امن یا خانہ جنگی – Raoof Hassan

15

اہم خبریںادارتی صفحہاسپورٹسیورپ سےدنیا بھر سےملک بھر سےشہر قائد/ شہر کی آوازدل لگیبزنستعلیم صحت خواتینسندھ بھر سےمراسلات

امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کا اعلان کیا ہے جو رواں برس 11 ستمبر تک مکمل کر لیا جائے گا۔ یہ تاریخ اس دن کی یاد دلاتی ہے جب کئی طیارے امریکہ میں مختلف عمارات سے ٹکرائے تھے۔ اس انخلاکے ساتھ ایک ایسے ملک کا مستقبل بھی جڑا ہے جو 4دہائیوں سے جنگ کے شعلوں میں جھلس رہا ہے۔ اگرچہ فوجوں کا انخلا یکم مئی 2021سے شروع ہو جائے گا لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس فیصلے سے کئی دہائیوں سے جاری آگ کا کھیل ختم ہو جائے گا یا اس سے خطے میں اپنی بالادستی قائم کرنے میں کوشاں گروہوں کے درمیان ایک نیا تنازع ہو جائے گا؟امریکی افواج کے انخلا کے فیصلے سے جہاں بہت سے لوگ خوش نظر آ رہے ہیں وہاں کئی لوگ خفا بھی ہیں۔ افغانستان کے حالات پر گہری نظر رکھنے والوں کا خیال ہے کہ اس فیصلے سے 20 سال کی لاحاصل مداخلت طالبان کے ساتھ معاہدے کی شکل میں ختم ہوئی جبکہ موخرالذکر لوگوں کو اب بھی امید ہے کہ خانہ جنگی کے امکان کے خوف سے انخلا میں تاخیر ہو سکتی ہے۔اگرچہ یہ بات یقین کے ساتھ نہیں کہی جا سکتی کہ امریکی افواج کے انخلا کے بعد خطے میں مستقل امن قائم ہو جائے گا لیکن یہ سوال ابھرتا ہے کہ کیا امریکہ خطے میں امن قائم کرنے کا واقعی کوئی ارادہ رکھتا ہے جس نے اسے اپنی افواج نکالنے پر مجبور کیا؟ اگر واقعتاً ایسا نہیں تو کیا امریکہ آگ کے اس کھیل کو جاری رکھنے کی ذمہ داری کسی دوسرے ملک کو دے رہا ہے؟

امریکی افواج کے انخلا کے فیصلے کو طالبان اپنی فتح کے جشن کے طورپر منائیں گے بالکل ویسے ہی جس طرح وہ سوویت یونین کی شکست کا جشن مناتے ہیں لیکن یہ انخلا کابل حکومت کے لئے ملک پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے لئے ایک جدوجہد کے آغاز کی علامت ہے جس کا بیشتر حصہ پہلے ہی طالبان کے کنٹرول میں جا چکا ہے۔ افغان صدر اشرف غنی کی پاکستان کے ساتھ دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔انہوں نے افغانستان کے بارے میں کسی بھی منفی اقدام کا الزام ہمیشہ پاکستان پر لگایا ۔ ’’سی این این‘‘ کے اینکر فرید زکریا کے ساتھ اپنے حالیہ انٹرویو میں امریکی افواج کے انخلا کے بعد کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے افغان صدر اشرف غنی نے کہاکہ ’’اب ہمارے پاس دوست دشمن کی پہچان کا وقت آ گیا ہے اور یہی لمحہ ہمارے لئے انتہائی اہمیت کا حامل بھی ہے۔ یہ وقت پاکستان او رطالبان کے لئے بھی لمحہ فکریہ ہے کہ کیا وہ خطے کے ساتھ جڑے بین الاقوامی شراکت داروں کے درمیان پرامن ہارٹ آف ایشیا کے لئے اپنا کردار ادا کریں گے یا افراتفری پھیلانے کی کوشش کریں گے؟ سیاسی تصفیے ضروری ہیں لیکن گیند واضح طور پر طالبان اور ان کے حامی (پاکستان) کی عدالت میں ہے‘‘۔ انہوں نے مذاکرات کے آگے بڑھنے کے عمل کو ’’جمہوری جانشینی‘‘ کی پیشگی شرط کے ساتھ جوڑا جس کے بعد ’’افغانستان میں ایک ایسی پرامن حکومت تشکیل دی جائے گی جس میں طالبان بھی شامل ہو سکیں گے‘‘۔

