انسان اور لیڈر – Hassan Nisar

28

قارئین !

’’میں بولوں گا تو بولیں گے کہ بولتا ہے‘‘ اس لئے بال آپ کے کورٹ میں اور یہ فیصلہ بھی آپ کی عدالت میں کہ سیاست کی نجاست عروج پر ہے کہ نجاست کی سیاست اپنی انتہا پر ہے؟ بڑا حوصلہ ہے ان سب کا جو انہیں ’’رہنما‘‘ لکھتے ہیں کہ ایسے ’’رہنما‘‘ ہوں تو منزلیں کیا، راستے ہی گم ہو جاتے ہیں اور اسی لئے کئی عشروں سے ہمیں معلوم ہی نہیں کہ ’’قوم‘‘ نامی ہجوم جا رہا ہے یا آ رہا ہے اور اگر جا رہا ہے تو کہاں جا رہا ہے ؟ آ رہا ہے تو کہاں سے آ رہا ہے۔ کوئی گیسو دراز ہے، کوئی زبان دراز ہے اور شہد پی کر زہر اگلتا ہے۔روزنامہ ’’جنگ‘‘کی سرخی دراصل ہماری سیاست کی اعلیٰ ترین ’’سمری ‘‘ ہے۔

’’بدزبانی، کشمیر سے پارلیمینٹ تک‘‘

سوچتا ہوں کہیں بدزبانی ہی ہماری قومی زبان تو نہیں؟ بیچاری اردو کو کیوں بدنام کرتے ہیں تو دوسری طرف دھیان اس محاورے کی طرف بھی جا نکلتا ہے کہ ’’انسان اپنی زبان کے نیچے چھپا ہوتا ہے‘‘۔ سمجھ نہیں آتی کہ سیاست میں آتے ہی اس قسم کے لوگ ہیں یا سیاست میں آنے کے بعد ایسے ہو جاتے ہیں ۔سیاست دان شاید اکلوتی مخلوق ہے جس کیلئے کسی تعلیم، تربیت، کوالیفکیشن کی ضرورت نہیں۔ جہالت کی انتہا یہ کہ ’’ادھر تم ادھر ہم ‘‘ کا نعرہ بھٹو کے کھاتے میں ڈال دیا جبکہ ہر پڑھا لکھا جانتا ہے کہ یہ اس زمانہ کے روزنامہ ’’آزاد‘‘ کی سرخی تھی جو سید عباس اطہر مرحوم المعروف شاہ جی نے لگائی جو سرخیوں کے بادشاہ تھے اور اس سے بھی کہیں زیادہ اہم بات یہ کہ عقل کے اندھے اتنا بھی نہیں جانتے کہ ملک سولہ سالہ دوشیزہ کا دل نہیں ہوتا جو ایک نعرے سے ٹوٹ جائے ۔ملکوں کی شکست وریخت، ٹوٹ پھوٹ کے پیچھے بےشمار گھمبیر وجوہات اور اسباب ہوتے ہیں۔

ٹٹ پونجیئے،فٹ پاتھیے لڈیاں دھمالیں ڈالتے، خوشامدیں کرتے، جلسہ جلوس نکالتے فلوک بلکہ جمہوری فلوک لگتے ہی ’’نالیوں‘‘ سے نکل کر اولمپک سائز کے ’’سوئمنگ پول ‘‘ میں گھس جاتے ہیں اور پھر یہی کچھ ہوتا ہے جو پہلے بھی ہوتا رہا، اب بھی ہو رہا ہے اور جانے کب تک ہوتا رہے گا۔

’’اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے‘‘

رول ماڈل تو کیا ہونا یہ تو کریم رول بھی نہیں۔پان کی دکان کا بھی کوئی بھرم، ادب آداب ہوتے ہیں لیکن یہ جسے خود مقدس ایوان کہتے ہیں ، اس کی دھجیاں اڑانے سے بھی باز نہیں آتے جبکہ انتخابی مہم تو ہوتی ہی بازاری قسم کی ہے ۔

لیڈر کیا ہوتا ہے؟نجانے کس سیانے کا قول ہے۔

”A LEADER HAS TWO IMPORTANT CHARACTERISTICS. FIRST, HE KNOWS WHERE HE IS GOING, SECOND, HE IS ABLE TO PERSUADE OTHER PEOPLE TO GO WITH HIM,,

PAUL PARKERکا کتنا بلیغ تبصرہ ہے۔

”LEADERS THINK. THEY THINK BECAUSE THEY ARE LEADERS. THEY ARE LEADERS BECAUSE THEY THINK”

لیکن ہمیں جو ’’تحفے‘‘ملتے ہیں، نہ بولنے سے پہلے سوچتے ہیں، نہ بولنے کے دوران سوچتے ہیں نہ بولنے کے بعد ہی سوچتے ہیں کیونکہ ’’سوچنے‘‘ کیلئے صرف کھوپڑی اور اس پر لمبی زلفیں ہی کافی نہیں ہوتیں، کھوپڑی کے اندر مغز یعنی ’’برین‘‘ بھی ضروری ہوتا ہے جبکہ انہیں صرف برین مسالحہ پسند ہوتا ہے تو شاید بات بھی صحیح ہے کیونکہ جیسے منہ ویسی چپیڑیں۔

ہم بھیڑوں کو ہانکتے ہیں، مویشیوں کو چراتے ہیں اور انسانوں کو لیڈ کرتے ہیں یعنی لیڈر رکھنے کی عیاشی صرف انسانوں کو نصیب ہوتی ہے۔

بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا

آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

اور آدمی سے انسان بننے کیلئے تعلیم اور تربیت کی ضرورت ہوتی ہے جو ممکن نہ ہو تو پھر لیڈر کو ہی ٹیچر کا منصب بھی سنبھالنا پڑتا ہے ۔اس وقت آزاد کشمیر میں انتخابی مہم جاری ہے اور دھڑا دھڑ عوام کی ٹیچنگ ہو رہی ہے۔