات کا ابتدائی مرحلہ، ابھی بہت کچھ سامنے آنا باقی، اینٹی کرپشن کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق 131ارب زمین کی خرید فروخت ہوئی، وزراء سمیت 50طاقتوروں نے فائدہ اٹھایا، 64ہزارکنال سے زائد زمین کاروباری افراد نے خریدی، 18ارکان اسمبلی کی سترہ ہزار ایک سو سترہ کنال زمین رنگ روڈ سے جڑی ہوئی، پیپلز پارٹی کے دوایم این ایز کی 24سو کنال، تحریک انصاف کے 2ایم این ایز، 4ایم پی ایز کی 18سو کنال، ن لیگ کے سینیٹرز اور 2ایم این ایز کی 6ہز ار کنال، اٹک لوپ کے اِردگرد 18ہاؤسنگ سوسائٹیوں نے 13ہزار کنال زمین خرید، بیچ کر دنوں میں 11ارب کا منافع کمایا، رنگ روڈ کی آڑمیں راولپنڈی کے گردونواح میں 10سوسائٹیوں اور بیسیوں افراد نے 24ہزار پانچ سوکنال زمین کی خریدوفروخت سے 50ارب کا کاروبار کیا، اسلام آباد کے گردونواح میں رنگ روڈ کا نام استعمال کرکے 8ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور کاروباری افراد نے 10ہزار کنال زمین کی خریدوفروخت سے 35ارب کا کاروبارکیا، اینٹی کرپشن کی تحقیقات سے یہ بھی پتا چلا کہ 60فیصد ہاؤسنگ سوسائٹیاں غیر قانونی، 17ہاؤسنگ سوسائٹیاں ایک ارب 70کروڑ کی نادہندہ، ان سوسائٹیوں کیخلاف300سے زائد کیس، نیب اور مختلف عدالتوں میں چل رہے، دکھ کی بات، جہاں سیاستدان، بیوروکریٹس، مختلف محکموں کے ریٹائر افسر،بلڈرز، ہاؤسنگ سوسائٹیاں سب نے مل کر لوٹا، وہاں عوام لٹ گئی، سینکڑوں غریبوں کے پلاٹ ہوا میں، صرف کاغذوں میں، ڈبل دکھ کی بات، ایک با رپھر ثابت ہوا کہ ہم ایک کرپٹ قوم اور کیا کہوں ۔