الف اور ابلیس – Yasir Pirzada

15

الف کالج میں تھا جب ابلیس سے اُس کی پہلی مرتبہ ملاقات ہوئی۔ وہ اسے ایک دوست کے روپ میں ملا تھا۔ پہلا سگریٹ، پہلی انگریزی فلم اور پہلی مرتبہ پھجے کے پائے کھانے وہ ابلیس کے ساتھ ہی اُس بازار میں گیا تھا جہاں اب صرف شرفا رہتے ہیں۔ شروع شروع میں الف کو ابلیس کی ہمراہی میں بہت لطف آتا تھا لیکن الف کی اُس سے دوستی زیادہ دیر نہیں چلی اور کچھ ہی عرصے میں اُن کی اَن بن ہو گئی۔ کئی سال بعد ابلیس نے ایک مشترکہ دوست کے ذریعے پھر الف سے رابطہ کیا اور ملاقات کی خواہش ظاہر کی جو الف نے اِس شرط پر مان لی کہ ابلیس الف کو کبھی کسی غلط کام کے لئے مجبور نہیں کرے گا۔

الف اور ابلیس کی ملاقاتوں کا سلسلہ چل نکلا، وہ ہفتے میں ایک آدھ مرتبہ ضرور ملتے اور مختلف موضوعات پر گفتگو کرتے، زیادہ تر یہ گفتگو ادب، سیاست اور سوسائٹی کے مسائل سے متعلق ہوتی۔ ان مباحث میں ابلیس مذہب کے حوالے سے گریز کرتا مگر کہیں نہ کہیں بات کرتے ہوئے اسے مذہبی، اخلاقی یا فلسفیانہ دلیل دینی پڑتی تو وہ پہلے الف سے باقاعدہ اجازت لیتا اور پھر بات کرتا۔ الف کو ابلیس کی یہ عادت بہت پسند تھی، اسے لگتا تھا کہ ابلیس اب خالصتاً علمی بنیاد پر گفتگو کرتا ہے اور اُس کا مقصد اسے گمراہ کرنا نہیں۔ الف کو ان مباحث میں بہت لطف آنے لگا، شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ ابلیس کبھی کبھار الف کے موقف کو تسلیم بھی کر لیتا اور اپنی بات پر زیادہ اصرار نہیں کرتا تھا۔ ایک روز وہ دونوں ایسی ہی ایک بحث میں الجھے ہوئے تھے، الف بڑے زور و شور سے ابلیس کو اخلاقی اقدار پر لیکچر دے رہا تھا۔ الف کا کہنا تھا کہ انسان کو اعلیٰ اخلاقی قدروں کا حامل ہونا چاہئے، جہاں تک ممکن ہو پارسائی سے کام لینا چاہئے، تقویٰ اور قناعت کو اپنا شعار بنانا چاہئے، سچائی کا علم بلند رکھنا چاہئے، ظلم کے خلاف آواز اٹھانی چاہئے، مظلوم کا ساتھ دینا چاہئے، روپیہ پیسہ کمانا بری بات نہیں مگر زندگی محض دولت کمانے میں ضائع نہیں کرنی چاہئے، انسان کی زندگی کا مقصد دولت کے حصول سے کہیں ارفع ہے، بڑا انسان وہ نہیں جو زیادہ دولت مند یا طاقتور ہے، بڑا انسان وہ ہے جو فسطائیت کے خلاف جدو جہد کرتا ہے اور جابر حکمران کے سامنے کلمہ حق بلند کرتا ہے، اسی طرح بڑا لکھاری وہ نہیں جس کی تحریریں مقبول ہوتی ہیں، بڑا ادیب اور دانشور وہ ہے جو پسی ہوئی اقوام کے حقِ خود ارادیت کے لئے اپنے قلم کو استعمال کرتا ہے، زور آور کو بےنقاب کرتا ہے اور اپنی جان، مال اور عزت کی پروا کیے بغیر صرف اپنے ضمیر کے مطابق رائے قائم کرتا ہے، تاریخ میں ایسے لوگوں کا نام ہی روشن رہتا ہے۔ اپنی اِس مختصر سی تقریر کے بعد الف کو امید تھی کہ ابلیس اُس سے اتفاق کرے گا کیونکہ یہ باتیں ایک طرح سے آفاقی سچائی کے طور پر درست مانی جاتی ہیں تاہم نہ جانے کیوں الف اُس وقت بالکل بھول گیا کہ ابلیس بہرحال شیطان ہے اور شیطان اگر ایسی باتوں سے اتفاق کر لے گا تو کھائے گا کہاں سے!