اشرف غنی کےعلاوہ کئی دیگر ممالک کے مفادات بھی افغانستان کی بقا کے ساتھ جڑے ہیں ۔ خطے کے اہم کھلاڑی پاکستان، چین ، روس اور ایران کے ساتھ قطر نے بھی امن کے حصول کے لئے انتہائی اہم کوشش کی ہے۔ کوئی فریق بھی نہیں چاہے گا کہ امن کے حصول کے لئے یہ موقع ہاتھ سے نکلے کیونکہ یہ کسی کے لئے بھی خوشگوار ثابت نہیں ہوگا۔ قطرہی وہ ملک ہے جس نے اپنے ملک میں طالبان کو سیاسی دفتر قائم کرنے کی اجازت دی تھی۔ یقیناً طالبان یہ احسان کبھی نہیں بھلا پائیں گے لہٰذا وہ مذاکرات کا مقام دوحہ سے استنبول منتقل ہونے پر ناخوش ہو سکتے ہیں جو ان مذاکرات میں عدم شرکت کی ایک بڑی وجہ بھی ہو سکتی ہے کیونکہ قطر امن معاہدے پر اپنی مہر ثبت کرنے کا موقع چھوڑنے کو تیار نہیں ہوگا۔افغانستان میں مستقل قیام امن کے لئے منعقد مذاکرات میں بھارت کو شامل نہیں کیا گیا جواس عرصہ میں بھارت اپنے روایتی شراکت داروں کے ساتھ مل کر پاکستان کے حوالے سے ناامیدی پھیلانے میں مسلسل مصروف عمل رہا ہے۔

دوسری طرف پاکستان اپنی مغربی سرحد پر ہمیشہ امن قائم کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے جو حال میں اعلان کردہ اہداف کے حصول سے بھی مطابقت رکھتا ہے جس کے مطابق پاکستان کو جیو اسٹرٹیجک سے جیو اکنامک کی منزل کی طرف لے جانا ہے جو ترقیاتی شراکت داری اور مکمل ذمہ داری کے اصولوں سے جڑی ہے اس کا حصول علاقائی امن ، معاشی رسائی ، اسٹرٹیجک مواصلات اور سفارتی روابط میں وسعت پر منحصر ہے۔ان مقاصد کے حصول کے لئے افغانستان اور پورے خطے میں امن کا قیام لازم ہے۔ اس مقصد کو عملی جامہ پہنانے کے لئے پاکستان نے ہمیشہ کوشش جاری رکھی چاہے، پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کے نتیجے میں ہی افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کا معاہدہ ممکن ہوا ۔ لہٰذا کسی ایسی آواز کا اٹھنا کہ پاکستان افغانستان میں مستقل قیام امن کا خواہاں نہیں ہے ، ایک انتہائی ناقص مفروضہ ہی ہو سکتا ہے۔

امریکی فوجوں کے انخلاکے بعد کیا بھارت اپنا منفی کردار جاری رکھے گا تاکہ یہ خطہ ہمیشہ آگ کے شعلوں میں جلتا رہے؟بھارت نے ماضی میں جو کردار ادا کیا ہے جس میں حالیہ دور میں مزید شدت آئی ہے، اس کی روشنی میں یہ حقیقت قیاس آرائیوں سے بالاتر نہیں جس کے اولین مقاصد خطے میں چین کے اہداف کے حصول کی راہ میں روڑے اٹکانا اور اور اس کی مغرب تک رسائی کو محدود کرنے کے امریکی مطالبے کو پورا کرنا اور پاکستان کو مسلسل غیرمستحکم رکھنا ہے تاکہ چین پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک) کو اپنی مذموم کاوشوں کا ہدف بنایا جائے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ کھلاڑی کس طرح اپنا کھیل کھیلتے ہیں ،کیا خطے میں مستقل قیام امن کے حامی علاقے میں امن کا جشن منا پائیں گے یا اسے تہہ وبالا کرنے والے عناصر اپنے ایجنٹوں کے ذریعے اس عمل کو دوبارہ خراب کرنے میں کامیاب ہوں گے؟

افغانستان کئی دہائیوں سے ناقابل بیان انسانی المیے کی کہانی بنا ہوا ہے۔ہو سکتا ہے کہ آخرکار افغانستان میں امن قائم کرنے کی ذمہ داری پاکستان ،چین ،روس ، ایران اور خطے کے دیگر ممالک پر ہی آن پڑے کہ وہ آگے بڑھ کر امن خراب کرنے والوں کا راستہ روکنے کے لئے مشترکہ کوشش شروع کریں جس کے نتیجے میں افغانستان میں کھیلا جانے والا یہ خونی عمل اپنے انجام کو پہنچ سکے۔