انصاف، قانون، عدالت – Hassan Nisar

24

ہمارا سیاستدان بات کرنے سے پہلے کم ہی سوچتا ہے ورنہ کون اس طرح کی ہانکتا ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن نسبتاً بہتر اور میچور آدمی ہیں لیکن کچھ عرصہ سے ان کی باتوں اور بیانوں میں بھی بے تکا پن اور کھوکھلا پن بتدریج بڑھتا جا رہا ہے مثلاً تازہ ترین یہ بیان تو بچپنے کی انتہا ہے کہ ’’عمران خان نے امریکہ کو اڈے نہ دینے کا فیصلہ ہمارے دبائو پر کیا۔‘‘ دنیا جانتی ہے کہ مولانا مع مریم و ہمنوا کیا اور ان کا دبائو کیا؟ PDM چلتی پھرتی ’’جگت‘‘ یا لطیفے کے سوا ہے کیا؟ لیکن کیونکہ عمران خان کے اس سٹانس کو پذیرائی مل رہی ہے اس لئے ہوائی چھوڑنا ضروری تھا ورنہ مولانا بھی جانتے ہیں کہ دنیا بھر کا دبائو بھی کسی کو سپرپاور کی ناک میں انگلی گھسیڑنے پر مجبور نہیں کر سکتا اور سپر پاور بھی امریکہ جیسی جس کے بارے میں بھٹو جیسے سیاسی جینئس نے اپنے آخری دنوں میں راجا بازار پنڈی کے دورے میں خط لہراتے ہوئے سرعام یہ کہا تھا کہ ’’ہاتھی میرے خون کا پیاسا ہو رہا ہے۔ ہاتھی کی یادداشت بہت تیز ہوتی ہے‘‘ وغیرہ وغیرہ اور پھر کون نہیں جانتا کہ بھٹو کو کیسے انجام کا سامنا کرنا پڑا۔ ’’چہ پدی چہ پدی یا چند پدیوں کا شوربہ‘‘ تو اس دوٹوک فیصلہ کن بیان کے پیچھے کسی کا دبائو نہیں۔ خود عمران اور اس کا مزاج ہے کہ وہ بہت سے کام انجام کی پروا کئے بغیر کر گزرنے کا عادی ہے ورنہ زرداریوں اور شریفوں کی مکمل سیاسی اجارہ داری کی موجودگی میں PTI لانچ کر کے 22سال اس کیلئے ڈٹ کے کھڑا رہتا؟

دوسری بات یہ کہ مولانا اینڈ کمپنی یا مولانا اور ہمنوا کا دبائو اتنا ہی شدید ہے تو عوام کے وسیع تر مفاد میں اسے باقی ایریاز میں بھی استعمال کیوں نہیں کرتے جو نسبتاً بہت آسان ہے سو مولانا پلیز! مٹھ رکھیں اور آئوٹ آف دی وے جا کر اپنی بھد نہ اڑوائیں اور اگر کوئی ماڑا موٹا بھرم رہ گیا ہے تو اسے باقی رہنے دیں۔ آگے مولانا کی مرضی۔

معذرت خواہ ہوں کہ تقریباً آدھا کالم تو مولانا کھا گئے۔ لکھنا میں نے اک اور موضوع پر تھا لیکن حضرت صاحب کا بیان دیکھ کر رہا نہیں گیا۔ میرا اصل موضوع تھا ’’انصاف اور قانون‘‘۔ ’’میرے مطابق ‘‘ میں ہم اکثر ایک آدھ اکیڈیمک قسم کا سوال ضرور شامل کیا کرتے تھے لیکن پھر نجانے کیوں سیاست کی نجاست مکمل طور پر غالب آ گئی جسے پچھلے پروگرام سے دوبارہ شامل کر لیا گیا ہے۔ ہماری میزبان مریم ظفر نے پوچھا

’’انسانی معاشرہ میں انصاف اور قانون کا کیا مقام اور کردار ہے؟‘‘

ہم جیسے معاشروں کیلئے یہ ایک کلیدی سوال ہے کیونکہ جانوروں اور انسانوں کی دنیا میں بنیادی فرق ہی انصاف اور قانون کا ہونا نہ ہونا ہے۔ جہاں انصاف، قانون اور عدالت نہیں وہ انسانی معاشرہ ہو ہی نہیں سکتا اور اس سلسلہ میں اہم ترین اور خطرناک ترین حقیقت یہ ہے کہ جن معاشروں میں انصاف اور قانون نہیں ہوتا ان معاشروں کو آخرکار ﷲ کے قانون اور انصاف کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس میں ﷲ کا قہر بھی شامل ہوتا ہے جس کے نتیجہ میں ایسے معاشرے نہ زندوں میں ہوتے ہیں نہ مُردوں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ رسوائی، پسپائی، جگ ہنسائی ان کا مقدر کر دی جاتی ہے۔

دوسری طرف ہر وہ انسانی معاشرہ بدنام اور ناکام قرار پاتا ہے جہاں طاقت ور کو PROTECT اور کمزور کو PUNISH کیا جاتا ہو، خواہ یہ درندگی ’’مہنگے وکیل‘‘ کی صورت میں ہی موجود کیوں نہ ہو۔ قانونِ قدرت یہ ہے کہ جہاں انصاف اور قانون کی حکمرانی نہ ہو گی وہاں اقدار کا قتل عام ہو گا اور صرف ایک قدر۔۔۔ صرف ایک ’’ویلیو‘‘ ہی باقی رہ جائے گی جسے ’’نیو سنس ویلیو‘‘ کہتے ہیں۔ ایسے بدنصیب معاشروں میں قانون پاس ہی اس لئے ہوتے ہیں کہ انہیں ’’بائی پاس‘‘ کیا جا سکے اور اس کا لائسنس صرف طاقتوروں کے پاس ہوتا ہے لیکن ہمیں یہ بھی یاد رکھنا ہو گا کہ انسانی قانون اور انصاف کی ایک حد ہے کیونکہ دنیا کا کوئی قانون بھی احمق کو حماقت، بونگے کو بونگی، کمینے کو کمینگی، حاسد کو حسد، بے حیا کو بے حیائی، بے وفا کو بے وفائی، غیبت کرنے والے کو غیبت وغیرہ سے نہیں روک سکتا اور اس کی ایک مجبوری یہ بھی ہے کہ قانون، انصاف اور عدالت کروڑوں انسانوں کے قاتل کو بھی صرف ایک بار ہی سزائے موت دے سکتی ہے۔

اور اب آخر پہ اک ہلکی پھلکی سی بات کہ ’’LAWS‘‘ میں اہم ترین اور خطرناک ترین ’’INLAWS‘‘ ہوتے ہیں جن سے صرف الماس بوبی ہی بچ سکتا یا بچ سکتی ہے۔