ابلیس نے اپنی بات شروع کی ’’ذرا اپنے ارد گرد نظر دوڑاؤ اور دیکھو کتنے لوگ ہیں جو تمہارے بیان کردہ نظریات کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں اور کس حال میں ہیں؟ تم مجھ سے زیادہ ایسے لوگوں کو جانتے ہو جو پارسا اور صالح ہیں، جنہیں میں کبھی گمراہ نہیں کر سکا مگر وہ بیچارے اکثر ذلیل و خوار ہی رہتے ہیں۔ کیا ضرورت ہے جابر حکمران کے سامنے کلمہ حق بلند کرنے کی، جابر حکمران ہی کیوں نہ بنا جائے ؟ کیا فائدہ ہے ظالم کے سامنے سینہ سپر ہونے کا، ظالم تو گولی سے اڑا دے گا اور کل کو وہ مظلوم بھی بھول جائے گا جس کے لئے اُس نے گولی کھائی ہو گی، اور بالفرض اگر مظلوم اسے یاد رکھ بھی لے تو کیا محض اُس یاد سے مرنے والے کے بیوی بچے گزارا کر پائیں گے؟ ذرا دیکھو اُن لوگو ں کو جو فسطائیت کا مقابلہ کرنے کی بجائے فسطائیت کے دست و بازو بن جاتے ہیں، کس قدر فائدے میں رہتے ہیں !قناعت پسندی اور سادگی رومانوی تصورات ہیں، ان کے سہارے جینا اپنے بچو ں کے ساتھ ظلم کرنے کے مترادف ہے۔ تم نے کچھ نام نہاد اعلی ٰ اخلاقی اقدار طے کر کے یہ فرض کر لیا ہے کہ ان اقدار کے تابع زندگی گزارنے والا شخص تاریخ میں امر ہو جاتا ہے۔ تاریخ میں امر ہو کر آخر تم نے کرنا کیا ہے؟ اپنے نظریات کی خاطر جان دینا حماقت ہے، نظریات غلط بھی ہو سکتے ہیں اور جان واپس نہیں آ سکتی۔ کیا تم نے تاریخ میں پڑھا نہیں کہ جو لوگ جبروت کے سامنے کھڑے ہونے کی کوشش کرتے ہیں وہ کیسے روند دیے جاتے ہیں؟ ان کی عزتیں نیلا م ہوتی ہیں، ان کے بچے در بدر ہوتے ہیں، ان کی زندگی عذاب بن جاتی ہے۔ہاں، اب تم کچھ ایسے لوگو ں کی مثال دو گے جنہوں نے تمہاری تعبیر کے مطابق حقانیت کا ساتھ دیا اور دنیا نے انہیں سر آنکھوں پر بٹھایا، ان کی تکریم کی، مگر اے احمق انسان، ایسے لوگوں کی تعداد اُ ن کے مقابلے میں کہیں کم ہے جنہوں نے ظلم کے ہاتھ مضبوط کیے اور اطمینان سے اپنا اور اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ بنا لیا۔اب آخری پتہ تمہارے ہاتھ میں یوم حساب کا ہے کہ اُس روز ظالم سے حساب لیا جائے گااور مفاد پرست دانشوروں کے مقابلے میں کلمہ حق بلند کرنے والے لکھاریوں کی توقیر ہوگی، مگر اے بنی آدم، قیامت میں کوئی سر پھرا بے لاگم پوچھ بیٹھا کہ اے خالق و مالک تو نے دنیا میں ظالموں کے لئے اتنی آسائشیں کیوں رکھیں، جیسے وہ تمہارے شاعر نے کہا تھا نا کہ ’’یا اپنا گریباں چاک یا دامن یزداں چاک‘‘۔ تو اے نادان شخص، کچھ ہوش کر اور اپنی زندگی ان خوابوں اور نظریات کے پیچھے برباد نہ کرجن کا کوئی مطلب ہے نہ فائدہ‘‘۔ ابلیس نے اپنی بات ختم کی اور یکدم غائب ہو گیا۔ اُس کے بعد الف نے اسے کبھی نہیں دیکھا۔ الف اکثر سوچتا ہے کہ ابلیس اُس سے دوبارہ ملنے کیوں نہیں آیا ؟ کہیں اِس کی وجہ یہ تو نہیں کہ اپنی دانست میں اسے گمراہ کرنے کے بعد ابلیس اب جشن منا رہا ہے!